علاج کے لیئے ہسپتال داخل ہوں


صحت انصاف کارڈ کا بہت چرچا ہے سوچتی ہوں جن کو کارڈ ملا مانو ان کی تو صحت ہی سنور گئی۔ اس کارڈ کی اتنی تشہیر ہوتی ہے کہ دل چاہتا ہے یہ کارڈ مجھے جلد از جلد مل جائے۔ اور پھر میں کارڈ کے کوائف کے مطابق کسی ترجیحی یا ثانوی علاج میں شامل کسی بیماری میں مبتلا ہو جاؤں تاکہ صحت کارڈ انصاف کے ساتھ استعمال کر سکوں کہ کسی بھی چیز کا حق تو تبھی ادا ہوتا ہے جب اس کے ساتھ انصاف کیا جائے۔ لیکن سوچتی ہوں اگر مجھے کوئی ایسی بیماری نہ لگی جس میں مجھے ہسپتال داخل نہ ہونا پڑا تو سمجھو کارڈ بنانے والوں کی ساری محنت اکارت چلی جائے گی۔

صحت کارڈ کی ویب سائٹ پر کارڈ سے متعلق تمام تفصیل درج ہے۔ لیکن ہر کوئی ویب سائٹ وزٹ نہیں کرتا اس لیے پمفلٹ بھی شائع کیے گئے ہیں۔ اس سے پہلے کہ میں صحت کارڈ کے فوائد بتاؤں اس کارڈ کی بنیادی بات ذہن نشین کر لیں، کہ یہ کارڈ صرف خاندان کے سربراہ کے نام ہے، خاندان کے دیگر افراد سربراہ کی اجازت سے ہی کارڈ استعمال کر سکیں گے۔ میرے کم فہمی کا عالم دیکھیے جو سمجھتی تھی کہ علاج صرف علاج ہوتا ہے۔ صحت کارڈ کی وجہ سے پہلی بار پتہ چلا کہ ثانوی اور ترجیحی علاج بھی ہوتا ہے۔

اور زچگی ثانوی علاج والی بیماریوں میں شامل ہے۔ خاندان کے سربراہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ گھر کی بیبیوں کو سمجھا دے کہ ایک وقت میں ایک سے زائد بی بی حاملہ ہونے کی کوشش ہرگز نہ کرے کہ زچگی (نارمل ڈلیوری یا سیزیرین ) کی مد میں آنے والے اخراجات کی رقم سالانہ صرف ساٹھ ہزار ہے۔ جبکہ کسی بھی نجی ہسپتال میں اس پر ساٹھ ہزار سے زیادہ کا خرچہ آ جاتا ہے۔ لہذا خاندان کی دیگر بیبیاں اگر صحت کارڈ کی سہولت حاصل کرنا چاہتی ہیں تو پھر اپنی باری آنے تک مانع حمل ادویات استعمال کرتی رہیں۔ کسی حادثے کی صورت میں حادثے کا شکار ہونے والا صحت کارڈ کی شرائط کے مطابق زخمی ہو، یعنی اتنا زخمی ضرور ہو کہ علاج کے لیے اسے ہسپتال میں داخل ہونا پڑے، کہ بنا داخل ہوئے علاج ہرگز نہیں ہو گا۔

وہ بیماریاں جنھیں ترجیحی علاج میں شامل کیا گیا ہے اس میں دل اور جگر کے علاوہ چھ بیماریاں مزید ہیں، اور ان میں سے کسی مرض میں مبتلا ہونے پر سالانہ تین لاکھ کی خطیر رقم سے علاج ہو گا۔ لیکن بیچ میں مسئلہ پھر وہی پڑتا ہے کہ علاج کی غرض سے اتنا بیمار ہونا ضروری ہے کہ ہسپتال میں داخل ہوا جا سکے۔ اسی طرح اگر گردوں یا کینسر کی بیماری پہلے، دوسرے سٹیج پر ہے تو پھر معذرت، محکمہ مرض اور مریض کا ذمہ دار نہیں۔

مریض جہاں اور جس ڈاکٹر سے چاہے علاج کروائے اور اپنی ادویات جیسے تیسے خود خریدے۔ ہاں اگر صحت کارڈ سے علاج کروانا ہے تو پھر گردوں یا ایسے کسی بھی پیچیدہ مرض کا آخری سٹیج پر ہونا ضروری ہے کیونکہ صحت کارڈ کے پمفلٹ اور ویب سائٹ پر واضح لکھا ہے، کہ دل گردے، پھیپھڑے ناکارہ ہونے کی صورت میں مریض کو فوری ہسپتال داخل کیا جائے۔ ہو سکتا ہے آخری سٹیج کی شرط اس لیے ہو تاکہ صحت کارڈ سے مریض کے کفن دفن کا اہتمام بھی کیا جا سکے، کہ دس ہزار آخری رسومات کے لیے بھی تو مختص ہیں۔

لیکن یاد رہے یہ آفر صرف ہسپتال میں مرنے والوں کے لیے ہے۔ کینسر یا جگر ایسے پیچیدہ امراض میں مبتلا مریضوں کو انتباہ کیا جاتا ہے کہ صحت کارڈ کی ترجیحی علاج کے لیے مختص رقم تین لاکھ جونہی پوری ہو (ویسے تو یہ چند دنوں میں ہی ختم ہو جائے گی ) مریض کو شفایاب ہوجانا چاہیے کہ اس سے زیادہ رقم مریض پر خرچ نہیں ہوگی۔ دوسرے لفظوں میں سالانہ تین لاکھ کے حساب سے جتنا ٹھیک ہوسکتے ہیں ہوجائیں، باقی اگلے برس پھر سہی۔ کمزور دل حضرات یہ بھی یاد رکھیں سرکاری کارڈ سے فائدہ اٹھانا ہے تو چیزوں کو اتنا خراب نہ ہونے دیں کہ ان کی پیوند کاری کی نوبت آ سکے، کہ پیوند کاری کی صورت میں بھی محکمہ ذمہ دار نہیں ہو گا۔

مریضوں کے لیے یہ خوشخبری بھی بڑی اہمیت رکھتی ہے کہ ہسپتال سے اخراج کے بعد ایک بار ان کا معائنہ مفت ہو گا۔ لہذا مریض پوری کوشش کر کے کہ ایک ہی وقت میں سارا بیمار پڑ جائے۔

سب سے اہم بات یہ بھی یاد رکھیں کہ جو خواتین شوہروں سے جھگڑے کے دوران خود کو جان بوجھ کر زخمی کر لیتی ہیں ان کو علاج اپنے ذاتی پیسوں سے کروانا ہو گا۔ لہذا خواتین شوہروں سے جھگڑے کے دوران خود اور مخالف کو زخمی کرنے سے گریز کریں کہ مرہم پٹی کروانے لے لیے پھر پڑوسن سے ادھار لینا پڑے گا۔

ایک اور اہم نقطہ جو مجھے شدید پسند آیا وہ یہ تھا کہ خود کشی کرنے والوں کو بچانے کی ہرگز کوشش نہیں کی جائے گی۔ بلکہ مرے پر سو درے والا حساب ہو گا۔ یعنی ان کو مرنے کے لیے چھوڑ دیا جائے گا۔ کہ ایسوں کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہیے۔ سو محبت میں ناکامی کی صورت خودکشی کرنے والے سوچ سمجھ کر یہ قدم اٹھائیں کہ اگر تو ان کا ارادہ اس قدم سے صرف محبوب کی توجہ مطلوب ہے تو پھر ناکامی ان کا منہ دیکھے گی اور یہ سچ مچ جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔ کہ ایسے لوگوں کو بچانے کی سہولت کارڈ کی شرائط میں نہیں ہے۔

زیادہ تر لوگ مردانہ کمزوری اور بانجھ پن کے علاج کے لیے بالترتیب حکیموں اور پیروں فقیروں سے رجوع کرتے ہیں، اور یقین کامل ہے وہ اسی طریقت پر قائم رہیں گے۔ حاملہ ہونے کے طریقے انٹرنیٹ پر تھوک کے حساب سے دستیاب ہیں۔ اس لیے ان بیماریوں کو صحت پروگرام میں شامل نہ کر کے عقلمندی کا بہترین ثبوت دیا گیا ہے

ضروری انتباہ : آسان الفاظ میں خبردار کیا جاتا ہے کہ بیماری کوئی بھی ہو صحت کارڈ تبھی کار آمد ہے جب آپ شدید بیمار ہو کر ہسپتال میں داخل ہو سکیں بنا داخل ہوئے آپ کو ڈاکٹر فری چیک کرے گا نہ مفت ادویات ملیں گی۔

Facebook Comments HS