پیٹی، ٹوکری اور کیک

پاکستان کی سیاست میں جاری آڈیو لیکس کی سیریز کی ایک قسط میں تحفے میں دی جانے والی ٹوکریوں نے ہلچل پیدا کی اور اس آڈیو کو لے کر صحافیوں، سیاست دانوں اور مستقل تجزیہ کاروں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور ٹوکریوں کے تحفے میں سیاست کا تڑکا لگا کر اپنی تسکین کا سامان پیدا کیا یا پھر اپنی قیادت کی پسند کو سامنے رکھتے ہوئے تحفے میں دی جانے والی ٹوکریوں کے چھپے رازوں سے پردہ اٹھانے کی کوشش کی۔ ہم بھی جب اخبار پڑھنے کی عمر میں پہنچے تو ہر سال خاص موقعوں پر بعض سیاست دانوں کی جانب سے آموں کی پیٹیاں دوستوں کو تحفے میں بھیجنے کی خبریں پڑھتے تھے اور پھر صحافت سے وابستہ ہوئے تو تحفے میں دی جانے والی پیٹیوں کی خبروں کو فائل کرتے رہے ایسے تحائف دینے والوں میں نواب زادہ نصر اللہ سب سے نمایاں تھے جو ہر سال آموں کی پیٹیوں کی ایک بڑی تعداد اپنے سیاسی رفقا اور دوستوں کو بطور تحفہ بھجواتے تھے ایک وضعدار سیاست دان کے طور پر وہ سیاسی مخالفین کو بھی یاد رکھتے اور کسی بغض سے آزاد ہو کر ان کو بھی تحفے کے ذریعے محبت کا پیغام دیتے جس سے سیاسی ماحول میں تلخی کم ہو کر امن کی فضا بھی قائم رہتی۔
دوسری اہم شخصیت پیر صاحب پگارو کی تھی جو دوستوں کو آموں کی پیٹیوں کی صورت میں تحائف دیتے اور پھر ان تحائف کی خبریں بھی اخبارات کی زینت بنتیں اس طرح سندھ سے حاکم علی زرداری اور ان کے بعد آصف علی زرداری نے کسی حد تک اس روایت کو قائم رکھا۔ ان تحائف کو لے کر کسی کو چھپانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی تحفہ وصول کرنے والے فخر سے بتاتے تھے بلکہ اس کو اپنے لیے قابل فخر سمجھتے تھے کیونکہ اس میں تحفہ دینے والے کا بھی کوئی مفاد وابستہ ہوتا تھا اور نہ تحفہ لینے والے کی مفاد حاصل کرنے پر نظر ہوتی تھی لیکن وقت نے سب کچھ بدل دیا دنیا میں تیزی سے بدلتی روایات نے کمرشل ازم کا روپ دھار لیا دوستیاں رشتے تعلقات کمرشل بنیادوں پر استوار ہونے لگے اور جب ہر تعلق کمرشل ہوا تو پھر اس میں خلوص بھی دم توڑ گیا اس کی جگہ ایک ایسے زہر نے لی جو روحوں تک سرایت کر گیا اور پھر معاشرہ افراتفری کا شکار ہو گیا۔
یہ عمل آج بھی جاری ہے جس کے باعث وہ تمام روایات دم توڑ چکی ہیں جن کے باعث معاشرہ قائم رہتا تھا خیر بات پیٹیوں کی ہو رہی تھی تو ہم بھی ان خوش نصیبوں میں شامل ہیں جن کے گھر بطور تحفہ ٹوبہ ٹیک سنگھ سے ہر سال کینو مالٹا کی پیٹیاں آتی تھیں لیکن پھر ہمارے پھوپھا جان کی وفات کے بعد یہ سلسلہ زیادہ دیر چل نہ سکا اس زمانے میں بانس کی بنی ہوئی ٹوکریوں میں بھی فروٹ تقسیم ہوتا تھا آج کی طرح فینسی ٹوکریوں کا رواج نہیں تھا یہی فرق آج کے فینسی معاشرے اور اس وقت کی سادہ ٹوکریوں میں تھا جن میں خلوص اور محبت کا پیغام ملتا