کپتان کی دھمکی: حکومت کے خاتمے کا ڈی ڈے کب ہو گا؟


بالآخر بلی تھیلے سے باہر آ گئی ہے۔ جب سے کپتان کے اقتدار کا سنگھاسن ڈولنے لگا ہے۔ انہوں نے اسی طرح دھمکی آمیز رویہ اختیار کر لیا ہے جس طرح ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سے ہٹانے پر ہمالیہ کے رونے کا رونا رویا تھا۔ ہے۔ پوٹھوہاری زبان کی مشہور ضرب المثل ہے۔ روندی یاراں نوں لے لے کے نام بھرواں دے ( خاتون اپنے بھائیوں کا نام لے کر یاروں کو روتی ہے۔ ) بظاہر کپتان کا روئے سخن اپوزیشن ہے لیکن دھمکی کسی اور کو دے رہے ہیں جس کا نام لینے کا ان میں یارا نہیں تاہم انہوں نے ان قوتوں کو اپنا پیغام پہنچا دیا ہے جنہوں ان کی چھٹی کا فیصلہ کر لیا ہے۔

کپتان نے تیزی سے بدلتی ہوئی سیاسی صورت حال میں بروقت دھمکی دی ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان کے اقتدار کے لئے آئندہ دو ماہ انتہائی اہم ہیں۔ اپنے خلاف ہونے والی اپوزیشن کی از سر نو جتھے بندی کو دیکھ کر ایک بیان جاری کرنا ضروری سمجھا ہے۔ دراصل انہوں نے ان مخالف قوتوں کو ڈرانے کی کوشش کی ہے جو ان کو اقتدار سے ہٹانے کے لئے سرگرم عمل ہیں۔ عمران خان نے یہ دھمکی ایک ایسے پروگرام میں دی ہے جو اکثر و بیشتر اتوار کو "آپ کا وزیراعظم آپ کے ساتھ” کے نام سے سرکاری ٹیلی ویژن سے ٹیلی کاسٹ کیا جاتا ہے۔

اس پروگرام میں اس نوعیت کے فرمائشی سوالات کروائے جاتے ہیں جن کا وزیر اعظم نے جواب دینا ہوتا ہے۔ بظاہر یہ پروگرام لائیو ہوتا ہے لیکن بڑی چھان پھٹک کے بعد ہی کسی کو سوال کرنے کا موقع ملتا ہے۔ اس پروگرام میں یہ سوال پی ٹی آئی کے ایک عہدیدار سے کرایا گیا وزیر اعظم ایک سوال کے جواب میں ہی ان قوتوں کو دھمکی دینا چاہتے تھے جو ان کے اقتدار کے درپے ہیں۔ وہ کسی پریس کانفرنس یا جلسہ میں اس نوعیت کا بیان جاری کر کے اس تاثر کو تقویت نہیں دینا چاہتے تھے کہ انہوں نے سوچ سمجھ کر بیان دیا ہے بلکہ ایک سوال کے جواب میں ان کے منہ سے دھمکی نکل گئی وزیر اعظم نے جس انداز میں گفتگو کی ہے۔

اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ وہ کس قدر فرسٹیشن کا شکار ہیں۔ وہ اقتدار سے نکالے جانے کی صورت میں اپنی سٹریٹ پاور سیاسی جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتے ہیں۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیا تو اپوزیشن جماعتوں کے لئے زیادہ خطرناک ہوں گا اور میں سڑکوں پر نکل آیا تو آپ کے لئے چھپنے کی جگہ نہیں ہو گی اپوزیشن تو پہلے سڑکوں پر نکلی ہوئی ہے۔ پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی اپنے طور پر سیاسی قوت کا مظاہرہ کر رہی ہیں۔

سر دست اس بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ڈی ڈے کب ہو گا لیکن پی ڈی ایم کی سرگرمیوں سے یہ بات واضح ہو گئی ہے۔ وہ ہر قیمت پر 23 مارچ 2022 کو ہی لانگ مارچ کرے گی۔ وزیر اعظم عمران خان ایک سانس میں اپوزیشن کو قابل در خور اعتنا ء نہیں سمجھتے تو دوسرے سانس میں اپنے خطرناک ہونے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ یوں تو جس روز سے عمران خان نے اقتدار سنبھالا ہے۔ انہیں اقتدار سے ہٹانے کے لئے اپوزیشن لٹھ لے کر نکلی ہوئی ہے۔

جمعیت علما ء سلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمنٰ اکتوبر 2019 میں اپنی سٹریٹ پاور کا بھرپور مظاہرہ کر چکے ہیں۔ انہوں نے ہفتہ عشرہ پشاور موڑ اسلام آباد میں ڈیرے ڈال رکھے تھے لیکن مولانا فضل الرحمنٰ ریاستی اداروں کی منت سماجت اور عمران خان کو اقتدار سے نکالے جانے کا وعدہ لے کر واپس چلے گئے تھے۔ ان کے ساتھ کیا گیا وعدہ پورا تو نہ ہوا جس کے بعد انہوں سرپرائز دیا اور ستمبر 2020 ء میں پاکستان ڈیمو کریٹک مومنٹ تشکیل دے دی جس جوش و خروش سے پی ڈی ایم کا قیام لایا گیا ایسا دکھائی دیتا تھا کہ عمرانی حکومت چند دنوں کی مہمان ہے لیکن 6 ماہ بھی نہ گزرے تھے کہ اسمبلیوں سے استعفے دینے اور لانگ مارچ پر پی ڈی ایم اور پیپلز پارٹی کے راستے جدا ہو گئے کم و بیش 10 ماہ بعد دوبارہ مولانا فضل الرحمنٰ اور پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان رابطے بحال ہو گئے ہیں۔

ایک بار پھر امید کی کرن نظر آئی ہے کہ اپوزیشن کسی ایک نکتہ پر متحد ہو جائے گی۔ سر دست پارلیمنٹ سے باہر اپوزیشن متحد تو نہیں ہوئی البتہ پارلیمنٹ کے اندر اپوزیشن متحد ہو گئی ہے۔ پیپلز پارٹی نے 27 فروری 2022 ء کو مہنگائی کے خلاف مارچ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے تو شاہ محمود قریشی نے جو اباً کراچی کی طرف لانگ مارچ کی دھمکی دے دی ہے۔ بہر حال پی ڈی ایم کے تازہ ترین اجلاس میں 23 مارچ 2022 ء کو ہر صورت میں لانگ مارچ کرنے فیصلہ کیا گیا ہے۔

حکومت کی طرف سے راستوں کو ممکنہ طور پر بند کرنے کے خدشہ کے پیش نظر پی ڈی ایم نے اپنی حکمت عملی بھی تبدیل کر دی ہے۔ لانگ مارچ سے پہلے ہزاروں کارکنوں کو اسلام آباد کے اندر داخل کیا جائے گا۔ عمران خان اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف ہمیشہ سخت زبان استعمال کرتے ہیں اور ان کو چور اور ڈاکو کہنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے انہوں نے پروگرام میں کہا کہ میں ان گھٹیا لوگوں کے خلاف کھڑا ہونا جہاد سمجھتا ہوں، میں نے ان سے مفاہمت نہیں کرنی، دو خاندانوں (شریف اور زرداری) کو این آر او دینا ملک سے سب سے بڑی غداری ہے۔

