راولپنڈی میں شاپنگ


کیا آپ شہر راولپنڈی کے خریداروں کی مشکلات کا اندازہ کر سکتے ہیں؟ یقیناً نہیں، اگر آپ لاہور میں رہتے ہیں تو آپ خوش قسمت ہیں کہ دکان دار آپ کو توجہ سے مخاطب کرتے ہیں وہ آپ کو دور سے ہی پہچان کر پکارتے ہیں :

”آپی یہ دیکھیں، آپ کے لیے بہت اچھے کلر کا سوٹ آیا ہے“
”باجی اندر تو آئیں آپ کو پسند نہ آیا تو آپ کا بھائی ذمہ دار ہے۔“

ایک بار میں نے سوچا چلو لاہور کے بازار کی سیر کرتے ہیں، کیوں کہ بازار میں بنا کچھ خریدے گھومنے کا ہمارا کم عمری کا تجربہ تھا۔ ہم نے بازار کا ایک کنارے سے چکر لگانے کا آغاز کیا، ارادہ تھا کہ ساڑھی کے ڈیزائن دیکھیں گے اور جرابوں کے چند جوڑے خرید کر، دہی بھلے کھا کے گھر کی راہ لیں گے۔ ابھی بازار میں قدم رنجہ فرمایا ہی تھا کہ پہلی دکان کے چھوٹے بھائی نے محبت سے ایک موڑھے پر بٹھا لیا اور بہت توجہ سے دریافت کیا،

’آپی کام والا سوٹ دکھاؤں، ایسا نفیس کام ہوا ہے کہ آپ حیران رہ جائیں گی۔ ”

میں کام والے سوٹ پنڈی سے خرید چکی تھی اس لیے اس کے نام سے ہی ابکائی سی آ گئی۔ میرا برا سا منہ دیکھ کر اس نے شیفون کا ایک خوش رنگ سوٹ نکالا لیکن میں نے کہا کہ میں چوں کہ ساڑھی دیکھنے آئی تھی اس لیے میں آگے ساڑھی کی دکان پر جاؤں گی، آپ کے خلوص اور محبت کا بہت شکریہ پھر بھی اپنا کارڈ دے دیں عید بقر عید پر آپ کو مبارک باد بھیجا کروں گی۔ اس نے کہا،

”باجی اس طرف تو آپ نے دیکھا ہی نہیں، یہ ہم اصل میں ساڑھی کا ہی کاروبار کرتے ہیں، انڈیا کی سب سے مشہور ساڑھیاں ہم نے منگوا رکھی ہیں، سٹار پلس کے سارے ڈیزائن ہیں ہمارے پاس۔“

”ہممم چلو دور سے ہی دکھا دو، ویسے ہم صرف دیکھنے آئے ہیں، خریدنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے، ویسے بھی ہم پہلے پورے بازار کا چکر لگائیں گے، قیمتیں چیک کریں گے پھر اگر کچھ دل کو بھایا تو لیں گے۔ لگتا تو نہیں کہ ہمیں کوئی ساڑھی پسند آئے، معمولی چیزیں ہمیں پسند نہیں آتیں ہم اصل میں پنڈی سے آئے ہیں۔“

اس نے کہا
”پنڈی میں بھی یہیں سے مال جاتا ہے، آپ ساڑھی نہ لیں بس دیکھیں تو سہی کتنے اعلی ڈیزائن ہیں۔“
اس نے ساتھ ہی بے دردی سے ایک ساڑھی ہمارے سامنے پھیلا دی، میری تو جان ہی نکل گئی،

”ارے بھائی تصویر دکھا دو، ہم ڈیزائن سمجھ لیں گے، تم بلاوجہ تہہ کھول رہے ہو، تم نے بلایا تو ہم آ گئے ہم کوئی خریدار نہیں ہیں، بس سیر کرنے نکلے تھے۔ تم نہ کھولو۔“ میں تو گھبرا ہی گئی۔

ساتھ ہی میں احتیاط سے اپنی جگہ سے اٹھ کر ساڑھیوں کے پیکٹوں کی طرف بڑھ گئی۔ اس نے مجھے واپس بٹھایا اور میرے اشارے پر چند پیکٹ اٹھا لایا، میرا خیال تھا وہ مجھے ٹائٹل کی تصویر دکھائے گا لیکن اس نے ساڑھیاں پھر سے ہمارے سامنے پھیلا دیں۔ کچھ دیر میں ساڑھی کا پورا سیکشن ہمارے سامنے ادھڑا پڑا تھا، چار منتخب ساڑھیاں ہماری گود میں تھیں، دو ساڑھیوں کے پلو ہمارے ہاتھ میں تھے اور نظر دکان میں مزید ساڑھیوں کی تلاش میں بھٹک رہی تھی۔ آخر میں نے پانچ ساڑھیاں خریدیں، وہیں سے رکشہ پکڑا اور گھر آ گئی کیوں کہ بازار میں دہی بھلے کی کوئی دکان نہ ملی تھی۔

