بہاول پور میں اجنبی
مظہر اقبال مظہر کی کتاب ‘بہاولپور میں اجنبی’ پڑھی تو اندازہ ہوا کہ مظہر اقبال قصہ گو نہیں ہیں قصہ گر ہیں. کتاب کے ابتدائیہ میں مصنف کی اٹھان کی بھرپور جھلک موجود ہے. . پہلے ساری کتاب الٹ پلٹ کر دیکھی. کتاب کے پسِ ورق اور تعارف و تمہید میں پوری پانچ تصاویر ہیں. ان میں خود مصنف کی ایک بھی نہیں. یعنی اگر آپ مصنف کی صورت دیکھ کر کتاب پڑھنے یا نہ پڑھنے کا فیصلہ کرتے یں تو یہ کتاب آپ کے لیے نہیں ہے.
کتاب کا سر ورق کتاب کا خلاصہ ہے. جو عوامل اس کتاب کے ظہور کی وجہ بنے وہ سبھی سر ورق پہ حقیقی یا معنوی شکل میں موجود ہیں. یہ مصنف کی پہلی مطبوعہ تصنیف ہے اور اس میں انہوں نے زندگی کی بھٹی سے پک کر نکلنے بعد اس وقت کو گوندھا ہے جب وہ خود چاک پہ دھرے تھے اور کوزہ گر کی مہارت انکی صورت گری کر رہی تھی. پہلی تصنیف ہونے کے باوجود قلم کی مہار احساسات ‘ جذبات اور یادواشت کی روانی کو اتنی مشاقی سے قابو کیے ہوے ہے کہ کہیں بھی آپکو نو آموزیت نظر نہیں آتی. کہیں بیان خیال سے آگے نکلتا ہے نہ خیال بیان کو پیچھے چھوڑتا ہے. ایک توازن ہے جو ساتھ رہتا ہے.
یہ کتاب دو حصوں پہ مشتمل ہے. پہلے حصے میں ایک متجسس بے چین لڑکا جو کشمیری ہونے کے احساس سے لبالب بھرا ہے’ بہاولپور جاتا ہے اور جوانی کی ہجرت کی نفسیات کے بالکل برعکس سارے بہاولپور میں کشمیر دیکھتا پھرتا ہے. بہاولپور کی جتنی بھی تصویر کشی آپکو ملے گی اس پہ کشمیر سوپر امپوز ہوتا رہیگا. یہ ذہنی پختگی کا وہ درجہ ہے جو اوائلِ جوانی کے حصے میں کم ہی آتا ہے. جوانی تو مانوس اور حاصل شدہ سے فرار کے راستے ڈھونڈتی ہے. مگر یہاں مصنف ‘یہ بہاولپور ہے’ سے لے کر ‘بہاول پور کا صوفیانہ رنگ’ تک پلٹ پلٹ کر اپنے اصل تک جاتا نظر آتا ہے. یہ حصہ بہاولپور کی تاریخ ‘ فنِ تعمیر ‘ثقافت اور تہذیب کی ایسی تدوین ہے جسے ایک پردیسی نوجوان کے مشاہدے اور حافظے نے محفوظ کیا ہے. اس لیے اس میں نہ تاریخ دانی کا کھردرا پن ہے نہ عمرانیاتی قواعد کی بوریت. آپ کہانی سمجھ کر پڑھ لیتے ہیں اور گئے برسوں کی ڈوگر برادرز کی مطبوعات کی طرح ‘بہاولپور اور دنیا میں کون کیا ہے’ قسم کی اپڈیٹڈ معلومات بھی حاصل کر لیتے ہیں. جگہ جگہ مزاح کا رنگ بھی ہلکی سی جھلک دکھاتا ہے. جیسے مصنف قاری سے اپنا یہ رخ چھپانا چاہتا ہو مگر چھپا نہ پا رہا ہو. ممکن ہے مصنف کے پکے رنگوں میں مزاح کا رنگ بھی ہو جو کتاب کے موضوع کی سنجیدگی کے باعث دب گیا ہو.
کتاب کے دوسرے حصے میں افسانے ہیں. یا یوں کہہ لیں کہ بیرونی سفر کی کہانی پہلا حصہ ہے اور دوسرا حصہ ان اسفار کے قصے ہیں جو مصنف نے اپنی ذات کے اندر ہی اندر کیے. یہ افسانے بھی اندر یا باہر کی مسلسل ہجرت کا بیان ہیں. ‘دل مندر’ ایک ایسے نوجوان کا قصہ ہے جو کسی کی تلاش میں نکلا تو کھو گیا. اس کا وجود اس کی ذات کا منتظر ہے اور اس کی ماں اس کے وجود کی.
‘ایک بوند پانی’ اُن ان کہی کہانیوں میں سے ایک ہے جو صحراؤں میں پانی کی بوندوں سے کہیں زیادہ برستی ہیں. مگر ان میں گلیمر نہیں ہوتا کہ لکھی اور چھاپی جائیں. فی الوقت تو منجو کی کہانی ایک نئے قلمکار کیطرف سے پختہ کاروں کے لیے فرض کفایہ کی ادائیگی ہے.
یہ ایک کتاب نہیں ہے ایک عام انسان کی عام ہجرتوں کا بیان ہے. ہر ہجرت ایک نشان چھوڑ جاتی ہے لیکن پرانی ہو جائے تو جب تک اسے چھوا نہ جائے محسوس نہیں ہوتی.
لکھنے والے کے لیے ہجرت ایسی مستقل کیفیت ہو چکی ہے کہ ننھے نھے اسفار بھی ان کی اس بیاض نما کتاب میں باقاعدہ اپنی شناخت کرواتے ہیں. وہ دم بھر کو کسی انتظار گاہ میں بیٹھتے ہیں تو اپنی حسیات اور مشاہدے کی طاقت سے اسے اٹلس بنا دیتے ہیں.
اس کتاب کے تعارف میں ایک جگہ مصنف نے لکھا ہے "ہجرت چھوٹی ہو یا بڑی ‘ مقام بدلتے ہیں تو منظر بھی بدلنے لگتے ہیں. جب انسان کے آس پاس کے منظر تیزی اور تواتر کیساتھ بدلنے لگیں تو اس کے اندر بھی کئی ہجرتیں ایک ساتھ رونما ہونے لگتی ہیں” .
ان ہجرتوں کی زد میں وہ مقیم بھی آتے نظر آتے ہیں جنہوں نے نہ شہر بدلا نہ ان کے اندر کا منظر بدلا مگر مسافر جب پڑاؤ اٹھا کر چل دیا تو مقیم بھی گرد ہوتی راہوں کی دھول میں گم ہو ئے. یہ کتاب چلے جانے والوں ‘ عارضی پڑاؤ کرنے والوں اور پیچھے رہ جانے والوں کے مندمل شدہ زخموں کا البم ہے. یہ آپکو آپکی ننھی ننھی ہجرتیں ‘ چھوٹے چھوٹے پڑاؤ ‘ پیچھے رہ جانے والی منتظر آنکھیں اور گرد ہو جانے والے رستوں کی یادواشت لوٹائے گی. اس کے پنے پلٹتے ہوئے آپ کئی بار مسکرائیں گے اور کئی بار کتاب الٹا کر اپنی ان لکھی کتاب کے صفحات پلٹنے لگیں گے.
نائلہ رفیق
Facebook Comments HS