تھا اور آج کی فینسی ٹوکریوں میں صرف رواج پورا کرنے کا مقصد ہوتا ہے اس طرح جب ہم نے صحافت میں قدم رکھا تو لاہور کے مقامی اخبار میں ہمارے سینئر شوکت اشفاق ملتان شفٹ ہو گئے تو انہوں نے ایک بار مجھے اور نعیم اقبال کو آموں کی پیٹی بھیجی تھی یہ وہ واحد آموں کی پیٹی تھی جو صحافت کے شعبے میں مجھے اپنے سینئر سے ملی بعد میں رفتہ رفتہ رابطے میں کمی آتی گئی اور پھر آموں کی پیٹی نہ آ سکی لیکن اس ایک آموں کی پیٹی میں ہی اتنا خلوص تھا کہ آج تک نہ خلوص اور نہ ملتان کے آموں کے ذائقے کو بھول سکے ہیں۔
آج کے زمانے میں ایک آڈیو میں ٹوکری کے تحفے نے سیاسی منظر نامے پر ایسا طوفان بد تمیزی برپا کیا کہ کانوں کو ہاتھ لگانے پر مجبور کیا اور جن کو تحفے کے طور پر ٹوکری بھیجی گئی وہ آج تک صفائیاں دیے رہے ہیں۔ تعلقات میں مفادات کا ایسا زہر بھر دیا گیا ہے کہ ہر کوئی چھپ کر تو تحفہ وصول کر لیتا ہے لیکن اس کا اظہار کرنے سے قاصر ہے اس مین تحفہ کی ٹوکری وصول کرنے والے کا قصور کم اور تحفہ بھیجنے والے کی نیت اور اس کی سیاسی مخالفت کا زیادہ قصور ہے ورنہ ایک ٹوکری ہی تو تھی کتنی مالیت کا تحفہ ہو گا۔
سیاست دانوں کی طرف سے دی جانے والی آم کی پیٹیوں کا سلسلہ تقریباً ختم ہو چکا ہے اور اگر کسی کو یہ پیٹی مل بھی رہی ہے تو وہ اسے خبر نہیں بناتا۔ اس سارے معاملے میں خرابی کی ایک وجہ یہ بھی لگتی ہے کہ ہر کسی کا نظریہ ختم ہو چکا ہے اور نظریے کی جگہ مفادات نے لے رکھی ہے اور یہی چیز معاشرے کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ اس زہر آلود سیاسی رسہ کشی میں جماعت اسلامی کے قیصر شریف ایک ایسی شخصیت ہیں جنہوں نے تحفے کی روایت کو زندہ رکھنے کی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے اور اس کے لیے انہوں نے پیٹی یا ٹوکری کا سہارا نہیں لیا بلکہ کیک ڈپلومیسی متعارف کروائی ہے اور وہ کسی تمیز کے بغیر صحافیوں کی سالگرہ کے روز ان کے دفاتر میں کیک بھیج دیتے ہیں مجھے ان کے اس عمل میں کوئی مفاد نظر نہیں آتا کیونکہ زیادہ تر ان کا کیک تو متعلقہ صحافی موصول ہو جاتا ہے لیکن وہ خود نہیں آتے
قیصر شریف نے یہ سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کر رکھا ہے اور اپنے اس عمل سے وہ مسلسل ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں میرے خیال میں وہ سوشل میڈیا سے صحافیوں کی تاریخ پیدائش کی معلومات لیتے ہیں اور پھر متعلقہ صحافی سے رابطہ کر کے کیک روانہ کر دیتے ہیں ان کے اس عمل کو سراہنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی حوصلہ افزائی ہو آج کے گھٹن کے ماحول میں وہ صحافیوں کے لیے چند لمحے تفریح کا سبب بن رہے ہیں اور یقینی طور پر وہ صحافت کے ساتھ دیگر شعبوں میں بھی اپنے تعلقات والوں کو کیک بھیجتے ہوں گئے۔

