وزیراعظم کیوں شہزاد اکبر سے ناراض تھے؟
وزیراعظم عمران خان صاحب عوام سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن کے احتساب کو جہاد قرار دے رہے تھے۔ پتا نہیں لیکن کیا ہوا کہ اس کے اگلے روز اس جہاد میں ان کے سالار لشکر شہزاد اکبر صاحب میدان جہاد چھوڑ کر خود بھاگ نکلے یا ریاست مدینہ ثانی کے حکمران نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے انہیں استعفے پر مجبور کر دیا۔ شہزاد اکبر صاحب اس حکومت سے فارغ ہونے والے پہلے شخص نہیں لیکن ان کی اچانک فراغت پر چہ میگوئیاں اس لیے زیادہ ہو رہی ہیں کیونکہ وہ وزیراعظم کے اتنے چہیتے تھے کہ ان کی خاطر فردوس عاشق اعوان، زلفی بخاری اور ندیم بابر جیسے کئی لوگوں کو اقتدار سے فراغت کا صدمہ برداشت کرنا پڑا۔
یہی نہیں بلکہ شہزاد اکبر کی خاطر عمران خان صاحب نہ صرف جہانگیر سے دور ہوئے بلکہ ان کی وزیراعظم ہاؤس میں رسائی تک بند کرا دی۔ حالانکہ یہ بات عمران خان صاحب بخوبی جانتے ہیں کہ جہانگیر ترین اپنے سرمائے اور جہاز کا بے دریغ استعمال نہ کرتے تو وہ وزیراعظم ہاؤس میں آسانی سے براجمان نہیں ہو سکتے تھے۔ لہذا سوچنے کی بات ہے آخر ان کی فراغت کا انتہائی فیصلہ کیوں ہوا؟ کہنے والے اب اس متعلق مختلف کہانیاں بیان کر رہے ہیں۔
ایک کہانی یہ بیان کی جا رہی ہے کہ جب بھی وزیراعظم شہزاد اکبر سے اپوزیشن پر بنائے گئے کرپشن کیسز کی بابت استفسار کرتے تھے تو جواباً وہ رٹی رٹائی ایک ہی لمبی چوڑی کہانی ہر بار دہرا دیتے تھے۔ بتایا جا رہا ہے کہ وزیراعظم صاحب کے دل میں شہزاد اکبر کے خلاف بداعتمادی کا آغاز اس وقت ہوا جب ایف آئی اے نے وزیر اعظم کو بریفنگ دی کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز پر 27 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا کیس تیار ہو رہا ہے۔
لیکن جب کیس تیار ہوا تو یہ 27 نہیں بلکہ 16 ارب روپے کی منی لانڈرنگ کا تھا اور اس کا بھی چھ مہینے تک چالان جمع نہیں ہو سکا اور جب چالان جمع ہوا تو وہ نا مکمل تھا۔ اس کیس میں کئی مرتبہ عدالت نے ایف آئی اے پر برہمی کا اظہار بھی کیا۔ لہذا وزیراعظم صاحب اس کیس میں تاخیر اور ناکامی کا ذمہ دار شہزاد اکبر کو سمجھ رہے تھے۔ اس کے علاوہ برطانیہ کی کرائم ایجنسی کی طرف شہباز شریف اور سلمان شہباز کو ملنے والی کلین چٹ پر بھی وزیراعظم شہزاد اکبر سے شدید ناراض تھے کہ انہوں نے برطانیہ میں یہ مقدمہ درست انداز میں پیش نہیں کیا۔
کہنے والے یہ بھی کہہ رہے ہیں ایک پراپرٹی ٹائیکون کے برطانیہ میں پکڑے جانے والے پیسوں کو سپریم کورٹ کی جانب سے عائد کی گئی جرمانے کی رقم میں ایڈجسٹ کرنے جیسی تاریخ ساز کامیابی کے بعد شہزاد اکبر صاحب کا مشن مکمل ہو گیا تھا۔ لہذا شہزاد اکبر صاحب خود سمجھ رہے تھے انہیں مزید اس عہدے پر کام کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ خیر جتنے منہ اتنی باتیں۔ وجہ بہرحال جو بھی ہو سوال یہ ہونا چاہیے کہ وطن عزیز سے لوٹ مار کی بدولت باہر منتقل ہوئے سات سو ارب روپے جن کی نشاندہی ایک سے زائد بار شہزاد اکبر صاحب کر چکے تھے ان کا اب کیا بنے گا؟
کیا شہزاد اکبر کی رخصتی کے ساتھ ہی اس رقم کا ذکر خیر بھی ختم ہو جائے گا یا اس کی بازیابی کے لیے احتساب کا علم اٹھانے والی نئی شخصیت کو بھی مراعات اور مواقع ملتے رہیں گے؟ خبریں چل رہی ہیں کہ شہزاد اکبر کا منصب لاہور سے تعلق رکھنے والے ایک اور قانون دان سنبھالیں گے۔ دعا کریں کہ اللہ پاک انہیں شہزاد اکبر سے بھی زیادہ لگن اور حوصلہ عطا فرمائے اور ان کی جدوجہد کے طفیل وزیراعظم صاحب کا جہاد کامیابی سے ہمکنار ہو۔
