بیوٹی اینڈ دا بیسٹ
مری اور اہالیان مری کے بارے میں اس وقت میرے ذہن میں بیوٹی اینڈ دا بیسٹ سے زیادہ مناسب کوئی لفظ نہیں آ رہا۔
گزشتہ سال انہی ایام میں تقریباً ایک عشرے کے بعد مری گیا تھا۔ ایک عشرہ قبل یہ صورتحال تھی کہ اسلام آباد میں رہائش ہونے کی وجہ سے ہر ہفتے یعنی ہر ویک اینڈ پر لازما جایا کرتے تھے۔ یا یوں کہہ لیں کہ ہر ویک اینڈ مری میں منانے جاتے تھے۔ مری کے نواحی علاقے باڑیاں اور گو میں بنے ہوئے ٹراؤٹ فش کے فارمز کے قریب ہی ہم شب بسری کرتے ٹراوٹ اور قہوہ سے انصاف کر کے اتوار کی دوپہر تک واپس اسلام آباد پہنچ جاتے۔ سنو فال کی کشش تو ہمیشہ دل و دماغ کا احاطہ کیے رکھتی۔
ایک دوسرے کے پہلو میں پیوست سرسبز پہاڑوں کے چوڑے سینوں پر تنے ہوئے قطار اندر قطار لمبے پائن کے درختوں کے اوپر منڈلاتے بادل آنکھوں کو خیرہ کرنے کے ساتھ ساتھ دل بھی موہ لیتے۔ قدرت کے ان کرشموں کو دیکھ کر زبان سے بے ساختہ سبحان اللہ وبحمدہٖ و سبحان اللہ العظیم کا ورد جاری ہوجاتا۔
اہالیان مری کی مہمان نوازی، مری کی رعنائی، خوبصورتی اور کشش اپنی مثال آپ تھی۔
مال روڈ کے تاجر اور ہوٹل مالکان کاروباری ضرور تھے مگر لالچی اور حریص نہیں۔
مگر بھلا ہو گردش ایام کا کہ جس نے تسلسل سے مری میں آمد و رفت سے نجات دلا دی۔ تاہم گزشتہ برس ہمہ یاراں جنت ہمہ یاراں دوزخ کا نعرہ مستانہ یاد کراتے ہوئے دیرینہ رفیق جام غلام محمد مہدی (مہدی بھائی) گھسیٹ کر دیگر رفقا سید جنید حسن شاہ و عثمان ملہی کے ہمراہ مری لے آئے۔ ایکسپریس وے ٹول پلازہ پھلانگتے ہی گاڑی کی سکرین کو بارش کی بوندوں نے چومنا شروع کر دیا۔
خیر تھوڑی دیر کے بعد بوندا باندی ختم ہو گئی۔ تھوڑا سفر کرنے کے بعد روڈ کے دونوں اطراف جا بجا مساجد، مدارس اور ان سے ملحقہ خانقاہوں کا لامتناہی سلسلہ شروع ہو گیا۔
مساجد کے بورڈز اور دیواروں پہ ان کی اقسام، خصوصیات ان کے سلاسل اور مسجد مالکان کے شجرہ ہائے نسب و کرامات جلی حروف میں تحریر ملے۔ مساجد، مدارس و خانقاہوں کی یہ وہ مارکیٹ تھی جو گزشتہ دس سالوں میں معرض وجود میں آئی تھی۔ ان مساجد مدارس اور خانقاہوں کی بہتات اور وال چاکنگ سے ذہن میں فوری طور پر یہ تاثر ابھرا کہ ایکسپریس وے کے اطراف اور مری قبل ازیں کفار کا گڑھ تھا جسے فرزندان توحید نے آ کر فتح کیا ہے اور اب ہر سو اسلام کا بول بالا کر دیا ہے۔
یا پھر یہ کہ ملک بھر میں مساجد کا شدید فقدان ہے اور روحانیت سے لبریز عوام کا ان مساجد میں عبادت کرنے اور خانقاہوں سے فیوض و برکات لوٹنے کے لیے یہاں کا رخ کرنے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ الغرض آبادی کم اور دینی مراکز کی تعداد زیادہ نظر آئی۔ یعنی ڈیمانڈ اینڈ سپلائی کے اصولوں کے برعکس ڈیمانڈ کم اور سپلائی زیادہ تھی۔
بہرحال اب سانحہ مری رونما ہونے کے بعد کھوج لگانے پر پتہ چلا ہے کہ یہ تمام مساجد مدارس اور خانقاہیں لینڈ مافیا نے اپنے ناجائز قبضوں کو ان ٹیکٹ رکھنے اور اپنے غیر قانونی ہتھکنڈوں کو دوام بخشنے کے لیے آؤٹ سائیڈرز کو بلا کر قائم کی ہیں۔ جو مستقبل میں قبضہ مستحکم ہو جانے کے بعد ڈھا کر ان پر پلازے اور ہوٹل قائم کریں گے اور ان ہوٹلز اور پلازوں کی چھتوں پر نمائشی طور پر ان مساجد کو شفٹ کر دیا جائے گا۔
مزید انکشاف یہ ہوا کہ 500 روپے کا انڈا بیچنے والے، گاڑیوں کو دھکا لگانے والے کا 4000 اور ٹائروں پر زنجیر چڑھانے کا پانچ ہزار وصول کرنے والے دراصل یہ وہی مدارس و مساجد کے بے روزگار آؤٹ سائیڈرز مسٹنڈے ہیں جو یہاں کی مقامی زبان سیکھ کر اہالیان مری میں رچ بس گئے ہیں۔
یہی وہ بے رحم درندے ہیں جو جان بوجھ کر پہلے تو سڑک پر برف پھینک دیتے ہیں اور پھر اسے ہٹانے کے لیے برف میں پھنسی مجبور انسانیت سے رقم کا تقاضا کرتے ہیں اور بالآخر پیسے نہ ملنے پر موسم کے رحم وکرم پر ان کو مرنے کے لیے چھوڑ دیتے ہیں۔ یقیناً مری کی بیوٹی کے یہی بیسٹ (درندے) ہیں۔
ان درندوں کی پرورش میں لامحالہ انتظامیہ کا بھی برابر کا ہاتھ ہے۔ مری کے بیشتر ہوٹلز دراصل آؤٹ سائیڈرز نے کرایہ پر حاصل کر رکھے ہیں۔
اسسٹنٹ کمشنر مری نے کبھی بھی ان ہوٹلز کے ریٹس کو مونیٹر، ریگولیٹ اور پینالائز نہ کیا ہے جس سے صاف عیاں ہے کہ ان ہوٹلز سے منتھلی TMA مری، ریسکیو 1122 اور ڈپٹی کمشنر راولپنڈی تک باقاعدگی سے پہنچائی جاتی ہے۔ اور ہوٹل مالکان سے وقتاً فوقتاً مفت سروسز بھی حاصل کی جاتی ہیں۔ حالیہ سانحہ مری میں جاں بحق ہونے والی فیملیز اور ان کے معصوم بچوں کے قاتل بہرطور پر یہی درندے ہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ مقامی افراد بھی اس میں ملوث ہوں تاہم اکثریت انہی لوگوں کی ہے۔ بہر حال کچھ بھی ہو حکومتی نا اہلی اس تمام واقعہ میں عیاں ہے۔ ان درندوں کی پرورش یقیناً حکومتی چھتر چھایا کے نیچے پروان چڑھی ہے۔
عوام ان معصوم بچوں اور بے گناہ مقتولین کا قصاص اور مستقبل میں ان واقعات کی روک تھام چاہتی ہے۔
قصاص کی کم سے کم صورت یہی نکلتی ہے کہ ایک گرینڈ کلین اپ آپریشن کے ذریعے ان کریمینلز سے علاقے کو پاک کیا جائے اور ہر فرد کی جانب سے ناجائز قبضہ کی خاطر بنائی گئی اپنی اپنی ڈیڑھ انچ کی مساجد و مدارس کی زمینوں کو واگزار کروا کر ان کے اصل مالکان کے حوالے کیا جائے۔ ہر پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہر طرح کی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے مکمل آلات سے لیس ریسکیو سینٹرز قائم کیے جائیں بصورت دیگر ہم مری کی خوبصورتی اس سے حاصل ہونے والی آمدن اور 89 بلین کی مقامی سیاحت کو ان درندوں کے ہاتھوں ہمیشہ کے لیے کھو بیٹھیں گے۔


