آج کی سلطانہ کالی نہیں، لال شلوار مانگتی ہے


”میڈم، مجھے ایک تھان چاہیے، لال کپڑے کا“ ۔

رضیہ کی عجیب و غریب فرمائش سن کر میں اچھل پڑی۔

”کپڑے کا تھان اور وہ بھی لال رنگ کا۔ کیا کرنا ہے بھئی اتنا زیادہ کپڑا اور وہ بھی ایک ہی رنگ کا“ ، میں نے حیرانی سے پوچھا۔

”جی شلواریں بنانی ہیں۔“

”شلواریں، اتنی بہت سی اور وہ بھی لال رنگ کی؟ کالی کیوں نہیں“ ۔ میں نے خود کلامی کی۔

یہ تو ہو نہیں سکتا کہ شلوار کا نام لیا جائے اور مجھے منٹو کی سلطانہ یاد نہ آئے جسے یہ فکر کھائے جا رہی تھی کہ محرم سر پہ آن کھڑا ہے اور اس کے پاس کالی شلوار ہی نہیں۔ رہ رہ کر مختار کی کالی شلوار نظر کے سامنے پھرتی رہی جو اس نے اترا کر سلطانہ کو دکھائی تھی۔

سلطانہ کو ملول دیکھ کر شنکر جو سلطانہ کا دوست ہے، اسے شلوار لا کر دینے کا وعدہ کرتا ہے لیکن اس کے بدلے میں کانوں کے بندے مانگ لیتا ہے۔

’کالی شلوار‘ کے اختتامی جملے انتہائی کاٹ دار ہیں۔ یاد ہیں نا؟ مختار اور سلطانہ کی جب ملاقات ہوتی ہے تو دونوں عورتیں اپنی چیزیں ایک دوسرے کے بدن پر دیکھ کر چونکتی تو ہیں لیکن بھرم رکھنے کی خاطر خاموشی کا چولا اوڑھ لیتی ہیں۔ انسانی نفسیات کے اتنے بہت سے رنگ کالی شلوار کے بہانے دنیا نے دیکھ لیے۔

رضیہ اپنی دھن میں کہتی جا رہی تھی، ”جی بہت ساری بہنیں بھابھیاں ہیں نا تو سب کو دوں گی۔ میں چھٹی پر جا رہی ہوں نا۔“

میں نے تعجب سے پوچھا، ”لیکن بھئی لال رنگ کی شلوار ہی کیوں دینی ہے ہر کسی کو؟“

”دیکھیں جی کام کی چیز ہے نا، ہر عورت کی ضرورت، تو سب خوش ہو جاتی ہیں“ ، اس کا جواب سیدھا تھا۔

لیکن میرا تجسس برقرار رہا، ”لال رنگ کیا ضرورت پوری کرتا ہے بھئی؟ کھل کر بتاؤ۔“

”وہ جی۔ وہ“ ، وہ کہتے کہتے ہکلائی۔

”ہاں کہو“ ، میں نے اس کی حوصلہ افزائی کی۔

”وہ ماہواری میں اچھا رہتا ہے نا“ ، اس کا جواب سن کر میں چونک گئی اور پوچھا، ”کیوں؟ کیسے؟“

”وہ جی ماہواری کے لیے اتنے کپڑے کہاں سے لائیں؟“ ، رضیہ جیسے سارے راز ہی افشا کر دینا چاہتی تھی، ”بس جی نیچے ایک کپڑے کا سلا ہوا جانگیہ اور لال شلوار۔ داغ وغیرہ لگتا رہے تو نمایاں نہیں ہوتا۔ گزارا ہو جاتا ہے اگر دو شلواریں اور دو جانگیے ہوں تو۔ ایک دھو کر ڈال دو، دوسرا پہن لو۔“

کچھ سانس لے کر وہ ہچکچائی اور کہا، ”جی یہ آپ والی چیزیں ہمارے دیہاتوں میں کہاں ہوتی ہیں؟ روئی، پیڈ، نرم انڈرویئرز وغیرہ۔“

رضیہ ہماری اماں کے گھر کام کرنے آتی تھی۔ تعلق جنوبی پنجاب کے کسی دور دراز علاقے سے تھا۔

”رضیہ گیلی شلوار اور چپچپاتے جسم کے ساتھ کیسے کوئی عورت اٹھ بیٹھ سکتی ہے؟“ ، میں نے دلگیر ہو کے پوچھا۔