ایک جانب وزیراعظم اٹھتے بیٹھتے احتساب اور قانون کی حکمرانی کی باتیں کرتے ہیں دوسری طرف عالمی اداروں کی رپورٹس یہ ثابت کر رہی ہیں کہ ان کی حکومت کرپشن کی روک تھام میں مکمل ناکام رہی ہے۔ حالیہ دنوں ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کے جاری کردہ کرپشن پرسیپشن انڈیکس (سی پی آئی) برائے سال 2021 میں پاکستان 180 ممالک میں 140 ویں نمبر پر آ گیا ہے جبکہ گزشتہ برس پاکستان سی پی آئی رینکنگ میں 124 ویں نمبر پر تھا۔ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے سی پی آئی 2021 ء میں انکشاف کیا ہے کہ قانون کی حکمرانی اور ریاستی گرفت کی عدم موجودگی سے پاکستان کے سی پی آئی اسکور میں 16 درجے کی نمایاں تنزلی ہوئی۔
یہ پہلی بار نہیں ہوا کہ تحریک انصاف کی حکومت میں کرپشن میں اضافے کا بتایا گیا ہے بلکہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان کے اسکور میں ہر سال کمی آ رہی ہے۔ سال 2019 میں وطن عزیز اس فہرست میں 120 ویں، سال 2020 میں 124 ویں اور سال 2021 میں مزید گر کر 140 ویں نمبر پر پہنچ گیا ہے۔ پہلے دو سال وزیراعظم اور ان کے رفقاء حسب روایت یہ الزام بھی ماضی کی حکومتوں پر ڈالتے رہے کہ اس رپورٹ کی تیاری میں جو اعداد و شمار استعمال ہوئے وہ پرانے ہیں اور ایک حکومتی ترجمان نے تو پچھلے سال اپنے جھوٹ کو سچ ثابت اور قوم کو گمراہ کرنے کے لیے ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی ایک پرانی رپورٹ کی دستاویزات بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر دی تھی۔
تین سال گزرنے کے بعد اب چونکہ مزید یہ بہانہ کارگر نہیں ہو سکتا تھا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں استعمال کیا گیا ڈیٹا پچھلے دور حکومت کا ہے لہذا اس مرتبہ مذکورہ ادارے پر ہی تعصب کا الزام عائد کرتے ہوئے حکومتی ترجمانوں نے پینترا بدلا ہے کہ اس قسم کی رپورٹس کی کوئی اہمیت نہیں۔ اسی پر بس نہیں بلکہ وزیر اطلاعات نے تو اس ادارے کے پاکستان میں نمائندے کا لنک بھی نون لیگ سے ڈھونڈ نکالا ہے۔ حالانکہ پچھلے ادوار میں اسی ادارے کی کرپشن کے بارے رپورٹس کا ہمارے وزیراعظم صاحب صبح شام حوالہ دے کر مخالفین کو لعن طعن کا نشانہ بنایا کرتے تھے۔
حکومت کے پرجوش ترجمان اور حامی نجانے کیوں یہ سمجھتے ہیں کہ آج کے دور میں بھی کسی کے ماضی و حال کے فرمودات کا تضاد پوشیدہ رہ سکتا ہے۔ ریگولر اور سوشل میڈیا پر اب آئی ایم ایف نہیں جاؤں گا خودکشی کرلوں گا اور فلاں ملک میں کشتی ڈوبنے پر حکمراں استعفی دے دیتا ہے کی طرح ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹس کی بنیاد پر ماضی کی حکومتوں کے خلاف دیے گئے عمران خان کے تنقیدی بیانات بھی وائرل ہیں۔ اس ہزیمت کے باوجود بھی اپنی کارکردگی پر نظر ڈالنے کے بجائے حسب روایت جھوٹ اور بہتان پر مبنی حکومتی طرز عمل کو محتاط سے محتاط الفاظ میں بھی شرمناک ہی کہا جا سکتا ہے۔ حیرت ہے کہ اب بھی وزیراعظم فرما رہے ہیں اقتدار ملنے کے بعد نوے دن میں انہوں نے کرپشن ختم کر دی تھی۔ کیا ریاست مدینہ کے نام لیواؤں کو یہ طرز عمل زیب دیتا ہے۔ نہایت احترام سے عرض ہے بیشک جھوٹ بہتان اور دروغ گوئی کے اپنے ہی قائم کردہ ریکارڈ توڑتے رہیں کم از کم ریاست مدینہ کا نام لینا اب چھوڑ دیں۔


