دلی کا اردو بازار، ہندو کتاب فروش اور مسلمان کباب فروش
1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔
اس وقت بھارت میں کتابیں شائع کرنے کے حوالے سے یہ سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ خاص طور پر اردو میں شائع ہونے والی زیادہ تر کتابیں اسی مارکیٹ سے ملتی ہیں۔ میں اپنے میزبان سے اجازت لے کر اردو بازار کی طرف چلا گیا تا کہ ایک تاریخی بازار کو قریب سے دیکھ سکوں۔
میرے اندازے کے مطابق یہ بازار کئی کلو میٹر طویل ہے۔ تمام عمارتیں تین سے چار منزلہ ہیں، جن میں نیچے سے لے کر اوپر تک کتابوں کی ہی دکانیں پائی جاتی ہیں۔ میرا مقصد کتابوں کی خریداری نہیں تھا میں تو کتابوں کا وہ بازار دیکھنا چاہ رہا تھا جس کا چرچا میں نے بہت سارے لوگوں سے سن رکھا تھا۔
میں نے تاریخی کتب میں یہ پڑھا ہے کہ اردو بازار درحقیقت وہ جگہ ہے جہاں سے اردو کے لفظ کا آغاز ہوا اور اس کا استعمال عام ہوا۔ اس علاقے میں مغلوں اور دیگر بادشاہوں کے لشکروں کے کیمپ ہوا کرتے تھے۔ ان فوجی کیمپوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے یہ بازار قائم کیا گیا تھا۔ لشکروں کی موجودگی کی وجہ سے اس بازار کا نام، ”اردو بازار“ پڑ گیا۔ یاد رہے کہ اردو کا مطلب ہی لشکر ہے۔ بعد میں انگریزوں نے بھی اپنا فوجی کیمپ اسی علاقے میں قائم کیا۔
جنگ آزادی کے دوران مجاہدین نے انگریزوں کے اس کیمپ کو تو تباہ کر دیا لیکن اردو بازار باقی رہا۔ یاد رہے کہ اس وقت اکثریت کی مادری زبان اردو نہیں تھی۔ فوجی کیمپ تباہ ہو گیا لیکن اردو بازار کا نام باقی رہا۔ بعد میں یہاں پر کتابوں کی دکانیں بننا شروع ہوگی۔ اب یہ ایک بہت بڑی کتابوں کی مارکیٹ ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ خیال ہے کہ ایسا نہیں ہے۔ لیکن اکثر لوگ اوپر بیان کی گئی بات سے متفق ہیں۔
میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اردو بازار دلی، ہمارے اردو بازار لاہور سے سو گنا سے بھی زیادہ بڑا ہے۔ میرا گمان ہے کہ اسی بازار کی نسبت سے پاکستان میں لاہور، کراچی اور راولپنڈی میں بھی اردو بازار بنائے گئے۔
میں کتابوں کو دور سے ہی دیکھتا ہوا گزر رہا تھا کہ مجھے اپنے بائیں طرف مگوں پبلشرز کے نام سے ایک بڑی دکان نظر آئی۔ آپ کو علم ہو گا کہ پنجاب کے ایک شہر چنیوٹ میں مگو نام کی بہت ہی معزز کاروباری برادری ہے۔ مجھے محسوس ہوا کہ یہ لوگ بھی اسی برادری سے تعلق رکھتے ہوں گے۔ میں اسی حوالے سے ان کی دکان پر چلا گیا۔ میں نے دکان میں بیٹھے ایک صاحب سے پوچھا کہ آپ کے مالک کہاں بیٹھے ہیں؟ اس نے بتایا کہ وہ نیچے تہہ خانے میں ہیں اور ان کا نام آنند ہے۔ میں تہہ خانے میں گیا تو ایک تیس پینتیس سالہ نوجوان آنند سے ملاقات ہوئی۔ وہ حسب معمول کاروباری افراد کی طرح اپنے کام میں مصروف تھے۔ میں ان کے پاس بیٹھ گیا اور اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ میں لاہور سے آیا ہوں۔
جب میں نے لاہور کا نام لیا تو انھوں نے اپنے سامنے پڑے کاغذ ہٹا دیے اور میری طرف پھر سے ہاتھ بڑھایا۔ میں نے انھیں یہ بھی بتایا کہ ہمارے پنجاب کے شہر چنیوٹ میں مگوں برادری کے لوگ رہتے ہیں۔ میرے چند دوستوں کا تعلق بھی اسی برادری سے ہے۔ میں آپ کی دکان پر مگو کا نام دیکھ کر آیا ہوں۔ مگوں کا لفظ دیکھ کر مجھے یہ خیال گزرا کہ آپ کا تعلق بھی اسی مگوں برادری سے ہے اور میں کئی مرتبہ چنیوٹ بھی جا چکا ہوں۔ ان کا یہ سننا تھا کہ وہ اٹھ کھڑے ہو گئے اور مجھے گلے لگایا اور ساتھ ہی میز پر پڑے ٹشو پیپر کی طرف ہاتھ بڑھایا۔
ایک بغیر بولے کہانی کا آغاز ہو چکا تھا، مجھے بھی ٹشو پیر کی ضرورت محسوس ہوئی۔
دونوں کی بھیگی آنکھیں ایک داستان کی ان کہی نشانی تھیں، کچھ تو مشترک تھا۔
جس کا مجھے کچھ دیر بعد اندازہ ہوا۔ ایک مگوں لٹ لٹا کر چنیوٹ سے آ کر دلی میں بس گیا اور ایک مانگٹ سرہند، مشرقی پنجاب میں لٹ لٹا کر پہنچا اور آج پچاس سال بعد دونوں کی اولادیں مل رہی تھیں۔
کچھ تو تھا جس کا مشترک دکھ تھا!
پھر میں نے ان سے پوچھا کیا میرا یہ خیال درست ہے؟ یہ سب سن کر ان صاحب نے پہلے تو حیرانی کا اظہار کیا اور پھر خوش ہوئے۔ چند لمحوں کے توقف کے بعد انھوں نے کہا کہ آپ نے درست سمجھا ہے۔
ہم تقسیم ہند کے وقت چنیوٹ سے یہاں آئے تھے اور ہمارا کتابوں کا کام ہے۔ ہمارے دفاتر اور دکانیں کئی شہروں میں بھی موجود ہیں۔ میں نے بے تکلف ہونے کی کوشش کی تو وہ مجھ سے بھی زیادہ بے تکلف ہو گئے اور بہت جلد ہم چنیوٹی لہجے میں پنجابی میں باتیں کرنے لگے۔ یاد رہے کہ چنیوٹ کے لوگ لاہوری لہجے سے مختلف لہجے کی پنجابی بولتے ہیں۔ مجھے بھی یہ لہجہ آتا تھا اس لیے میں نے اسی لہجے کو اپنا لیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ سارے کام چھوڑ چھاڑ کر میرے ساتھ باتیں کرنے لگے۔
آنند مگو کی پیدائش تقسیم ہند کے بعد کی تھی لیکن وہ دن رات اپنے بزرگوں سے چنیوٹ کی باتیں سنتا رہتا تھا۔ اسے جب پتا چلا کہ میں چنیوٹ بھی گیا ہوں، تو وہ بہت خوش ہوا۔ وہ مجھ سے چنیوٹ کی ایک ایک بات پوچھنے لگا۔ اس نے ایک آہ بھر کر کہا کہ کاش میرے پاپا آج زندہ ہوتے تو میں آپ کی ان سے ملاقات کرواتا، یقیناً وہ بہت خوش ہوتے۔
میں نے اس سے نقل مکانی کی بات پوچھی تو وہ خاموش ہو گیا اور دیر تک خاموش رہا۔ اس کے بعد وہ بولا ”کہ یہ ایک ایسی بات ہے جسے ہم جب بھی یاد کرتے ہیں رو پڑتے ہیں“ ۔ ہمیں معلوم ہے کہ پاکستان جانے والے مسلمانوں کے ساتھ یہاں کے مقامی لوگوں نے نے بہت برا سلوک کیا تھا اور یہ بھی سچ ہے کہ ہمارے ساتھ بھی وہاں پر اچھا سلوک نہیں ہوا۔ ہم نے بہت نقصان اٹھایا۔ ہمارے خاندان کے بہت سارے لوگ قتل ہوئے۔
ہم بہت مال و دولت چھوڑ کر خالی ہاتھ بھارت آئے اور بڑی دیر تک پناہ گزینوں کی طرح رہے۔ ہم نہ ہی دلی میں رہنے والے لوگوں کی زبان بولتے تھے اور نہ ہمارا رہن سہن ان جیسا تھا۔ اس لیے ان لوگوں کے میل جول قائم کرنے میں ہمیں کافی وقت لگا۔ البتہ ہم مذہب ہونے کی وجہ سے زیادہ دقت نہیں ہوئی۔ اب ہم سب گھل مل گئے ہیں۔ لیکن ابھی تک ہم اپنے گھروں میں وہی چنیوٹ کے لہجے کی پنجابی میں بات کرتے ہیں اور یہ بات کتنی نسلوں تک چلتی ہے اس کا اندازہ نہیں۔
پاپا نے ہمیں نصیحت کی تھی کہ کوشش کرنا کہ گھر میں پنجابی کے علاوہ کسی اور زبان میں بات نہ کریں تاکہ آپ کا تعلق آپ کے آباؤ اجداد سے اور اس علاقے سے جڑا رہے جہاں سے ہم نقل مکانی کر کے یہاں آئے تھے۔ میں بڑی دیر تک ان کے پاس بیٹھا رہا، اسی دوران دوپہر کے کھانے کا وقت بھی ہو گیا۔ مجھے انھوں نے اپنے گھر سے آئے ہوئے کھانے میں بھی شریک کیا۔ جب میں اگلی دفعہ بھارت گیا تو دوبارہ ان سے ملنے کے لیے گیا جس پر وہ بہت خوش ہوئے۔
میں آنند سے رخصت لے کر باہر آ گیا اور پھر بازار میں پھرنے لگا۔ وہاں میں نے محسوس کیا کہ پاکستان کی نسبت بھارت میں کتابوں کی اشاعت بہت زیادہ ہے۔ ابھی بھی کئی ساری کتابیں بھارت سے پاکستان جاتی ہیں۔ ٹیکسٹائل کے حوالے سے بھی ایک صاحب کی کتابیں پاکستان میں پڑھی جاتی ہیں۔ میں انھی خیالات میں گم اردو بازار سے باہر آ گیا۔
اردو بازار کے ساتھ ہی کھانوں کی ایک بڑی مارکیٹ بھی ہے۔ جو گوشت کے پکوانوں کے لیے بھی مشہور ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں یہاں کباب کھانے کے لیے آتے ہیں۔ اس وقت بھی وہاں پر کافی رش تھا۔ اکثر کھانے کی دکانیں مسلمانوں کی جب کہ کتابوں کی زیادہ تر دکانیں ہندوؤں کی ہیں۔ ایک قوم دماغ کی غذا کا اہتمام کرتی ہیں اور دوسری پیٹ کی غذا کا ۔ اس کا ایک قدرتی نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ایک بہترین گاڑی چلاتا ہے دوسرا ابھی تک سائیکل چلا کر اپنا پیٹ پالتا ہے۔





بہترین یادگاری تحریر۔ بہت شکریہ