جامع مسجد دہلی، چاندنی چوک اور مرزا غالب کا محلہ بلی ماراں
1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک
جب میں نے پہلی مرتبہ جامع مسجد کو دیکھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میں لاہور کی بادشاہی مسجد کو دیکھ رہا ہوں۔ دونوں مساجد میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ مماثلت اس وجہ سے بھی ہے کہ دونوں ہی کے بنانے والے مغل بادشاہ تھے، یعنی شاہجہاں اور عالمگیر۔ ظہر کی نماز کے وقت مسجد کے شمال مشرقی کونے میں بے شمار کبوتر موجود تھے۔ لوگ انھیں دانا ڈال رہے تھے۔ ایک اور بات جو میں نے محسوس کی وہ یہ کہ مجھے یوں لگا کہ جیسے میں کراچی کی کسی بڑی مسجد میں ہوں جہاں اکثریت کا لباس سفید قمیص اور پاجامہ تھا اور زبان بھی ان جیسی ہی تھی۔
یہ مسجد جس کا اصل نام ”مسجد جہاں نما“ ہے لیکن اب اسے جامع مسجد دہلی کہا جاتا ہے۔ اس مسجد کو شاہ جہاں نے 1656 ء میں تعمیر کروایا تھا۔ اس مسجد کو بنانے کے لیے پانچ ہزار لوگوں نے پانچ سال تک کام کیا۔ شاہ جہاں نے بخارا سے سید عبدالغفور شاہ بخاری صاحب کو بلا کر اس مسجد کا افتتاح کروایا تھا۔ اس مسجد کے دو بڑے مینار ہیں جن کی بلندی تقریباً ایک سو تیس فٹ ہے۔ اس کے علاوہ اس مسجد کے تین گنبد بھی ہیں۔ مسجد میں پچیس ہزار لوگ بیک وقت نماز پڑھ سکتے ہیں۔
اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی کے بعد جہاں مسلمانوں پر برا وقت آتا ہے وہاں اس مسجد کے حالات بھی خراب ہوئے۔ انگریزوں نے اس کے متعلق بہت عجیب و غریب فیصلہ کیا۔ وہ اسے گرانا چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ بغاوت کرنے والے لوگوں کا مرکز اس مسجد میں واقع تھا لیکن بعد میں انھوں نے اپنا فیصلہ بدل لیا اور یوں مسجد کو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔
یہ اللہ کا گھر تھا اسے کون نقصان پہنچا سکتا تھا۔ یہ میرا ایمان ہے۔
اگر آپ کو دلی جانے کا موقع ملے تو آپ اس مسجد میں نماز کے لیے ضرور جائیں، مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کو بہت لطف آئے گا۔ ایک اونچی جگہ مسجد اور اس کے چاروں طرف بارونق بازار، ایک ناقابل فراموش منظر آپ کو مدتوں یاد رہے گا۔ نماز کے وقت بہت ہی خوبصورت اذان دی جاتی ہے اور لوگ جوق در جوق نماز کے لیے آتے ہیں۔ یہ منظر بہت ہی پر خوبصورت ہوتا ہے۔ لاہور کی بادشاہی مسجد پرانے لاہور شہر سے ایک طرف ہونے کی وجہ سے عام نمازوں میں اتنا رش نہیں ہوتا جتنا جامع مسجد دہلی میں ہوتا ہے۔ اس کی بنیادی وجہ اس مسجد کا شہر کے اندر ہونا ہے۔ اللہ رب العزت اس مسجد کے بنانے والوں کو اس کا بہترین اجر عطا فرمائے آمین۔
دہلی کے آٹھ دروازے
پرانی دلی کے مشرق میں دریائے جمنا بہتا ہے۔ لال قلعہ شہر اور دریا کے درمیان ہے اس لیے شہر کی طرف جانے والے آٹھوں دروازے شمال، مغرب اور جنوب کی طرف ہیں۔ میں شمال میں واقع کشمیری گیٹ سے شہر میں داخل ہوا تھا۔ ان دروازوں کی صورتحال بالکل لاہور کے دروازوں جیسی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے ماضی میں سارا شہر چاردیواری کے اندر تھا جس کے چاروں طرف بڑے بڑے گیٹ تھے جو آمدورفت کے لیے دن میں کھولے جاتے تھے۔ کچھ کی باقیات تو ابھی بھی ہیں لیکن وہ بہت اچھی حالت میں نہیں ہیں۔
ان کے نام بھی لاہور کے دروازوں کی طرح ہی ہیں، یعنی کشمیری گیٹ، موری گیٹ، لاہوری گیٹ، دہلی گیٹ وغیرہ وغیرہ۔ مجھے سب دروازوں میں جانے کا موقع تو نہیں ملا لیکن کشمیری اور موری گیٹ دیکھنے کا مجھے اتفاق ضرور ہوا۔ لاہور کے موری گیٹ میں سائیکل رکشہ نہیں ہے جبکہ اس وقت دلی میں سائیکل رکشہ عام تھا اور اسے چلانے والے اکثر لوگ مسلمان تھے۔ مجھے سوائے اس کے کوئی اور فرق محسوس نہ ہوا۔
ایک نوجوان رکشہ ڈرائیور سے میں نے بات کرنے کی کوشش کی۔
لیکن اس نے صرف اتنا کہا کہ صاحب ہمارا یہی مقدر ہے جو لکھنے والے نے لکھ دیا ہے۔
میں نے اس سے کہا کہ آپ اسے بدل سکتے ہیں۔
اگر آپ کوشش کریں اس نے جواب میں کہا
کہ کہنا آسان ہے لیکن کرنا بہت مشکل ہے۔
یہ کہہ کر اس نے اپنی سائیکل آگے بڑھا دی۔
اور میں ایسے بادشاہوں کے بنائے ہوئے قلعہ کی طرف چل پڑا جنھوں نے عمارات کو تعلیم و تربیت پر ترجیح دی۔
۔ آج پھر ان ہی کو سلام کرنے جا رہا ہوں۔
کہتے ہیں کہ اب دلی میں یہ سائیکل رکشہ ختم کر دیا گیا ہے۔ پاکستان میں بھی اکثر جگہوں پر سائیکل رکشہ ختم کر دیا گیا ہے۔ لیکن گزشتہ سال ڈیرہ اسماعیل خان میں مجھے سائیکل رکشہ کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے۔ اللہ کرے یہ بھی جلد ختم ہو جائے اور لوگوں کی مشقت میں کمی واقع ہو۔ آمین!
چاندنی چوک: جسے شاہجہاں کی بیٹی نے ڈیزائین کیا
کہتے ہیں کہ شاہجہاں کی تعمیر کردہ بیشتر عمارتوں کے پیچھے اس کی بیٹی جہاں آرا کا ہاتھ تھا۔ معلوم نہیں کہ یہ بات کہاں تک سچ ہے لیکن پرانی دلی کے چاندنی چوک کے متعلق سب کی یہ متفقہ رائے ہے کہ اسے جہاں آرا نے ہی ڈیزائن کیا تھا۔ یہ اپنی مثال آپ ہے۔ یہ چوک بھی شاہجہاں کے دور ہی کی ایک یادگار ہے۔ قلعہ اور جامع مسجد کے پاس یہ چوک نصف چاند کی مانند ہے اس میں سے تین بازار، اردو بازار، جوہری بازار اور فتح پوری بازار نکلتے ہیں۔
اس چوک کے درمیان ایک گھنٹہ گھر بنا دیا گیا ہے جہاں پر کبھی ایک تالاب ہوا کرتا تھا۔ تالاب کے پانی پر جب چاند کی روشنی پڑتی تھی تو اس سے منظر بے حد سہانا ہو جاتا تھا۔ اسی روشنی کی وجہ سے اس چوک کا نام چاندنی چوک رکھا گیا۔ قلعہ کے قریب ہونے کی وجہ سے، قلعہ کی خواتین کے لیے ایک دن مخصوص تھا جس دن وہ اس بازار سے خریداری کرتی تھیں۔ جب میں جامع مسجد سے اس چوک میں پہنچا تو مجھے محسوس ہوا کہ میں لاہور کے بھاٹی چوک میں ہوں، اسی طرح کا رش اور اسی طرح کا طرز تعمیر، سب کچھ ویسا ہی لگ رہا تھا، مجھے کوئی خاص فرق محسوس نہیں ہو رہا تھا۔
اس وقت چاندنی چوک میں موجود مختلف مارکیٹیں لوگوں کی دلچسپی کا باعث ہیں۔ مجھے خریداری سے کوئی دلچسپی نہ تھی لیکن میں پھر بھی مختلف مارکیٹوں میں گیا۔ مجھے جو بات مختلف لگی وہ دکانداروں کا رویہ تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ ان کی اردو تو بہت اچھی ہے لیکن لہجے میں سختی ہے، جو مجھے بھلی نہ لگی۔ میں نے کچھ لوگوں سے اس کا ذکر کیا تو انھوں نے میری بات کی تائید کی کہ ہاں ایسا ہی ہے۔ اس کی وجہ اہل دلی کا تفاخر ہو سکتا ہے۔