”بس جی، جب کچھ بھی نہ ہو، پیٹ کی فکر ہی دم نہ لینے دے تو کیا جسم کی چپچپاہٹ اور کیا گیلی شلوار؟“ رضیہ کی آواز میں نمی گھل چکی تھی، ”آپ بتائیں کیا کریں وہ عورتیں؟ کہاں سے لائیں پیڈ، روئی اور فالتو کپڑا؟“

اف خدایا، مفلسی میں آٹا گیلا! کون سوچتا ہے بھلا کہ دور دراز دیہاتوں، صحراؤں اور پہاڑوں کی عورت اپنے عورت ہونے کا خراج کس کس انداز سے چکاتی ہے۔

مجھے بچپن کے وہ دن یاد آ گئے جب اماں کے ساتھ گاؤں جایا کرتے تھے۔ بڑی آپا گرمیوں کی چھٹیوں میں کبھی ہمارے ساتھ نہ جاتیں، ہم اصرار کرتے، آپا چلیں نا، گاؤں میں مزا کریں گے، ٹیوب ویل میں نہائیں گے۔ آپا نہ حامی بھرتیں اور نہ ہی وجہ بتاتیں۔ اب سمجھ آتا ہے کہ کیوں؟

گاؤں کی سب عورتیں صبح سویرے اٹھ کر کھیتوں کو روانہ ہو جاتیں۔ گھر میں حوائج ضروری کا بندوبستہی نہیں تھا۔ کبھی گنے کے کھیتوں میں گھستیں اور کبھی گندم کے۔ بارش، آندھی طوفان کچھ بھی ہوتا مگر جانا تو پڑتا۔ فطرت کا راستہ بھی کبھی کوئی روک سکا ہے؟

مجھے کھیت میں گھس کر بیٹھنے میں انتہائی ڈر لگتا تھا۔ اگر سانپ آ جائے تو؟ سرکنڈے علیحدہ سے ہر جگہ چبھ رہے ہوتے تھے۔ نہیں بھئی یہ کھیت میرے بس کی بات نہیں۔ میرے واویلے کے بعد یہ ہوا کہ میرے لیے گھر میں خاص انتظام کر دیا گی

آج اماں کا گاؤں تو ویسا نہیں رہا لیکن بے شمار دیہات آج بھی اسی وقت میں زندہ ہیں اور اسی طریقے سے زندگی کے دن پورے کرتے ہیں۔

اب سوچیے کہ وہاں رہنے والیاں ان سب مشکلات کے علاوہ ماہواری اور زچگی کے بعد کیا کرتی ہوں گی؟

ماہواری میں سات دن اور زچگی میں بیس سے چالیس دن تک رحم سے بہتے خون کو کیسے سنبھالتی ہوں گی؟

اسقاط حمل کا ٹنٹا الگ اور اگر ماہواری زیادہ ہو جائے۔ اف میرے خیال کی پرواز فوراً ہی لہولہان ہو جاتی ہے۔

مرے پہ سو درے کے مصداق ان مسائل پہ فحش ہونے کا ٹھپا لگا کر بات کرنے کی بھی ایسی ممانعت کہ آج اکیسویں صدی کے جدید شہروں میں بھی پیڈ خاکی لفافے کے بغیر عورت تک نہیں پہنچ سکتے۔

اس پس منظر میں سوچیے تو احساس ہو گا کہ دیہی علاقوں میں سہولیات فراہمی کے منصوبوں میں عورت کے فطری تقاضوں کو مد نظر رکھنا۔ کیا بات کرتے ہو صاحب۔

اگر اختلاف ہو تو زچگی میں مرنے والی عورتوں کے اعداد و شمار دیکھ لیجیے، جس میں وطن عزیز دنیا میں سر فہرست ہے۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے، مرنے والی کے سوئم پہ ہی اس کی جگہ پر کرنے کا انتظام کر لیا جاتا ہے۔ حیات نو کے بہتے ہوئے دھارے میں عورت نامی چارے کی بھلا کیا کمی؟

آج کی سلطانہ کالی شلوار کی بجائے لال شلوار کی فکر میں ہمہ وقت غلطاں رہتی ہے لیکن اب بیچارہ شنکر ’چاندی کے معولی سے بندوں‘ کے بدلے تھان کہاں سے لائے؟

بشکریہ: ڈی ڈبلیو اردو


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments