سابق میئر کراچی، سروتہ اور مینڈک


اردو ہماری مادری زبان نہیں اگرچہ ہمارا ذریعہ تعلیم اردو ہی تھا۔

ہم دوسری جماعت ‏ میں تھے تو پہلی بار اپنے محلے کی دیواروں پر ”سندھ بولی قومی بولی“ کے سندھی میں چھپے ہوئے سٹینسلڈ نعرے پڑھے۔ حالانکہ اس سے قبل ہم سندھی ہوتے ہوئے بھی سندھی کا کوئی حرف، کوئی لفظ پڑھنا نہیں جانتے تھے۔

یہ وہ دور تھا کہ جب سندھ میں لسانی ہنگامے ہو رہے تھے۔ ہمارے محلے میں زیادہ تر سندھی اور میمن آباد تھے اور تھوڑے بہت اردو دان جو اس وقت ہندستانی کہلانا پسند کرتے تھے۔ ان ہندستانیوں میں ہمارے گھر کے دائیں بائیں دو گھرانے (ہمارے خیال میں ) پٹنی کمیونٹی کے تھے۔ ان میں ایک گھر میں اب مجھے صرف اتنا یاد ہے کہ ایک خاتون، جن کو ہم بی خالہ یا بی بی خالہ کہتے تھے، اور ایک بچہ رہتے تھے، جو بچہ بعد ازاں ہماری کتابوں کی دکان (رینٹل لائبریری) سے کسی کے لیے کرائے پر کتابیں بھی لے جاتا تھا۔ اور ”عمران سیریز“ کی کتابوں کو ”عمران شریف“ کی کتابیں کہا کرتا تھا۔ ( بڑا مستقبل شناس بچہ تھا! )

ان میں سے دوسرے گھرانے کے ایک لڑکے سے ہماری دوستی تھی۔ جن کی والدہ کو ہم سب بچے خالہ ماں کہتے تھے۔ اب ہمیں پوری بات تو یاد نہیں لیکن یہ یاد ہے کہ بچے ہونے کے باوجود کسی طور اس لسانی ہنگامے کی حوالے سے نکلی بات پر ہم نے اپنے اس دوست سے سادگی سے کہا تھا، ”بھائی ہم جب سندھی ہو کر اردو پڑھ رہے ہیں تو آپ سندھی کیوں نہیں پڑھتے (پڑھ سکتے ) ؟“ (ہمیں اپنا جملہ لفظ بہ لفظ یاد نہیں لیکن مفہوم کچھ ایسا ہی تھا) ۔

البتہ ہمارے دوست نے ”اردوئے محلہ“ میں جو شاندار جملہ کہا تھا وہ ہمیں آج بھی جوں کا توں یاد ہے، انہوں نے کہا تھا، ”اور اپن کی بولی بھول جاوے؟“

بعد میں ہمارے یہ دوست نہ صرف سندھی بولنے بھی لگے بلکہ اپن کی ”بولی“ بھی ان کو نہیں ”بھولی“ ۔ جب کہ ہم اس وقت اردو کے ساتھ ساتھ میمن دوستوں سے ہمیشہ میمنی میں ہی بات کرتے تھے۔ اور بعد ازاں گجراتی بھی لکھنا پڑھنا اور بولنا سیکھ لیا! ایک وقت بنگالی بھی سیکھنے کی کوشش کی لیکن بس کر گئے۔ البتہ اس ساری تگ و دو کے نتیجے میں اپنی کرائے کی کتابوں کی دکان ہونے کے باعث ہندی فلمی رسالوں کی مدد سے ہندی بھی سیکھ لی۔ جو کہ ہمیں اس وقت اپنے صحافیانہ پیشے میں بڑا کام آ رہی ہے۔

لسانی ہنگاموں کے دوران میں ہمارے محلے میں ہمیں یاد نہیں کہ مذکورہ بالا نعروں کے علاوہ کوئی بھی قابل ذکر واقعہ پیش آیا ہو۔ تاہم بعد میں پتہ چلا کہ موجودہ دور میں جس طرح سے دو کمیونٹیوں کو لڑانے کے سلسلے میں شلوار قمیص اور شرٹ پتلون کو شناختی نشان بنایا گیا اس دور میں کچھ فسادی اپنے مخالف برادری کو شناخت کرنے کے لیے ان سے یہ پوچھتے تھے کہ، ”چھالیہ کترنے والے آلے کو کیا کہتے ہیں؟“ اور صحیح جواب نہ ملنے پر ان کی درگت بنائی جاتی تھی۔

اور حریف شرپسند مخالفوں سے کہتے تھے کہ کہو، ”ڈیڈر،“ (اردو میں مینڈک، سنسکرت میں ”دادر“ ) اور صحیح تلفظ کی ادائیگی نہ کرنے پران کو زد و کوب کیا جاتا تھا۔

ایک خراب دور تھا جو الحمدللہ گزر گیا۔ لیکن شاید کچھ لوگ اس دور کو لوٹانے کی کوشش کر رہے ہیں؟
اور افسوس کی بات یہ ہے کہ دو افراد یا حریفوں کے ذاتی جھگڑے کو اس کی بنیاد بنایا جا رہا ہے۔

اور اس سے بھی زیادہ افسوس کی بات یہ ہے کہ، ایک صاحب جو کہ کراچی کا میئر رہ چکے ہیں، وہ اس قسم چیز کو ہوا دینے کی کوشش کر رہے ہوں!

+++

ہمیں یاد ہے اس وقت جب کہ ہم سروتہ کا مطلب بھی نہیں جانتے تھے، نہ ہمیں پیپلز پارٹی کا پتہ تھا نہ ہی ایم کیو ایم ہی معرض وجود میں آئی تھی ہم

”سروتہ کہاں بھول آئے پیارے نندویا؟“
سن کر جھوم جھوم اٹھتے تھے اور آج بھی یہ گیت ہمیں بہت پسند ہے۔

اور تو اور ”اماں میرے بابا کو بھیجو ری کہ ساون آیا،“ جیسا خالص زنانہ گیت بھی، نہ جانے کیوں ہمیں غمگین سا کر دیتا ہے؟

موجودہ دور میں تو ہم سمجھتے ہیں کہ جب خاندان اور پاندان ماضی کی چیزیں بنتے جا رہے ہیں، تو بہت سے اردو داں بچوں کو بھی شاید پتہ نہ ہو کہ سروتہ کیا ہے۔ اور شاید ان میں سے کئی ”ڈیڈر“ کا بھی صحیح تلفظ سیکھ چکے ہوں۔

+++

ہمیں یاد ہے کہ گزشتہ الیکشن سے قبل بھی اسی قسم کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔ اور اس وقت جب کہ انتخابات کو ایک سال کا عرصہ رہتا ہے ایک بار پھر لسانی اختلافات کو ابھارنے اور لوگوں کو اکسانے کی کوشش کی جار ہی ہے، محض چند ووٹوں کے لیے لوگوں کو لڑانے کی یہ کوشش کوئی ایک فریق نہیں کچھ سیاسی گروہ اور غیرسیاسی ٹولے کر رہے ہیں۔ ہم ان سیاسی گروہوں اور غیرسیاسی ٹولوں سے کچھ نہیں کہتے ہوئے عوام سے درخواست کریں گے کہ وہ لوگ جو لوگوں کو لڑا کر اکٹھے ہو کر حکومت بنا یا بنوا لیتے ہیں، خدا را! آپ ان کے بھرے میں نہ آئیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments