قیامت کی نشانیاں اور ہم

ہم بھی عجیب لوگ ہیں۔ خود ہی بات کو اچھالتے ہیں اور پھر اس بات کے لئے دفاعی ساز و سامان کا بندوبست بھی کرتے ہیں۔ ہر قصے کہانی اور ہر عمل یا واقعے یا ہر کمی یا زیادتی کو قیامت کی نشانیوں سے جوڑ دیتے ہیں۔ پہلے تو اس بات کو تو واضح کردوں کہ قیامت تو انی ہے اس میں شک نہیں لیکن کیا یہ صرف ہمارے یہاں آئی گی یا پوری دنیا اور کائنات پر۔ اگر یہ پوری دنیا اور کائنات پر انی ہے تو پھر اس کا دائرہ اتنا تنگ کیوں، پھر قیامت کی تمام تر نشانیاں ادھر کیوں؟
جیسا کہ اگر کسی کی انتظامی غلطی سے کوئی حادثہ ہو جائے اور اس حادثے میں اجتماعی طور پر جانے چلی جاتی ہیں تو ہم فٹ سے اس کو قیامت کے ساتھ جوڑ دیتے ہیں کہ اجتماعی اموات بھی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی دل کی بیماری یا کسی اور بیماری سے بروقت علاج یا تشخیص نہ ہونے سے اچانک جاں بحق ہوتا ہے تو بھی بجائے اس کے کہ اس کے ذمہ داروں کو پکڑے یا اس کے ذمہ داروں کو قصوروار ٹھہرائیں ہم سیدھے قیامت کی نشانیوں کا گردان شروع کرتے ہیں کہ اخر وقت میں اموات بھی اچانک ہوا کرے گی۔
اسی طرح اگر کوئی آفات اتی ہیں اور وہ بالکل انتظامی معاملہ ہو جیسے کہ ہر ملک حادثات اور آفات کے لئے ادارے نیشنل ڈزاسٹر منیجمنٹ کے حوالے سے رکھتے ہیں اور وہ ایسے حالات اور واقعات میں پیش پیش ہوتے ہیں اور وہ اس کے اچھے برے نتائج کے ذمہ دار بھی ہوتے ہیں اگر ان کی کوتاہی سے یا بروقت کارروائی نہ کرنے سے کوئی کیجولٹیز ہوتی ہیں تو عام دنیا میں ان کا احتساب ہوتا ہے لیکن ایک ہم ہیں کہ اس معاملے میں بڑے سخی واقعہ ہوئے ہیں اور ان سب غفلت اور لاپروائی کو ایک ہی جملے قیامت کی نشانیوں میں لپیٹ دیتے ہیں۔
اگر ماں بیٹی یا باپ بیٹے یا بھائی بہن یا اپس میں رشتہ داروں کے درمیاں کوئی تنازعہ ہو جو صرف اور صرف اخلاقی مسئلہ ہو جو اپس میں مل بیٹھ کر بھی حل کیا جا سکتا ہو اور ہمارے معمولی مداخلت سے یہ معاملہ حل کیا جا سکتا ہو لیکن ہم کھڑے کھڑے کانوں کو ہاتھ لگانا شروع کر دیتے ہیں کہ توبہ توبہ اخری زمانہ ہے قیامت کی نشانی ہے۔ مائیں بیٹیاں نہیں، مائیں جنے گی۔ بھائی بھائی سے باپ بیٹے سے اور رشتہ دار رشتہ دار سے دور بھاگے گا۔
واقعی قیامت قریب ہے نفسا نفسی کا دور دورہ ہے۔ اسی طرح اگر کوئی کسی کو دھوکہ دیتا ہے تو بھی قیامت کو سامنے لاتے ہیں کہ قیامت کے قریب ہر بندہ دوسرے کو دھوکہ دے گا اور وہ بندہ زیادہ دھوکہ کھاٰئے گا جو دوسرے پر بھروسا کرے گا۔ اگر کوئی عالم فاضل، استاذ، پروفیسر، ڈاکٹر، دانشور کو قتل کرتا ہے یا ان کا قتل ہوجاتا ہے تو بھی ہم لوگ چہ مہ گوئیاں شروع کر دیتے ہیں کہ اخری وقت میں عالموں اور دانشوروں کو قتل کیا جاتا رہے گا اور علم کو اٹھالیا جائے گا۔
اگر کوئی غبن کرتا ہے، کرپشن کرتا یا وہ ملاوٹ یا ناپ تول میں کمی کرتا ہے تو ہمارے پاس قربت قیامت کے یہ الفاظ تیار ہوتے ہیں بجائے اس کے کہ ان کی روک تھام کے لئے کوئی تگ و دو شروع کریں۔ اسی طرح اگر کسی کے ساتھ جبری زیادتی ہوتی ہیں تو بھی قیامت کی بات کو دہراتے ہیں اور دلیل کے طور پر کہتے ہیں کہ قیامت کے قریب بے حیائی اور بد اخلاقی کا بازار گرم ہو گا وغیرہ وغیرہ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قیامت صرف ہمارے ملک میں آئے گی یہ تمام نشانیاں ہمارے ہاں پوری ہونی ہیں۔
یورپ میں تو کوئی ملاوٹ نہیں کرتا۔ ادھر تو آئے دن اجتماعی اموات کسی کی غفلت اور لا پرواہی سے نہیں ہوتیں اور اگر ہو بھی جاتے ہیں تو ذمہ داروں کا کھڑا احتساب کرتے ہیں وہ قرب قیات کی نشانیوں کی نظر یہ بے احتیاطی نہیں کرتے۔ اصل میں ہم نہ خود ذمہ دار بنتے ہیں اور نہ کسی اور کو ذمہ دار گردانتے ہیں۔ ہم قیامت سے پہلے قیامت کے منتظر رہنے والے لوگ ہیں لیکن باطن میں قیامت پر یقین نہیں رکھتے اگر ہم واقعی قیامت پر یقین رکھتے تو قیامت کے لئے جو درست معنوں میں تیاری کرنی ہے وہ کرتے۔ لیکن حقیقت میں ہم اس کے کسی بھی حوالے سے روادار نہیں۔ بالکل ان لوگوں کی طرح جو جنت تو جانا چاہتے ہیں موت اور جنت پر یقین بھی رکھتے ہیں لیکن مرنا نہیں چاہتے اور یہ اٹل حقیقت ہے کہ مرے بغیر کوئی جنت جا ہی نہیں سکتا۔

