سٹیٹ بنک بل کی منظوری: حکومت کی کامیابی یا پاکستان کی رسوائی؟


وزیر اطلاعات فواد چوہدری نے سینیٹ میں اسٹیٹ بنک کو خود مختاری دینے والے بل کی منظوری پر قوم کو مبارک باد دی ہے اور اسے عمران خان کی ایک اور کامیابی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن اکثریت کے باوجود بل کا راستہ نہیں روک سکی کیوں کہ ’عمران خان کے آگے سب ڈھیر ہیں‘۔ تاہم اپوزیشن پر بھاری پڑنے والی حکومت کو یہ بھی سوچنا چاہئے کہ آئی ایم ایف سے ایک ارب ڈالر وصول کرنے کے لئے پاکستان کو کس قدر رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
پاکستان متعدد بار عالمی مالیاتی فنڈ سے امدادی پیکیج لے چکا ہے۔ ان میں کچھ مکمل کئے گئے اور کچھ بیچ میں ادھورے چھوڑ دیے گئے۔ اس عمل کے دوران متعدد بار پاکستانی حکومت کو آئی ایم ایف کی کچھ پابندیاں اور معاشی اصلاحات کی شرائط بھی ماننا پڑیں ہوں گی۔ لیکن کسی بھی حکومت کے دور میں اور کسی بھی موقع پر آئی ایم ایف نے پاکستان کو یوں دباؤ میں لانے اور ایک سخت گیر مؤقف کو بہر طور تسلیم کرنے پر مجبور نہیں کیا ہوگا کہ پہلے سے عائد شرائط میں ایک حرف کی تبدیلی سے بھی انکار کیا گیا ہو۔ عالمی اداروں اور دیگر ممالک سے لین دین کرتے ہوئے تمام ممالک کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یا مذاکرات کے دوران دشواریاں پیش آتی ہیں لیکن کبھی ان مشکلات اور شرائط پر یوں عام بحث کر کے کسی ملک کی بے چارگی کو تماشہ نہیں بنایا جاتا جیسا سلوک اس وقت پاکستان کے ساتھ روا رکھا گیا ہے۔
اس صورت حال کی تمام تر ذمہ داری عمران خان اور موجودہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ وہ سیاسی معاملات کی طرح اقتصادی اور مالی امور کو بھی نعرے بازی کے ذریعے طے کرنا چاہتی ہے۔ عمران خان کو لگتا ہے کہ وہ کسی بھی ادارے یا ملک کو آنکھیں دکھائیں گے اور وہ ان کے سامنے ڈھیر ہوتے چلے جائیں گے۔ یہ خود پرستی سیاسی طور سے تقریریں کرتے ہوئے اور پاکستانی عوام کے جذباتی استحصال کے کام تو آ سکتی ہیں لیکن عالمی اداروں کے ساتھ معاشی امور پر معاملات طے کرتے ہوئے نہایت احتیاط، ذمہ داری اور سوجھ بوجھ سے کام لینا پڑتا ہے۔ عمران خان کو نہ تو خود کسی معاملہ کی فہم ہے اور نہ ہی وہ معیشت کی درستی کے لئے معاونین اور ماہرین کی رائے سن کر کوئی لائحہ عمل اختیار کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ان کا فرمایا ہوا ہی حرف آخر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنے ارد گرد ایسے خوشامد پرستوں کا گروہ اکٹھا کر لیا ہے جو ان کی ہاں میں ہاں ملا تا ہے اور حقائق سے وزیر اعظم کو آگاہ کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ خود پسندی کے اسی مزاج کی وجہ سے عمران خان کی حکومت میں مالی شعبہ کی کسی بھی اہم پوزیشن پر کوئی بھی شخص بہت دیر تک فائز نہیں رہ سکا۔ جب کسی بھی شخص کو اندازہ ہوتا ہے کہ وزیر اعظم نہ تو بات مانتے ہیں اور نہ ہی صورت حال کو سمجھتے ہیں تو وہ مجبور ہو کر خود اپنا ہی راستہ علیحدہ کرنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملہ میں بھی یہی صورت حال پیش آئی ہے۔
پہلے تو عمران خان یہ نعرے لگاتے ہوئے برسر اقتدار آئے تھے کہ آئی ایم ایف جیسے ادارے سے امداد لینے کی بجائے ’خود کشی‘ کرنا بہتر ہے۔ ان کا خیال تھا کہ وہ جوں ہی زمام اقتدار سنبھالیں گے تو مالی سہولت کے راستے خود بخود کھل جائیں گے۔ حالانکہ اگر وہ صرف اپنی نام نہاد سیاسی جدوجہد سے ہی سبق سیکھ لیتے تو انہیں اندازہ ہو سکتا تھا کہ کوئی بھی کوشش اسی وقت کامیاب ہوتی ہے جب اس کے لئے ’قابل قبول‘ طریقے اختیار کئے جاتے ہیں۔ عمران خان تو کرکٹ کھیلنے کے زمانے سے قومی ہیرو کے منصب پر فائز تھے جس میں 1992 کا ورلڈ کپ جیتنے کے بعد اضافہ ہوا تھا۔ لیکن جب انہوں نے سیاست شروع کی تو وہ میانوالی کی نشست کے سوا کہیں سے کامیابی حاصل نہیں کرسکے۔ حتی کہ 2012 کے لگ بھگ انہیں ان ذرائع تک رسائی حاصل ہوئی جو ملک میں اقتدار کا راستہ ہموار کرنے کی شہرت رکھتے ہیں۔ اسی کا نتیجہ تھا کہ ایک نشست جیتنے والی تحریک انصاف 2013 کے انتخابات میں تیس سے زائد سیٹیں جیتنے میں کامیاب ہو گئی اور شاہ محمود قریشی اور شیخ رشید جیسے زمانہ ساز سیاست دان اس کے ہم سفر ہو گئے۔
2014 کے دھرنے میں عمران خان بخوشی ملک کی منتخب حکومت کو کمزور کرنے کے منصوبہ میں ہتھیار کے طور پر استعمال ہوئے اور پاناما پیپرز سامنے آنے کے بعد نواز شریف کے خلاف مہم جوئی میں ان کا کاندھا اور زبان استعمال کی گئی۔ اسی کے انعام میں انہیں 2018 کے انتخابات میں کامیابی اور پھر وزارت عظمی کا عہدہ نصیب ہوا۔ اس سفر میں ان کے تمام نظریاتی ساتھی راستے میں رہ گئے اور فواد چوہدری جیسے لوگ جو ہر چڑھتے سورج کو سلام کرتے ہیں، ان کے دست و بازو بن گئے۔ ایسے ساتھیوں کی مدد سے عمران خان اگر کوئی انقلاب برپا کرنے کا خواب دیکھتے بھی ہیں تو اسے ان کی سیاسی ناپختگی اور خام خیالی ہی کہنا چاہئے۔ اقتدار تک پہنچنے کی اس سیاسی ’جد و جہد‘ کا ایک ہی سبق ہے کہ پاکستان میں اقتدار حاصل کرنے کے لئے درپردہ سازشوں کا حصہ بننا پڑتا ہے اور بعض طاقت ور اداروں کی ضرورتیں پوری کرنے کی ضمانت دینا ہوتی ہے ۔ عمران خان جب تک یہ سبق نہیں سیکھ سکے، انہیں کوئی بڑی کامیابی نصیب نہیں ہوئی لیکن جوں ہی انہوں نے اصولوں کو چھوڑ کر صرف حصول اقتدار کے لئے کوشش شروع کی وہ چند برس میں ہی اس مقصد میں کامیاب بھی ہو گئے۔
آئی ایم ایف جیسے عالمی اداروں کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے بھی نعرے بازی اور اصول پسندی کی بجائے ٹھوس حقائق کی بنیاد پر احتیاط سے بات چیت کے ذریعے معاملات طے کئے جاتے ہیں ۔ یہ عالمی ادارہ امریکہ اور اس کے چند بڑے حلیف ممالک کی مرضی و منشا کے ساتھ ہی فیصلے کرتا ہے۔ اس کی ایک وجہ ان ممالک کی سیاسی و سفارتی طاقت بھی ہے لیکن عالمی مالیاتی فنڈ کو وسائل بھی انہیں ممالک سے فراہم ہوتے ہیں۔ اس لئے آئی ایم ایف سے معاونت کے خواہاں کمزور معیشت کے حامل ممالک امریکہ کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی پیدا نہیں کرتے اور اختلافات کو بین الملکی مذاکرات کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔ عمران خان کی حکومت میں در پردہ سفارت کاری کے اس طریقہ کو ترک کر کے للکارنے اور میڈیا میں گفتگو کے ذریعے دباؤ ڈالنے کا ہتھکنڈا اختیار کیا گیا۔ یہ طریقہ کامیاب نہیں ہوسکا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ پاکستان یک طرفہ طور سے دنیا کے ساتھ تعلقات کی نوعیت تبدیل کرنے کے دعوے کرتا ہے لیکن واشنگٹن سے لے کر ریاض اور بیجنگ تک کے ساتھ فاصلے پیدا ہوچکے ہیں اور پاکستان کو سفارتی سرد مہری کی بدترین صورت حال کا سامنا ہے۔
سابق وزیر خزانہ حفیظ شیخ نے طویل مذاکرات کے بعد آئی ایم ایف کے ساتھ تفصیلی معاہدہ کیا تھا لیکن نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر انہیں مارچ 2021 میں حکومت سے نکال دیا گیا اور اس عہدہ پر شوکت ترین فائز ہو گئے۔ انہوں نے بجٹ کی تیاری میں عالمی مالیاتی فنڈ کے ساتھ چھے ارب ڈالر کے مالی پیکیج کے لئے کئے گئے معاہدے کی شرائط پر عمل کرنا ضروری نہیں سمجھا اور قومی اسمبلی میں تقریر کرتے ہوئے اعلان کیا کہ آئی ایم ایف کو رعایت دینا پڑے گی کیوں کہ حکومت عوام دشمن شرائط قبول نہیں کر سکتی۔ جن شرائط کو گزشتہ سال ’عوام دشمن ‘ کہا جا رہا تھا ان میں پٹرولیم مصنوعات پر محصول کی شرح اور سٹیٹ بنک کی خود مختاری کی شرائط سر فہرست تھیں۔ اس کے بعد آئی ایم ایف نے مالی پیکیج کی اقساط ادا کرنا بند کر دیں اور شوکت ترین کئی ماہ تک اپنے ساتھیوں کے ساتھ واشنگٹن کے چکر لگا کر کچھ رعایت حاصل کرنے کی کوشش کرتے رہے لیکن انہیں کوئی رعایت نہیں مل سکی۔ مالی دباؤ اور بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے کی صورت حال میں حکومت کو بہر حال آئی ایم ایف ہی کی شرائط پوری کرنے کے لئے منی بجٹ لانا پڑا اور اب سٹیٹ بنک کی خود مختاری کا بل منظور کروایا گیا ہے۔
جس بل کی منظوری کو فواد چوہدری اپوزیشن کی شکست اور عمران خان کی سرخروئی قرار دے رہے ہیں، اس کے ذریعے درحقیقت پاکستان کی خود مختاری اور قومی سلامتی پر کنٹرول کے لئے عالمی مالی ادارے کی شرائط کو تسلیم کیا گیا ہے۔ حکومت اگر بہتر سفارت کاری کا مظاہرہ کرتی اور آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات سے پہلے سیاسی بیان بازی کے ہتھکنڈے اختیار نہ کرتی تو شاید کوئی رعایت حاصل کی جا سکتی تھی۔ لیکن اس معاملہ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا ذریعہ بنا کر آئی ایم ایف سے کسی بھی رعایت کا راستہ مسدود کر لیا گیا ۔ اس کے علاوہ واشنگٹن کے ساتھ ’میڈیا سفارت کاری‘ کا طریقہ اختیار کر کے اس معاملہ میں وہاں سے ملنے والی کسی امداد کے امکان کو بھی ختم کر دیا گیا۔
اس کے بعد حکومت کے پاس اس تکلیف دہ صورت حال سے باہر نکلنے کا ایک ہی راستہ باقی بچا تھا کہ اپوزیشن کے ساتھ پارلیمانی مفاہمت کا راستہ اختیار کیا جاتا۔ اس کا اشارہ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بہت پہلے دے چکے تھے۔ لیکن حکومت نے مفاہمت کی بجائے اپوزیشن لیڈروں کی کردار کشی کے ذریعے تصادم کے راستہ کو ترجیح دی ۔ اسی کے نتیجہ میں منی بجٹ اور اسٹیٹ بنک بل کے حوالے سے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن نے سخت مؤقف اختیار کیا۔ حکومت کو سینیٹ سے بل منظور کروانے کا ایجنڈا بار بار ملتوی کرنا پڑا اور ہر بار آئی ایم ایف کے بورڈ سے درخواست کرنا پڑی کہ وہ پاکستان کو دی جانے والی قسط کے بارے میں حتمی فیصلہ مؤخر کردے۔ میڈیا میں سامنے آنے والی یہ خبریں پوری دنیا پر یہ واضح کرتی رہی ہیں کہ بزعم خویش ایٹمی صلاحیت کا حامل اور جنوبی ایشیا میں بڑی طاقت ہونے کا دعویٰ کرنے والا ملک ایک ارب ڈالر کی قسط کے لئے کس طرح آئی ایم ایف کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوچکا ہے۔ حکومت غیر ضروری انا پسندی اور سیاسی کم فہمی کا مظاہرہ نہ کرتی تو پاکستان کو اس شدید عالمی سفارتی ہزیمت سے بچایا جاسکتا تھا۔
اب فواد چوہدری سٹیٹ بنک کے بل کی منظوری کو عمران خان کی کامیابی اور اپوزیشن کی شکست قرار دے رہے ہیں لیکن یہ تسلیم نہیں کرتے کہ حکومت کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے ملک کی عالمی شہرت اور سفارتی پوزیشن کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سٹیٹ بنک بل کے بارے میں کابینہ میں انہی نکات پر تشویش کا اظہار ہوتا رہا ہے جن کی طرف اپوزیشن نے نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’پاکستان کی خود مختاری کو قرض دینے والے عالمی اداروں کی نگرانی میں دے دیا گیا ‘۔ اب حکومتی ترجمان اسے اپنی حکمت اور سیاسی قوت کی کامیابی کہہ کر اپنے تئیں اپوزیشن میں دراڑ ڈالنے کی کوشش کر رہا ہے۔ حالانکہ اس بل کی صورت میں ملکی مالی معاملات پر اسلام آباد کے اختیارات کو محدود کیا گیا ہے۔ یہ اختیار واپس لینے کے لئے پاکستان کو طویل سفر درپیش ہے۔

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 2170 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments