بی این پی اور لشکری کا لاؤ لشکر
گزشتہ دنوں دو بار ملتوی ہونے والا بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کا مرکزی کونسل سیشن منعقد ہوا جس میں 25 دسمبر 2017 کو بی این پی میں شامل ہونے والے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کے لاؤ لشکر نے شرکت نہیں کی، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) دراصل بلوچ قوم پرست پارٹی ہے، جس کا قیام 1996 میں عمل میں آیا، جو صوبوں اور خصوصی طور پہ بلوچستان کی خود مختاری کی زبردست حامی ہے۔ اس جماعت کے اہم رہنماؤں میں سردار اختر مینگل، ڈاکٹر جہانزیب جمالدینی، ولی کاکڑ، ثناء اللہ بلوچ اور ایڈوکیٹ ساجد ترین کے علاوہ دیگر شامل ہیں، بی این پی کی سیاست کے اہم نکات میں، بلوچستان کی خود مختاری، لاپتہ افراد کی بازیابی اور بلوچ افراد کو قتل کرنے کی روایت کا خاتمہ اور بلوچستان کے اختیارات صوبائی سیاسی پارٹیوں کو سپرد کرنا شامل ہیں، بلوچستان کے سابق وزیراعلیٰ اور معروف سیاستدان مرحوم سردار عطا اللہ مینگل کی جانب سے پارٹی بنائے جانے کے محض ایک سال بعد بی این پی مینگل 1997 کے عام انتخابات میں 9 صوبائی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئی، سردار اختر مینگل، جمہوری وطن پارٹی (جے ڈبلیو پی) کے سربراہ شہید نواب اکبر خان بگٹی کی حمایت سے وزیراعلیٰ بننے میں کامیاب ہوئے، لیکن تھوڑے ہی عرصے میں پارٹی میں اختلافات پیدا ہو گئے اور اختر مینگل کو بلوچستان میں جوہری ہتھیاروں کے تجربات کرنے سے متعلق پارٹی سے مشاورت نہ کرنے کے الزامات کے باعث استعفی دینا پڑا، جس کے بعد سردار ثناء اللہ زہری کی سربراہی میں بی این پی عوامی تشکیل دی گئی۔
بی این پی مینگل نے 2002 اور 2008 کے عام انتخابات فوجی ڈکٹیٹر پرویز مشرف کی سربراہی میں کرانے کی وجہ سے ان میں حصہ نہیں لیا، لیکن اس کے باوجود پارٹی کے تین امیدوار قومی و صوبائی نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے اور پارٹی کا ایک سینیٹر بھی منتخب ہوا، جنھوں نے 2006 میں اپنی نشستوں سے اس وقت استعفیٰ دے دیا جب بلوچ قوم پرست رہنما نواب اکبر بگٹی کو قتل کر دیا گیا۔ عام انتخابات 2013 سے قبل اگرچہ سردار اختر مینگل طویل جلا وطنی ختم کر کے وطن لوٹے تھے، لیکن اس کے باوجود ان کی پارٹی قومی و صوبائی اسمبلی کی صرف دو نشستیں ہی جیت سکی تھی، سردار اختر مینگل خود اپنی صوبائی نشست جیتنے میں کامیاب ہوئے اور ایک نشست انھوں نے قومی اسمبلی کی حاصل کی تھی، ابتداء میں اگرچہ سردار اختر مینگل نے 2013 کے نتائج میں دھاندلی کے الزامات عائد کر کے نتائج قبول کرنے سے انکار کیا تھا، تاہم بعد ازاں انھوں نے نتائج کو قبول کر کے حزب اختلاف کی نشستوں پہ بیٹھنے کا فیصلہ کیا۔
2018 کے عام انتخابات میں بی این پی نے کم و بیش وہی کامیابی حاصل کی جو اس نے 1997 کے عام انتخابات میں حاصل کی تھی لیکن اس بار مرحوم سردار عطا اللہ مینگل، مرحوم حاصل خان بزنجو، سردار ثناء اللہ زہری، احسان شاہ، اسد بلوچ، شہید حبیب جالب بلوچ، سابق سینیٹر مہیم بلوچ، میر اسر اللہ خان زہری و دیگر بی این پی کا حصہ نہیں تھے لیکن ایک لاؤ لشکر ضرور تھا جو 25 دسمبر 2017 کو نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کی قیادت میں شامل ہوا تھا جس میں سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد، سابق صوبائی وزیر محمد اسماعیل گجر کے علاوہ کوئٹہ و بلوچستان بھر سے نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کے ورکر دوست و احباب ہزاروں کی تعداد میں شامل تھے بی این پی کی 2018 کے گزشتہ عام انتخابات کی پارلیمانی کامیابی میں نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کے لاؤ لشکر کا بڑا عمل دخل تھا۔
نوابزادہ حاجی لشکری کا کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں ایک خاص اثر ہے وہ ساراوان ہاؤس کے اہم فرد ہیں سابق سینیٹر اور سابق صوبائی وزیر کے علاوہ ایک منجھے ہوئے سینئر سیاستدان ہیں، بی این پی نے اپنی تاریخ میں کوئٹہ سے کبھی صوبائی اسمبلی کی تین اور قومی اسمبلی کی دو نشستیں نہیں جیتی تھیں (نوابزادہ حاجی لشکری کو ای اے 265 سے کامیاب تصور کیا جائے ) اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں کہ لشکری کے لاؤ لشکر نے بی این پی میں ایک تازہ روح پھونک دی تھی راقم کا یہ تجزیہ غلط ثابت ہو سکتا ہے لیکن آنے والے عام انتخابات میں دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا، لشکری کا لاؤ لشکر بی این پی کی قیادت سے کیوں ناراض ہے یا حالیہ مرکزی کونسل سیشن میں شرکت کیوں نہیں کی؟
اس کی چند وجوہات بی این پی کی مرکزی کمیٹی کے رکن اور سابق وفاقی وزیر میر ہمایوں عزیز کرد نے تین روزہ مرکزی کونسل سیشن کے پہلے روز کے اجلاس سے بائیکاٹ کرتے ہوئے بیان کردی تھی، ان کا کہنا تھا کہ قیادت نے میرے خدشات و تحفظات کا جواب دینے سے پہلو تہی کر کے ثابت کیا کہ ان کے پاس اپنے کیے کا جواب نہیں جام کمال کو ہٹا کر قدوس بزنجو کو لانے والے پارٹی کے کونسل سیشن میں عہدوں کی تبدیلی کا شوق بھی پورا کر لیں، پارٹی نے صوبے میں حکومتی تبدیلی کے لئے ہونے والے 24 نکاتی معاہدے کا تذکرہ چھیڑ کر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی ان کا مزید کہنا تھا کہ میں اور میرے ساتھی سیاسی عمل میں ساتھ چلنے کے لئے بی این پی میں شامل ہوئے، ٹرک کی بتی کے پیچھے چلنے کے لئے نہیں۔
میر ہمایوں عزیز کرد نے مرکزی کونسل سیشن کے پہلے روز کے اجلاس کے بائیکاٹ پہ ایک طویل بیان جاری کیا جسے یہاں مکمل نقل کرنا ممکن نہیں، نوابزادہ حاجی لشکری رئیسانی کے لاؤ لشکر کی بی این پی سے دوری بی این پی کے ہرگز نیگ شگون نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے، بی این پی کو جہاں بلوچ قوم پرست جماعتوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، وہیں محب وطن پاکستانی سوچ رکھنے والے افراد کی جانب سے بھی ان پہ دہرا معیار رکھنے کی بنیاد پہ تنقید کی جاتی ہے، بی این پی پہ الزام ہے کہ وہ جہاں بلوچ قوم پرست سیاست کرتی ہے، وہیں وہ محب وطن پاکستانی ہونے کا دعویٰ بھی کرتی ہے۔