اگر آپ کراچی کے ہیں تو بھی میرے درد آپ کی سمجھ سے باہر ہوں گے۔ کم عمر کے باوجود مجھے کراچی میں بھی شاپنگ کا تجربہ ہے، گو کہ اہل لاہور اپنے شہر سے محبت کرتے ہیں لیکن کراچی کے رہنے والے تو اپنی پیدائش پر باقاعدہ مغرور ہیں، مجھے بھی اشتیاق تھا کہ ہوش مندی میں ایک بار اس شہر کی زیارت کر لوں لیکن طبیعت کی بے چینی ایسی غالب آئی کہ میں نے ہوش مندی کا بھی انتظار نہ کیا اور عبید کے ساتھ کراچی روانہ ہو گئی، جب ہم ٹرین سے باہر نکلے تو محسوس ہوا کہ کراچی میں تو واقعی آب و ہوا نہیں ہے، یا شاید ہمیں سانس کی بیماری ہو گئی ہے۔ عبید نے ہمیں گائیڈ کیا۔

”بیگم اس کو حبس کہتے ہیں، حبس ہر جا۔“

”لیکن عبید یہاں تو سمندر ہے، ساحل بھی ہو گا، اور ہوا کے جھونکے چلتے ہوں گے۔ میں نے بارہا ٹی وی پر لوگوں کے بال اڑتے ہوئے دیکھے ہیں۔“

”ٹی وی کے لیے وہ لوگ پنکھوں کا استعمال کرتے ہیں۔“ عبید نے مجھے اچھی طرح سمجھایا۔

خیر وہ ابتدائے رمضان کے دن تھے، معلوم ہوا کہ ان دنوں سب لوگ تراویح پڑھتے ہیں، پورے مہینے کی تراویح دس دن میں پڑھ ڈالتے ہیں اور اس دوران بازار نہیں کھولتے، دس دن کے بعد بازار کھولتے ہیں اور عید تک بازار گرم رکھتے ہیں۔ ہمیں تو بڑی مایوسی ہوئی۔ پھر بھی میں نے کچھ مالز کی سیر کی۔ اس دوران عبید نے مجھے ایک شاپنگ مال میں بھیجا اور خود کسی کام سے باہر چلے گئے۔ مجھے کچھ وقت اس مال میں گزارنا تھا، انتہائی گرمی، حبس اور رمضان۔

خیر محسوس ہوا کہ مال میں اے سی اچھا کام نہیں کر رہا لوگوں نے دکان میں الگ سے اے سی لگوا رکھے ہیں سو ایک جوتے کی دکان میں ہوا لگوانے داخل ہو گئی، ایک خوش شکل، خوش پوش، خوش گفتار نوجوان جو ان جوتوں کے کاروبار کا مالک نظر آتا تھا، نے آگے بڑھ کر میرا استقبال کیا اور میری نظر کے تعاقب میں ایک جوتا نکالا اور اس کے خواص بیان کرنے لگا جس کی قیمت تین ہزار روپے تھی اور وہ میرے اسٹائل کا تھا بھی نہیں، اس نے وہ جوتا تقریباً میرے ہاتھ بیچ ہی دیا تھا وہ تو میرے پاس پیسے کم تھے پھر اسی وقت عبید آ گئے اور میں نے ان سے کہا کہ

”خدا کے لیے مجھے نکالیں، اس نوجوان کا دل توڑنے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے۔“
عبید نے ان سے معذرت کی اور مجھے باہر لے گئے۔

اب ذکر ہو جائے کچھ ہمارے شہر راولپنڈی کا۔ راولپنڈی میں صدر کو بڑا بازار سمجھنے والوں کے لیے عرض ہے کہ وہاں برینڈز کی کچھ دکانوں، جوتوں کی مارکیٹ، فوم اور قالینوں کے بازار کے علاوہ کپڑے کی چند عام دکانیں ہی ہیں، اگر آپ کامران مارکیٹ میں چلے گئے تو شاید آپ کی صرف جیب ہلکی ہو لیکن اگر بنک روڈ پر آپ نے کپڑا خریدنا ہو تو پہلے سن لیں کہ وہاں ہوتا کیا ہے۔

