شہزاد اکبر کی قربانی سے بلا نہیں ٹلے گی


نجی چینل کے لائیو ٹاک شو میں اسد عمر کے اس اعتراف نے کہ نوازشریف کو بیرون ملک بھجوانے کا فیصلہ اسی وزیراعظم کا تھا جس نے  گذشتہ پانچ برس سے ایک ہی رٹ لگائی ہوئی تھی کہ چوروں کو نہیں چھوڑے گا اور این آراو نہیں د ے گا۔ گوکہ اسد عمر نے اعتراف یہ ثابت کرنے کی غرض سے کیا کہ عمران خان سلیکٹ نہیں اور فیصلے خود کرتا ہے ۔ احتساب کے بیاںئے میں مخمور ٹی وی اینکر اور عمران خان کے حامیوں کو حیران و شرمسار کر گیا۔
ایماندارحکومت کے ماتھے کا جھومر بننے والی ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ جاری ہونے سے ایک روز قبل وزیر اعظم عمران خان کے مشیر احتساب شہزاد اکبر مستعفی ہو گئے ۔ حکومتی سطح پر یہی بتایا گیا کہ وہ وزیراعظم کا احتساب مشن کامیاب کرنے میں ناکام رہے ۔
جب میاں نواز شریف کو حکومتی رضامندی پر عدالت سے بیرون ملک جانے کی اجازت ملی تھی تب میڈیا میں ذرائع کے حوالے سے ایسی دیو ملائی خبری کہانیاں  لانچ کی گئی جن  سے تاثر پھیلایا گیا تھا کہ عمران خان کی مرضی کے خلاف عدالت نے فیصلہ دیا۔ اقتدار کی غلام گردشوں می یہ بھی دیوملائی کہانی سینہ گزٹ سنائی  گئیں کہ اسٹبلشمنٹ نواز شریف کو بیرون ملک جانے دینا چاہتی تھی مگر خان صاحب راضی نہیں تھے۔
گذشتہ تقریبا پون چار برس میں قوم کو باربار باور کروایا جاتا رہا کہ 2018 الیکشن شفاف تھا اور چوروں، ڈاکوؤں، کرپٹ، بد دیانت لوگوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے عمران خان کو ووٹ ملے، کیونکہ احتساب عمران خان کا سب سے بڑا نعرہ تھا۔ اب شیخ رشید یہ اعتراف کرکے نواز شریف کو ہم نے خود بھیجا، ہماری ہی غلطی  ہے۔ اس غلطی کا الزام بھی نواز شریف کے سر تھونپ رہےہیں۔
وفاقی وزیرِ داخلہ نے موقف اختیار کیا کہ نواز شریف سب کی آنکھوں میں دھول جھونکنے میں کامیاب ہوئے اور باہر چلے گئے ۔ یہ موقف صرف اور صرف وزیراعظم اور انکی کابینہ کی اہلیت پر سوالیہ نشان لگا تا ہے۔ اپوزیشن تو خیر پہلے دن سے ہی یہ کہہ رہی ہے ۔ اور حکومت کے ہر یو ٹرن پر کہہ رہی ہے۔
بعین معاملہ موجودہ حکومت میں کرپشن بڑھنے کا ہے ۔ ٹرانسپیرانسی انٹریشنل کی رپورٹ پر حکومت کے چھوٹے، موٹے، دبلے اور ہر وقت اللہ توبہ کرنے والے وزیر یہ قرار دے رہے ہیں کہ ٹرانسپیرانسی انٹرنیشنل رپورٹ میں حکومتی سطح پر کرپشن کی بات نہیں کی گئی بلکہ یہ نچلی سطح پر کرپشن کی نشاندہی ہے ۔ جیسے نچلی سطح حکومت کے دائرہ اختیار سے باہر ہو۔
عوام کی یاداشت میں چینی اسکینڈل ، گندم اسکیڈل،  تو ابھی تازہ ہیں جس سے اس حکومت میں مہنگائی کا آغاز ہوا اور بھی کئی سکینڈلز جن میں حکومتی زراء کے نام شہ سرخیوں میں شائع ہوئے ۔ گو کہ ” شاہ احتساب ” نے ان اسکینڈلز اور خیبرپختونخوا احتساب کمیشن  پر منتر پڑھوا کر فائلوں میں تو دفن کر دیا مگر یہ عوام کے ذہنوں میں زندہ رہیں گے ۔
 مملکت خدا داد میں نااہلی تسلیم کرکے اقتدار چھوڑنے کی روایت نہیں رہی ۔ ملک کو ریاست مدینہ بنانے کے داعی موجودہ حکمران بھی اتنے ایماندار نہیں کہ اپنا احتساب خود کریں اور نااہلی کا اعتراف کرکے مثال بنیں ۔ ایسی امید بھی نہیں باندھی جا سکتی ۔ تاہم ایک بات طےہے کہ مکافات عمل میں غلطیوں کا خمیازہ بھگتنا طے ہوتا اور نتیجہ صورت نشان عبرت تاریخ میں رقم ہوتا آیا ہے۔
اب سوال یہ نہیں کہ ” بندہ ایماندار ہے کہ نہیں ” بلکہ سوال یہ ہے کہ ساڑھے تین برس کی بری حکمرانی کے باعث عوام میں وزیراعظم  اور حکومتی اتحاد میں شامل جماعتوں کا بھرم ٹوٹ چکا ہے اورجو تلخی عوام کو درپیش ہے اسے حکمران بھان متی کنبہ عذریت پر مبنی سیاسی بیانئے کے منتر سے کسی طور دھندلا سکتا ہے ؟ کیا شہزاد اکبر کی بلی سے مکافات عمل کی بلا ٹل سکتی ہے ؟
Facebook Comments HS