انہوں نے افراتفری پھیلائی ہوئی ہے۔ انہوں میڈیا پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک چیز پراپیگنڈا اور جعلی خبر ہوتی ہے۔ جان بوجھ کر ملک میں فیک نیوز کے ذریعے مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مافیاز ہیں۔ ہمارا مقابلہ عام لوگوں سے نہیں، یہ سیاستدان نہیں مافیاز ہیں۔ میڈیا میں بیٹھے ہوئے لوگ ان کے ساتھ مل کر مسلسل مایوسی پھیلا رہے ہیں۔ میرا ان سے سوال ہے کہ اس کا کیا جواب ہے کہ شرح نمو 5 فیصد زائد کیسے ہوئی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا تھا کہ یہاں یک دم دودھ کی نہریں بہنے لگیں گی۔ ریاست مدینہ ایک دن میں نہیں بنے گی۔ اس میں وقت لگے گا۔ مجھے کہتے ہیں کہ میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف سے ہاتھ نہیں ملاتا لیکن میں شہباز شریف کو اپوزیشن لیڈر نہیں بلکہ قوم کا مجرم سمجھتا ہوں، قائد حزب اختلاف بہت بڑا رتبہ ہوتا ہے۔ یہ ڈیڑھ دو گھنٹے کی تقریر کرتے ہیں لیکن وہ تقریر نہیں جاب ایپلی کیشن ہوتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ عوام کو ذوالفقار علی بھٹو نے نکالا تھا جس پبلک میرے ساتھ نکلی ہے۔ اگر میں حکومت سے باہر نکل گیا تو اپوزیشن کے لئے زیادہ خطرناک ہوں گا۔ ابھی تک تو میں چپ کر کے بیٹھا ہوا ہوں، اگر میں سڑکوں پر نکل آیا تو اپوزیشن کے لئے چھپنے کی جگہ نہیں ہو گی کیونکہ اپوزیشن کو پہچان چکے ہیں۔

ایک خاتون نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ مہنگائی بہت ہو گئی ہے۔ اب ہمیں بتا دیں کہ کیا ہم تھوڑا سا گھبرا لیں؟ اس کے جواب میں وزیر اعظم نے کہا کہ ایک گھنٹے میں اپنے موبائل پر ساری معلومات مل جاتی ہے کہ کہاں کتنی مہنگائی ہے لیکن بدقسمتی ہے کہ مایوسی پھیلائی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تسلیم کرتا ہوں دنیا میں مہنگائی ہے۔ مہنگائی صرف پاکستان کا مسئلہ نہیں، تنخواہ دار طبقہ مشکل میں ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے مہنگائی کا احساس ہے۔ یہ ایسی چیز ہے جو مجھے کئی مرتبہ راتوں کو جگاتی ہے۔ ہمیں ماضی کی حکومت کا چھوڑا ہوا پاکستان کی تاریخ کا سب سے بڑا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ملا ہے۔

میری کچھ عرصہ قبل سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان سے ایک طویل نشست ہوئی جس کا موضوع گفتگو عمرانی حکومت کی ناکامیاں ہی تھا۔ چوہدری نثار علی خان جنہوں نے چپ کا طویل روزہ رکھا ہوا ہے  نے کہا کہ پاکستان بند گلی میں کھڑا ہے۔ حکومت اور اپوزیشن بھی بند گلی میں ہے۔ عمران خان کو لانے والے بھی بند گلی کی نکڑ پر کھڑے ہیں۔ کسی کو کوئی راستہ نظر نہیں آ رہا ہے۔ چوہدری نثار علی خان کی رائے ہے کہ اگر عمران خان کو قبل از وقت اقتدار چھوڑنے پر مجبور کیا گیا تو وہ شور شرابا کریں گے۔

عمران خان نے حکومت سے نکالے جانے پر جو دھمکی دی ہے۔ سب قوتیں ان کے واویلا مچانے کی صلاحیت سے پوری آگاہ ہیں کیونکہ جب عمران خان کو اقتدار سے نکالا گیا تو وہ یہ کہیں گے کہ ان کو کام نہیں کرنے دیا گیا اس لئے عمران خان کو اپوزیشن کی سٹریٹ پاور سے ان کو خود پارلیمان تحلیل کرنے پر مجبور کیا جائے گا۔ ممکن ہے۔ اتحادی سیٹی بجتے ہی عمران خان سے نظریں پھیر لیں اور تحریک عدم اعتماد کی کامیابی میں اپنا حصہ ڈالیں فی الحال یہ ون ملین ڈالر سوال ہے کہ عمران خان کی رخصتی کس طرح ہو گی لیکن عمران خان کی گھبراہٹ اور دھمکی آمیز رویہ اس بات کی عکاسی کر رہا ہے۔ آنے والے دو ماہ میں کچھ ہونے والا ہے جس کی انہیں بھی بھنک ہو گئی ہے۔