ہوا یوں کہ ایک بار میں ایک سوٹ خریدنے کے لیے ایک دکان میں داخل ہو گئی اندر قدم رکھتے ہوئے محسوس ہو رہا تھا کہ شاید دکان بند ہے، یا دکان دار کہیں باہر گئے ہوئے ہیں، میں نے سوچا کیمرے لگے ہوں گے، اگر میں چوری وغیرہ کرنے لگوں گی تو ضرور وہ لوگ دیکھ ہی لیں گے خیر جب میں نے دکان کا جائزہ لیا تو دیکھا ایک دکان دار نما آدمی کپڑوں کے رنگین تھانوں میں کیمو فلاج ہوا بیٹھا تھا، اور ٹی وی کی خفیہ اسکرین پر کچھ دیکھ رہا تھا، اس نے مجھے یوں دیکھا جیسے میں اس کے سکون میں مخل ہوئی ہوں، خیر اس نے بھی اپنا شغل جاری رکھا، میں نے پسندیدگی سے ایک سوٹ کی طرف اشارہ کیا،

”انکل وہ سوٹ دکھا دیں؟“
انکل نے برا مانا۔
”یہ دو ہزار کا ہے۔“
”اچھا۔ پھر بھی دکھا دیں۔“
”سامنے اسی لیے تو لٹکایا ہے۔“
”کیا اس کا کوئی پیس پاس رکھا ہوا ہے، ہم ہاتھ لگا کر چیک کرنا چاہتے ہیں۔“

وہ بادل ناخواستہ اٹھا اور مجھے سوٹ دکھایا۔ جو مجھے اتنا پسند تو نہ تھا لیکن اب دکان دار کو زحمت دی تھی تو  لے لیا۔

کہا جاتا ہے کہ پنڈی میں گول گپوں کے نام پر واقعی صرف گول گپے اور کھٹا پانی ملتا ہے، دیگر لوازمات کو یہاں بدعت سمجھتے ہیں نیز آلو بخارے اور خوبانی کی چٹنی کی ایجاد کے بارے میں کسی کو کچھ علم نہیں۔ مزید یہ کہ یہاں سموسے کے ساتھ چٹنی چاہیے تو مزید پیسے دے کر الگ سے خریدیے، وہ پلاسٹک کی ایک دھاگہ بندھی تھیلی میں دی جاتی ہے، بے تکلف پنڈی والے اس تھیلی کو ایک کونے سے پنکچر کر کے سموسے کے ساتھ چٹنی چوستے رہتے ہیں اور خوشیاں مناتے ہیں۔

یہاں فاکسی ٹیکسی جس کے پیچھے آر، اے، کے والے انگریزی حروف کے اسٹیکرز لگے ہوتے تھے، راج کرتی رہی ہیں۔ ٹیکسی ڈرائیورز کا مزاج تیور کے لحاظ سے اسلام آباد پر گیا ہے۔ سواری کو بٹھاتے ہوئے جس لجاجت کا مظاہرہ کرتے ہیں، وہ مسافر کے تشریف رکھتے ہی ہوا ہو جاتی ہے۔ مسافر کو اچھوت کی طرح دیکھتے ہیں جیسے وہ ان کی سیٹ تباہ کرنے آئے ہیں۔ پھر ٹیکسی والوں کے مزاج کی عجلت کہ میں تو سارا سفر نہایت شرمندگی میں ہی گزارتی۔

کبھی کسی وقت بنک اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے کا خیال آ جاتا تو بھی ٹیکسی والے تیور دکھاتے تھے، اور طے شدہ کرائے میں پچاس روپے کا یک مشت اضافہ ہو جاتا۔ ہماری گلی میں چند ایک گڑھے تھے، اچھا چلیں کئی گڑھے تھے، خود مجھے بھی افسوس ہے، میں نے بارہا دعا کی کہ یہ گڑھے کسی طرح ختم ہوجائیں یا میں ہی کسی اچھے سے سسرال چلی جاؤں لیکن اب آپ کو کیا ہی بتاؤں، شادی کے بعد عبید نے اسی گلی میں گھر بنایا اور ہماری زندگی سے وہ گڑھے نہ نکل پائے الٹا عبید کی زندگی میں بھی آ بسے۔ خیر ہر گڑھے کے دس روپے بل میں ادا کر کے جب میں اپنے گھر میں داخل ہوتی تو دنیا میں کچھ اچھا نہ لگتا اور وہی چڑا چڑا پن طبیعت میں در آتا جو پنڈی والوں کا خاصہ ہے۔

جب آن لائن ٹیکسی سروس کا آغاز ہوا تو میں نے ٹیکسی والوں سے انتقام لینے کا فیصلہ کیا، میں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر ٹیکسی کو رکنے کا اشارہ کرتی اور کہتی کہ اوہ سوری، اب آپ کے ساتھ کون جائے گا، ہم نے آن لائن گاڑی منگوا لی ہے۔ آن لائن ٹیکسی میں بیٹھ کر حقارت آمیز مسکراہٹ سے ٹیکسی والوں کو دیکھنا میرا معمول بن گیا۔ لیکن جب کبھی فون کی بیٹری کم ہوتی اور میں آن لائن ٹیکسی نہ بلانا چاہتی تو میں رکشہ لیتی تاکہ وہ جب مجھ سے زیادہ کرایہ مانگیں تو ان کو بچت بھی زیادہ ہو، ان کی فیملی کا بھی تو کچھ بنے۔

بارہا میں نے رکشے کو چار گنا کرایہ ادا کیا ہے، گرمیوں میں کیا مجال جو ہوا کا جھونکا اندر آ جائے، صرف گرد و غبار اور دھول ہی اندر آتی ہے جو پھر باہر نہیں نکل پاتی، اور سردیوں میں ہر طرف سے برفانی ہوائیں لگتی ہیں۔ سردیوں میں سائبیریا سے آنے والی ہوائیں سب سے پہلے رکشے کی سواری کو ہی تو محسوس ہوتی ہیں۔

باتوں باتوں میں مجھے ایک رکشہ والا یاد آ گیا جو مجھے ہمیشہ یاد رکھتا ہے، ہماری گلی کے باہر اس کا اڈہ ہے، وہ ہمیں ہم کلام ہوئے بغیر آلو بھی نہیں خریدنے دیتا، خیر رکشے والوں کے لیے میرے دل میں الگ ہی مقام ہے، اور میں جلد ایک تحریک چلانے کا ارادہ رکھتی ہوں کہ آخر رکشہ اسلام آباد کی حدود میں کیوں داخل نہیں ہو سکتا۔ خیر اس رکشے والے بھائی کی زندگی کے فلسفیانہ اتار چڑھاؤ کی میرے پاس مکمل معلومات ہیں ایک نہایت ہی فکر انگیز اور عبرت ناک واقعہ بھی مجھے یاد ہے۔ جو آپ رکشے والے بھائی کی زبانی سنیے :

”کل میں گھر سے نکلا نا تو ساتھ ہی برف پڑنے لگی (ژالہ باری، اولے ) یہ موٹی موٹی برف گر رہی تھی، میں تو رکشہ آرام سے چلا کر سڑک کی طرف جا رہا تھا، میں نے دیکھا کہ ایک آدمی برفوں سے بچتا ہوا گلی میں دیوار کے ساتھ لگ لگ کر جا رہا ہے، پھر بھی اس کو برفیں پڑ رہی تھیں، مجھے بڑی ہنسی آئی۔ باجی میں اس کو لفٹ دے سکتا تھا، پر مجھے بڑی ہنسی آئی کہ یہ کیسے برفوں سے بچتا ہے لیکن پھر بھی اس کے سر پہ برفیں بج رہی ہیں۔ ہاہاہاہا۔ لیکن میں نے سوچا کہ اس کے گناہ دھل رہے ہیں، تو خیر ہے کون سا وہ مر جائے گا، آج اس کے گناہ دھل ہی جائیں تو اچھا ہے۔“

میں تو اس ذہانت اور تصوف سے بہت حیران ہوئی اور میں نے پوچھا:
” آپ بھی اتر جاتے، آپ کے گناہ بھی دھل جاتے۔“
لیکن اس نے سوچا باجی خوش مزاج ہیں اور خوشی سے آگے بڑھ گیا۔

اب پریشانی اس بات کی ہے رکشے والوں کی توقع کے مطابق کرایہ ادا کرنے کی سکت نہیں اور آن لائن والی گاڑی اب نہیں آتی، یہی وجہ ہے کہ میں نے آمدورفت ترک کر دی ہے کہ کہیں ٹیکسی والوں کو میرا وہ رویہ یاد نہ آ جائے اور اب وہ مجھ سے انتقام نہ لینے لگیں۔

Latest posts by صفیہ کوثر (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

صفیہ کوثر کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments