نرملا مگھانی: تو جھوم جھوم…


کوک سٹوڈیو پاکستان کی میوزک انڈسٹری پر جو احسان کر رہا ہے اس کا بدلہ شاید کبھی بھی نہ چکایا جا سکے، اگرچہ بہت سے گانوں کا ”ناس“ مارا گیا مگر کئی ایسے ایسے شاہکار بھی تخلیق کیے ہیں جس سے پاکستان میوزک انڈسٹری کو نئی زندگی ملی ہے بلکہ یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہو گا کہ کوک سٹوڈیو نے پاکستان کی دم توڑتی ہوئی میوزک انڈسٹری میں نئی روح پھونک دی ہے

کوک سٹوڈیو سیزن 14 میں لیجنڈ گلوکارہ محترمہ عابدہ پروین اور پنجابی گانوں کی موجودہ دور کی نورجہاں نصیبو لال کے گائے گئے کلام ”تو جھوم جھوم“ نے دھوم مچا دی ہے، دونوں گلوکاراؤں نے جس خوبصورتی سے کلام گایا ہے اس سے دونوں نے اس کا حق ادا کر دیا ہے، کلام سن کر انسان پر وجد طاری ہوجاتا ہے، ”تو جھوم جھوم“ کے موسیقار ذوالفقار علی زلفی نے بہت خوبصورت دھن بنائی ہے، عارف لوہار کی ”جگنی“ کے بعد ”تو جھوم جھوم“ سن کر موسیقی کا لطف آیا ہے

”تو جھوم جھوم“ کی ریلیز کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر لیجنڈ گلوکارہ محترمہ عابدہ پروین کی عاجزی اور انکساری کے کلپ نے بہت شہرت پائی، ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عابدہ پروین ریکارڈنگ کے لئے داخل ہوتی ہیں تو نصیبو لال پہلے ہی موجود تھیں، عابدہ پروین نے داخل ہوتے ہیں نصیبو لال کے گھٹنوں کو ہاتھ لگا کر گانے کی اجازت طلب کی تو نصیبو لال حیران ہو گئیں ان کو شاید توقع ہی نہیں تھی کہ اتنی عظیم گلوکارہ میں اتنی عاجزی ہو گی۔

تو جھوم جھوم جہاں سپرہٹ جا رہا ہے وہاں اس کو دھن کو سندھ کی گلوکارہ نرملا مگھانی نے متنازع بنانے کی کوشش کی ہے اور ”تو جھوم جھوم“ کے موسیقار ذوالفقار علی زلفی کو قانونی نوٹس بھجواتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ان کے گانے کی دھن چرائی ہے اور وہ دھن تو جھوم جھوم میں استعمال کی گئی ہے، ایسے الزامات کوئی نئی حیثیت نہیں ہے، کئی فنکار سستی شہرت کے لئے ایسے الزامات لگاتے رہتے ہیں

90 ء کی دہائی میں فلم دوپٹہ جل رہا ہے، ریلیز ہوئی جس کا گلوکار ارشد محمود کا گایا ہوا گانا بہت مشہور ہوا تھا، گانے کے بول تھے، ”ہو سکے تو میرا ایک کام کرو، شام کا اک پہر میرے نام کرو“ ، یہ گانا اداکارہ ریشم اور ارباز خان پر پکچرائز ہوا تھا، شاعری معروف فلمی شاعر ریاض الرحمن ساغر کی تھی، گانے نے مقبولیت کے ریکارڈ قائم کیے تو سندھ کے ایک فنکار نے دعوی کر دیا کہ یہ گانا میرا ہے اور میں یہ گانا بہت پہلے سندھی میں گا چکا ہوں

90 ء ہی دہائی میں نوائے وقت ملتان میں شوبز ڈیسک کا انچارج تھا، ملک کے نامور فنکاروں کے انٹرویوز کیے اور شوبز کی کئی خبریں بھی بریک کیں، حمیرا ارشد اس وقت نئی نئی فیلڈ میں آئی تھیں، ملتان کی سیاسی و سماجی شخصیت عاشق حسین شجرا کے بیٹے کی مہندی کے فنکشن میں ان سے ملاقات ہوئی اور پھر اچھی دوستی ہو گئی۔

حمیرا ارشد ملتان اس شرط پر فنکشن کرنے آتی تھیں کہ میں ان کے ساتھ رہوں گا، ساتھ ان کی والدہ ہوتی تھیں، ایک بار فنکشن کے بعد رات ہوٹل میں بیٹھے تھے ساتھ ملتان کا اس دور کا معروف گلوکار کاشف بھی تھا، حمیرا ارشد نے بتایا کہ نصرت فتح علی خان کا گانا آج کل ہٹ جا رہا ہے ”پیا رے پیا رے، تھارے بنا لاگے نہ مورا جیا رہے“ وہ میں نے تیار کیا تھا، میں نے ایک فنکشن میں خان صاحب کو یہ گانا سنایا اور ان سے اس میں اصلاح کی درخواست کی، پھر اگلے ماہ خان صاحب انڈیا جا کر یہ گانا گا آئے

میں نے حمیرا ارشد سے کہا کہ خبر دے دیتا ہوں کہ یہ اصل میں حمیرا ارشد کا تیار کردہ گانا ہے مگر خان صاحب نے چوری کر کے گا دیا ہے جس پر حمیرا ارشد نے کہا کہ نہیں خان صاحب استاد ہیں، اس لئے میں ایسی کوئی بات میڈیا میں نہیں لانا چاہتی جس سے ان کی شخصیت متنازع ہو، حمیرا ارشد کی بات سن کر دکھ ہوا کہ اتنے بڑے فنکار کو ایسا نہیں کرنا چاہیے

نوآموز فنکاروں کے دعوؤں کے بعد ایک عرصہ تک میں اس انتظار میں رہا کہ ان فنکاروں میں بہت ٹیلنٹ تھا تو وہ ضرور کوئی اچھا گانا گائیں گے، 27 سال گزرنے کے بعد یہ نام نہاد فنکار اس طرح کا شاہکار دوبارہ کیوں نہیں تیار کرسکے، حمیرا ارشد آج اپنے چند معروف گانوں پر ہی گزارا کر رہی ہیں جس کی وجہ سے ان کو چھوٹے موٹے فنکشن مل جاتے ہیں اور ان کی دال روٹی چل رہی ہے

سندھ کے جس فنکار نے ”ہو سکے تو میرا ایک کام کرو“ گانے کا دعوی کیا تھا وہ اب گمنامی میں جی رہا ہو گا، اس نے بھی کوئی دوسرا شاہکار گانا نہیں گایا جس سے وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ جاتا اب جبکہ ”تو جھوم جھوم“ سپر ہٹ جا رہا ہے تو ایک گمنام فنکارہ نے دعوی کر دیا کہ ذوالفقار علی زلفی نے میری دھن چرائی ہے

کہتے ہیں کہ عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے، اسی طرح ٹیلنٹ بھی چھپ نہیں سکتا، دیر سے سہی مگر وہ سامنے ضرور آتا ہے، جن فنکاروں کا اوپر ذکر کیا ہے ان میں ٹیلنٹ ہے تو وہ چیلنج سمجھتے ہوئے کوئی دوسرا شاہکار تخلیق کریں تب سب مان جائیں گے کہ واقعی ان فنکاروں میں ٹیلنٹ ہے، نرملا مگھانی کا یوٹیوب پر گانا سنا ہے جس کے بارے میں ان کا دعوی ہے کہ ان کی دھن چرا کر ”تو جھوم جھوم“ گایا گیا ہے، اگر اس دھن میں اتنی جان ہوتی تو وہ ایک سال قبل کیوں مشہور نہیں ہو گئیں، ایسی بیہودہ حرکتوں سے چند ہفتے یا چند مہینے سستی شہرت تو مل سکتی ہے مگر مستقل شہرت نہیں ملتی نہ ہی بڑا نام بنتا ہے

نرملا مگھانی اگر سکون اور تحمل سے ”تو جھوم جھوم“ سن لیں اور ان کے بول پر توجہ دیں کہ ”جو ہے تیرا لبھ جائے گا کر کے کوئی بہانہ، تیرے بس میں کج وی نئی اے دل نوں سمجھاواں“ اس لئے نرملا مگھانی کو میرا مشورہ ہے۔ تو جھوم جھوم…

Facebook Comments HS