دلی کے مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ ان کے آبا و اجداد نے دلی میں بیٹھ کر پورے بھارت پر حکومت کی ہے۔ دوسری وجہ ان کا یہ بات سمجھنا بھی ہو سکتی ہے کہ وہ بھارت میں مسلمانوں کی تہذیب کے قدیمی وارث ہیں۔ یہ میرا خیال ہے جو کہ غلط بھی ہو سکتا ہے۔
حویلی مرزا غالب: ناقدری کی انتہا
میں نے چاندنی چوک میں ایک مناسب وقت گزارا۔ یوں تو آپ بھارت کے کسی بھی شہر میں جائیں تو آپ کو مختلف قومیت کے لوگ مل جاتے ہیں۔ لباس اور وضع قطع میں فرق ہی سے آپ کو معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ شخص کس قوم اور کس علاقے سے تعلق رکھتا ہے۔ چاندنی چوک میں مجھے محسوس ہوا کہ اس علاقہ کے لوگوں کی اکثریت ایک جیسے لباس یعنی قمیض پاجامہ وغیرہ پہنے ہوئے تھی اور وضع قطع سے وہ مسلمان لگ رہے تھے۔ میں نے وہاں بہت کم سکھوں کو دیکھا۔ مجھے تھوڑی حیرانی بھی ہوئی۔ بعد میں مجھے کسی نے بتایا کہ غیر مسلم لوگ جامع مسجد اور اس کے آس پاس جانے سے گھبراتے ہیں اور خاص طور پر رات کو تو بالکل نہیں جاتے۔ اس کی وجہ سوائے خوف کے اور کچھ نہیں ہو سکتی۔

چاندنی چوک کے بعد قریب ہی محلہ بلی ماراں میں مرزا غالب کی رہائش گاہ موجود تھی۔ اب میری اگلی منزل مرزا غالب کا گھر تھا۔ میں نے کسی سے ان کے گھر کا پتا پوچھا، جو مجھے آسانی سے مل گیا۔ مین بازار سے تھوڑا سا ہٹ کے ایک گلی نکلتی تھی جس کا نام گلی قاسم جان ہے۔ اس میں تقریباً پچاس گز کے بعد دائیں طرف ان کا گھر تھا۔ اس گھر میں مرزا غالب 1860 ء سے 1869 ء تک رہائش پذیر رہے۔
ایک بات کا مجھے کس قدر افسوس ہوا ہو گا جس کا اندازہ آپ خود بھی لگا سکتے ہیں، جب میں نے دیکھا کہ مرزا غالب کے گھر کے اندر کئی دکانیں بنی ہوئی ہیں اور ایک عظیم شاعر کے گھر کی کوئی بھی نشانی وہاں موجود نہیں تھی۔
میں چند لمحے وہاں کھڑا رہا۔ مجھ میں وہاں پر زیادہ دیر کھڑے ہونے کی ہمت نہیں تھی اسی لیے میں جلد ہی واپس بازار میں آ گیا۔ ایک عظیم شاعر کے ساتھ بھارت کی حکومت کا یہ سلوک مجھے پسند نہ آیا۔
مجھے سب سے زیادہ افسوس اہل دلی پر ہوا، ان کے اس سلوک کی وجہ سے جو انھوں نے مرزا غالب کے ساتھ کیا۔ اگر یہ کام حکومت نہیں کر سکتی تھی تو دلی والے اردو کی پہچان اور اردو کو بام عروج تک پہنچانے والے شاعر نثر نگار مرزا غالب کی قدردانی کا حق خود تو ادا کر سکتے تھے!
اب جب میں یہ سفرنامہ لکھ رہا ہوں، یعنی سفر کے پچیس سال بعد تو مجھے معلوم ہوا کہ حکومت ہند نے 1999 ء میں اس جگہ پر ایک عجائب گھر بنایا ہے اور اس حویلی کو قومی ورثہ قرار دیا ہے۔ یہ سب جان کر مجھے بے حد خوشی ہوئی۔
اب یہ ایک شاندار بلڈنگ ہے۔ جسے ہر طریقے سے سجایا گیا ہے، یہاں پر غالب سے متعلق بے شمار اشیا ءرکھی گئی ہے۔ غالب کے علاوہ بھی بے شمار نامی گرامی شاعروں کی تصاویر بھی موجود ہیں۔
اپنے مشاہیر کو یاد رکھنا ہم سب کا فرض ہے اسی کو تاریخ کہتے ہیں، ہم بھی تاریخ ہی بناتے ہیں اور ہماری آنے والی نسلیں بھی اپنی تاریخ ہی جاننا چاہیں گی۔








خوبصورت تاریخی تحریر۔ بہت شکریہ