سینیٹر مشتاق احمد خان، امید کی کرن

یہ بات بالکل غلط ہے کہ سینیٹ میں حزب اختلاف کے 57 اراکین ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ سینیٹ میں حزب اختلاف کا ایک ہی رکن ہے۔
صحافی اور اینکر ارشاد خان نے بالکل درست بات کی ہے کہ اس وقت سینیٹر مشتاق احمد خان ہی وہ سینیٹر ہے جو بلا تفرق ہر مسئلے پر پوری تیاری اور جرات کے ساتھ بولتے رہتے ہے جس وجہ سے انھوں نے بڑی توجہ حاصل کی ہے۔ مسئلہ مسنگ پرسنز کا ہو، سیاست میں فوجی مداخلت کا، خارجہ پالیسی کی تشکیل کا ہو، عدلیہ کی کارکردگی کا، پارلیمنٹ کی کردار کا ہو اور یا انسانی حقوق کا، غیر روایتی، بے باک، نپا تلا اور موثر انداز میں بولنا ان کا شیوا ہے۔
خوبی ان کی یہ ہے کہ وہ نہ صرف مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ حل کے لئے تجاویز بھی پیش کیا کرتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے متنازعہ کردار پر تواتر کے ساتھ بولنا اور عمل کے وقت کچھ کر دکھانا ان کا حسن کارکردگی ہے۔ درست بات یہ ہے کہ پارلیمنٹ کا کچھ بھرم ان ہی لوگوں سے باقی ہے۔ حقیقتاً مشتاق احمد خان نے اپنی پارٹی کی ماضی کے کردار اور اعتماد کی بھرپور پور لاج رکھی ہے۔
بلا امتیاز ملک کے سنجیدہ حلقوں سے داد و تحسین وصول کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ سنجیدہ، مدلل اور جرات مندانہ موقف اور بیانیے کو پذیرائی ملتی ہے اور جگہ ملتی ہے۔
سینئر صحافی اعزاز سید اعتراف اور تحسین کر کے ٹویٹ کرتے ہے۔
”سینٹ میں جس طرح سینیٹر مشتاق احمد تیاری سے آتے ہیں، دل سے احترام اور محبت بٹورتے ہیں۔ اسٹیٹ بینک ترمیمی بل کی منظوری کے وقت بھی جب اپوزیشن جماعتیں حکومت کی جیب میں تھیں، یہ سینیٹر مشتاق ہی تھے جو کھل کر کھڑے رہے۔ یہ الگ بات کہ سب بلڈوز کر دیا گیا۔“
پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب نے اس پر گرہ لگائی کہ یہ جماعت اسلامی کی شاندار پارلیمانی روایات میں ایک تابندہ اضافہ ہے۔ ڈاکٹر نذیر احمد، پروفیسر غفور احمد، لیاقت بلوچ، پروفیسر خورشید احمد اور کئی اور؛ اور اب سینیٹر مشتاق احمد
دنیا نیوز سے وابستہ سینئر صحافی/اینکر سلمان غنی نے اس پر ٹویٹ کیا کہ یہ پراسس سے آنے والا ایک نظریاتی سینیٹر ہے جس کی جرات و بے باکی اور اپنے مقصد سے کمٹمنٹ مسلمہ رہی ہے۔ ایسے لوگ اگر منتخب ایوانوں کا حصہ بنیں گے تو کسی مائی کے لال کی جرات نہیں ہوگی کہ ملکی مفادات کا سودا کر سکے۔ کاش ایسے ہی لوگ پارلیمنٹ کی زینت بنیں۔
سما نیوز سے وابستہ سینئر صحافی عرفان الحق کا کہنا ہے کہ سینیٹر مشتاق احمد خان کی موجودگی سے ایک فائدہ یہ بھی ہے اپوزیشن کے نام پر بڑی جماعتوں کی دونمبری بھی بے نقاب ہوتی ہے۔
زید حمید نے اس پر لکھا کہ سینٹ میں مشتاق صاحب ہوں، خیبرپختونخوا اسمبلی میں عنایت صاحب ہوں، یا پھر سندھ اسمبلی میں عبدالرشید بھائی، ایوان میں ان تینوں اشخاص کی کارکردگی دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ گویا یہ ایک ہی نظریہ اور سوچ کے ماتحت ایک ہی شخصیت ہے۔ ایوان میں کسی قانون پہ بحث کرنا ہو تو ہو ہی نہیں سکتا کہ ان اشخاص کو قانون کا مکمل علم نہ ہو۔ بات کرتے وقت ان کی آواز میں رعب اور انداز میں جوش تو ضرور ہو گا لیکن لہجہ میں تحقیر اور زبان پہ گالی نہیں ہوگی۔
حکومت پہ تنقید کریں گے تو ایسی تنقید کریں گے کہ حکومتی صفوں میں سے کوئی جواب نہ دے پائے گا لیکن تنقید کبھی بھی ذاتیات پہ نہیں ہوگی۔ حق کی آواز بلند کرنے کی پاداش میں ایوان کے دروازے بند کر دیے جائیں گے تو دروازوں کو پھلانگ کر ایوان میں داخل ہوں گے لیکن ایوان کو جلانے اور گرانے کی بات نہیں کریں گے۔ لکھنے کو بہت کچھ ہے لیکن جو کچھ لکھا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اعلی پارلیمانی روایات کسے کہا جاتا ہے، اور اگر یہ سب اعلی پارلیمانی روایات کے زمرے میں نہیں آتا تو مجھ کم علم کو آگاہ کیجیے کہ کیا ہوتی ہیں اعلیٰ پارلیمانی روایات؟
سوشل میڈیا ایکٹوسٹ اسفندیار خان لکھتے ہے۔
پچھلے چار سالوں میں ان کی وجہ سے اسٹیبلشمنٹ کو ہر غیر آئینی اور ملکی مفاد کے منافی قانون سازی کرتے وقت عوام کے سامنے شرمندہ، ذلیل اور رسوا ہونا پڑا۔
روزنامہ مشرق سے وابستہ کالم نگار اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ شبیر بونیری خون دل میں انگلیاں ڈبو کر ایوانوں میں طاری خاموشی اور یہاں خواب خرگوش میں پڑے ضمیر کی سودا کرانے والوں کا ماتم اور مشتاق احمد خان کی جرات رندانہ کو خراج عقیدت پیش کر کے لکھتے ہے
مشتاق صاحب ان بے ضمیروں کو بیدار کرنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ ان کے پاس بس دو چیزیں ہیں۔
ان کا ڈر
اور ان کی ڈالروں سے بے پناہ محبت۔
ان کو اس ملک اور عوام سے کوئی لینا دینا نہیں اور ہاں ان کے ساتھ محبت کرنے والے بھی کروڑوں میں ہیں ”
ہم سمجھتے ہیں کہ اگر مشتاق احمد خان جیسے اٹھ، دس بندے اور پیدا ہو کر پارٹی بندشوں، ذہنی غلامی، ذاتی مفادات اور اسٹیبلشمنٹ کی ڈکٹیشن کو بالائے طاق رکھ کر ملک و قوم کے مفاد میں جرات و جسارت کیا کرے اور ایوانوں میں آواز اٹھائے تو نئی تاریخ رقم ہو سکتی ہے۔ اداروں کی وقار اور اعتماد کے لئے یہ ناگزیر ہے۔ جمہوری اور سیاسی نظام کا یہی حسن ہے اور اسی میں بہتری ہی سے ملک و قوم کی ترقی و خوشحالی وابستہ ہے۔
افسوس یہ ہے کہ مشتاق احمد خان اکیلا ہے اور ان کے دائیں، بائیں اور اگے پیچھے پشت بان کوئی ہے ہی نہیں جس کی بناء ان کی وزن میں اضافہ ہو اور ان کو بولنے کا پورا موقع بھی ملے اور وہ منت سماجت کے اور بغیر چیئرمین کے روک ٹوک کے اعتماد کے ساتھ اپنی پوری بات مکمل بھی کرسکے اور منوانے کی پوزیشن میں بھی رہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مشتاق احمد خان صرف جماعت اسلامی ہی نہیں اس ملک سے محبت رکھنے والوں، انسانی حقوق کے لئے متفکر رہنے والوں، جمہوریت، پارلیمنٹ، اداروں اور آئین کی بالادستی کے خواب دیکھنے والوں اور اپنوں سے دور، قید تنہائی میں اور انسانی و آئینی حقوق سے محروم گمشدہ افراد کی امیدوں کا مرکز ہے اور ملک و ملت کا اثاثہ اور سرمایہ ہے۔