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ کی اسٹیئرنگ کمیٹی کا اجلاس مولانا فضل الرحمنٰ کی زیر صدارت منعقد ہوا ہے جس میں مسلم لیگ نون کے سینئر نائب صدر اور سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے 8 سفارشات پیش کیں جن کے مطابق لانگ مارچ کی تاریخ 23 مارچ سے تبدیل نہ کرنے اور پیپلز پارٹی کو لانگ مارچ میں شرکت کی اجازت دینے کی تجویز شامل ہے۔ مختلف شہروں سے قافلوں کو 23 مارچ کو اسلام آباد پہنچنے کہا جائے گا۔ اجلاس میں پی ڈی ایم سربراہ مولانا فضل الرحمن نے تجویز دی ہے کہ اگر اتحادی ایوان میں اپوزیشن کے موقف کی حمایت کریں تو عدم اعتماد کی بھی ضرورت نہیں رہے گی۔

مولانا فضل الرحمنٰ نے کہا ہے کہ 23 مارچ 2022 ء کو نماز ظہر کے بعد پی ڈی ایم اسلام آباد میں داخل ہوگی جب کہ پریڈ صبح کے وقت ہوتی ہے۔ لہذا کوئی تصادم نہیں ہو گا۔ عدم اعتماد تحریک، پارلیمانی نظام کا حصہ ہے۔ عدم اعتماد کے لیے جب تک تمام جماعتیں ایک پیج پر نہیں ہوتی تب تک کچھ نہیں کہا جاسکتا میاں نواز شریف نے مولانا فضل الرحمن کی تجویز کی حمایت کرتے ہوئے حکومت کی اتحادی جماعتوں سے فوری رابطے کرنے کی ہدایت کی ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قوم بیدار ہے۔ ان شا اللہ دودھ میں سے مکھی کی طرح انہیں اقتدار سے باہر کرے گی۔ شہباز شریف نے کہا کہ ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے دوسری بار گواہی دی کہ عمران نیازی حکومت کرپٹ اور چور ہے۔ عالمی ادارے کی رپورٹ فرد جرم ہے۔ لہذا کرپٹ حکمران استعفیٰ دیں۔ مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ عمران حکومت سے زیادہ کرپٹ، بدعنوان اور رشوت خور حکومت پاکستان کی تاریخ میں نہیں آئی۔

سپیکر پنجاب اسمبلی چودھری پرویز الٰہی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کی حکومت کے خلاف ہمیشہ یہی حکمت عملی ہوتی ہے کہ ہر چھوٹے بڑے مسئلے پر حکومت کو زچ کرے تاکہ حکومت اشتعال میں آ کر غلط فیصلے کر کے اپنا نقصان کرے جبکہ حکومت کی سلامتی اور بھلائی اسی میں مضمر ہوتی ہے کہ وہ اپوزیشن کے جال میں نہ آئے اور ٹھنڈے دل و دماغ سے اپنے فیصلے کرے۔ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے ہر مشکل وقت میں حکومت کا بھرپور ساتھ دیا ہے اور اس کو اپوزیشن کے پنجے سے چھڑایا ہے لیکن حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ بڑے بڑے فیصلے کرنے سے پہلے اتحادی جماعتوں سے بامقصد مشاورت کرنے کی روش اختیار کرے اور خواہ مخواہ اتحادیوں کو اپوزیشن کیمپ کی طرف نہ دھکیلے

چوہدری پرویز الہی کا بیان معنی خیز ہے جس میں انہوں گلہ کیا کہ حکومت اتحادیوں کو اپوزیشن کی طرف دھکیلنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اتحادیوں سے بامعنی مشاورت سے گریز کر رہی ہے۔ چوہدری پرویز الہٰی کا بیان بڑا معنی خیز ہے۔ اس پیغام میں عمران خان کو باور کرا گیا ہے کہ وہ انہیں اپوزیشن کی صفوں میں نہ دھکیلیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments