کرونا ویکسین کی غلط معلومات: مردوں کے مقابلے میں خواتین کے لئے زیادہ نقصان دہ


ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق پاکستان میں 3 جنوری 2020 ء سے 30 جنوری 2022 ء تک کرونا وائرس میں مبتلا ہونے والوں کی تعداد ایک کروڑ 35 لاکھ 39 ہزار 274 ہے جن میں سے 29 ہزار 248 افراد جان کی بازی بھی ہار گئے۔ اس طرح نیشنل کمانڈ آپریشن سنٹر (این سی او سی) کی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق 30 جنوری 2022 ء تک مکمل ویکسین لگوانے افراد کی تعداد 8 کروڑ 07 لاکھ 48 ہزار 105 ہے جبکہ ویکسین کی پہلی خوراک لگوانے والوں کی تعداد 10 کروڑ 42 لاکھ 28 ہزار 89 ہے اور بوسٹر ڈوز لگوانے والوں کی تعداد 22 لاکھ 42 ہزار 425 ہے۔

یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ اس خطرناک مرض سے ہزاروں جانیں ضائع ہونے کے باوجود اس ملک کے افراد نے اس مرض کو سنجیدہ نہیں لیا ہے اور اسی وجہ سے یہاں پابندی کے باوجود نہ صرف تقریبات منعقد ہو رہی ہیں اور شاپنگ مالز بھرے ہوئے ہیں بلکہ ماسک کے استعمال کو بھی صرف پابندی والی جگہ پر ہی استعمال کرتے ہیں اور شاذ و نادر ہی ایسے افراد نظر آتے ہیں جو عام طور پر ماسک لگائے ہوئے ہوں اور یہی حال کرونا ویکسین کے معاملے میں بھی نظر آتا ہے کہ 22 کروڑ کی آبادی والے اس ملک میں کرونا ویکسین لگوانے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے جس کی سب سے بڑی وجہ کرونا وائرس کی بیماری کے بارے میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات اور افواہیں ہیں جو سوشل میڈیا کے اس دور میں اس وائرس سے بھی زیادہ تیزی سے پھیلی ہیں۔ اس وقت تک ویکسین لگوانے والے افراد کی بیشتر تعداد ان افراد پر مشتمل ہے جن پر بیرون ملک سفر اور ملازمتی پابندیاں عائد ہیں۔

کرونا ویکسین کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں اور غلط معلومات کا شکار سب سے زیادہ گھریلو خواتین ہیں جو صرف سنی سنائی اور سوشل میڈیا پر پائی جانے والی معلومات پر بناء تصدیق یقین کر لیتی ہیں۔ ان افواہوں میں سب سے زیادہ کرونا ویکسین لگوانے سے جسم میں ایک مائیکرو چپ کا داخل کر دینا، بانجھ ہو جانا، نسوانی ماہانہ پیریڈ سرکل کا بے ترتیب ہونا یا خون آنے کی مقدار بڑھ جانا اور دیگر جسمانی تبدیلیاں ہونے کی افواہیں شامل ہے۔

اس طرح خواتین کی کرونا ویکسین لگوانے کی تعداد کم ہونے کی ایک وجہ یہاں کے مرد بھی ہیں جن میں دیہی یا شہری علاقوں اور ان پڑھ یا پڑھے لکھے ہونے سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے کیونکہ ہر طبقے اور علاقے میں ایسے مرد ہیں جو کرونا پر اب تک بھی یقین ہی نہیں رکھتے ہیں لیکن خود تو بیرون ملک جانے یا ملک میں ملازمتی پابندی کے باعث نہ چاہتے ہوئے بھی کرونا ویکسین لگوا رہے ہیں لیکن ان افواہوں اور غلط معلومات کے سبب اپنے گھر کی خواتین پر ویکسین لگوانے پر پابندی عائد کر رکھی ہے جس کی وجہ سے بھی کرونا کیسوں کی تعداد میں کمی واقع نہیں ہو رہی ہے اور ایک کے بعد دوسری لہر پیدا ہو رہی ہے اور اب اومیکرون کی جاری لہر کے باعث ہلاکتوں میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔

ان مریضوں میں خواتین کی بھی بڑی تعداد شامل ہے جبکہ پاکستانی خواتین میں خوراک کی کمی کے باعث قوت مدافعت بھی کم ہے اس ضمن میں پاکستان نیشنل نیوٹریشن سروے 2018 ء کے مطابق 71 فیصد خواتین غذائی کمی کا بھی شکار ہیں جبکہ ان افواہوں نے ان کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے۔ انہی افواہوں کی وجہ سے پاکستان میں کئی خواتین کی ویکسینیشن ریکارڈ میں درج ہو چکی ہے لیکن عملاً ان کے مردوں کی جانب سے عملے کے ساتھ ملی بھگت اور فراڈ کے ذریعے ویکسین لگوائی ہی نہیں گئی ہے جبکہ پاکستان میں ویکسینیشن کے غلط اندراج کے بڑے واقعات سامنے آنے کے باوجود حکومت کی جانب سے غلط اور بوگس اندراج کو روکنے کے لئے کوئی اقدامات ہی نہیں کیے گئے ہیں جس کی وجہ سے سب سے زیادہ مشکلات خواتین کو برداشت کرنا پڑ رہی ہیں اور بوگس اندراج کا شکار گھریلو خواتین مستقبل میں اپنے لئے اور دوسروں کے لئے مسائل کا باعث بن سکتی ہیں۔

اس سلسلے میں ملتان کی رہائشی ثمینہ وقار کا کہنا ہے کہ وہ ایک سرکاری سکول کی ٹیچر ہیں اور کرونا کے دنوں میں سکول بند ہونے کے باعث زیادہ تر گھر میں رہیں لیکن ان کے شوہر کو کاروبار کی وجہ سے باہر جانا پڑتا تھا جس پر وہ اپنے شوہر کی واپسی پر ان کو بھاپ دیتیں یا کپڑے تبدیل کیے اور نہائے دھوئے بناء اکلوتی اولاد بیٹے سے دور رہنے کا کہتیں تو اس پر کئی مرتبہ ان کی ناراضگی بھی ہو چکی ہے اس طرح ان کے شوہر اب تک کئی مرتبہ شدید زکام اور کھانسی کی زد میں بھی رہے اور ان کی وجہ سے وہ بھی بیمار ہوئیں لیکن ان کے شوہر نے کرونا ٹسٹ کرانے کی بجائے گھر پر رہ کر سنی سنائی ادویات استعمال کیں جبکہ ویکسین لگوانے سے بھی قطعی انکار کر دیا تاہم اس کو تنخواہ بند ہونے کی حکومتی ہدایت کے باعث بمشکل ویکسین لگوانے کی اجازت دی ہے کیونکہ ان کے شوہر کو خدشہ ہے کہ ویکسین لگوانے کے باعث وہ کسی نسوانی مرض کا شکار ہو کر بانجھ ہو سکتی ہے یا کافی عرصہ تک اولاد پیدا نہیں کر سکے گی۔

اسی طرح جب ڈپٹی ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ملتان ڈاکٹر عدنان احمد سے بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ ملتان میں کرونا ویکسین لگوانے والوں کی تعداد آبادی کے تناسب سے بہت کم ہے کیونکہ اس وقت ضلع کی آبادی 50 لاکھ ہے لیکن ویکسین لگوانے والوں کی تعداد 5 لاکھ بھی نہیں ہے اور خواتین کی تعداد انتہائی کم ہے نیز ویکسین لگوانے والوں میں زیادہ تر درمیانی عمر کے افراد شامل ہیں اور ویکسین کی اضافی خوراک موجود ہونے کے باوجود آنے والے افراد کم ہیں جس کی بڑی وجہ کرونا اور اس کی ویکسین بارے پائی جانے والی افواہیں بھی ہو سکتی ہیں۔

ان وجوہات بارے شعبہ ذہنی امراض نشتر میڈیکل و ڈینٹل یونیورسٹی ملتان کی ڈاکٹر زہرہ حیدر کے مطابق پاکستان میں پدر شاہی سوچ رکھنے والے افراد کی تعداد زیادہ اور ہر معاملے میں شعور کی انتہائی کمی ہے اور کسی بھی مثبت معاملے کا شعور اجاگر کرنے کے لئے حکومتوں یا سماجی تنظیموں کی جانب سے بہت زیادہ کوششیں نہیں کی گئیں ہیں اور یہی معاملہ کرونا اور ویکسین کے بارے میں بھی رہا ہے کہ اس وبائی مرض کو اب تک بھی سنجیدگی سے ہی نہیں لیا گیا ہے اور اس بیماری کے بارے میں پائی جانے والی مثبت باتوں سے زیادہ منفی رجحانات پر یقین کیا گیا ہے۔

کرونا مرض اور اس کی ویکسین بارے غلط معلومات اور افواہوں کے اس دور میں سب سے زیادہ نقصان خواتین کو ہو رہا ہے جو کم اور غیر تصدیق شدہ معلوماتی ذرائع رکھنے کی وجہ سے ان افواہوں اور غلط معلومات کا شکار ہو رہی ہیں جبکہ حکومت کی جانب سے ان غلط معلومات کے خاتمے کے لئے کوئی بارآور کوششیں نہیں کی گئیں ہیں اور نہ ہی کرونا ویکسینیشن سینٹروں پر خواتین کو کوئی معلومات فراہم کی جاتی ہیں بلکہ سینٹروں پر موجود افراتفری کی صورتحال ان خواتین کو مزید بے زار کر دیتی ہے۔

Facebook Comments HS