لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے


جلدی کس بات کی ہے ذرا ایک منٹ رکیے اور ذرا غور کیجئے۔ اپنے گردوپیش کا جائزہ لیجیے سوچیئے ہمارے ارد گرد کیا ہو رہا ہے۔ کیا عام آدمی مہنگے بجلی کے بلوں سے پریشان ہے دیکھیے کیا پٹرول ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ سے اشیائے خورد و نوش مہنگی ہو رہی ہیں کیا عام آدمی دو وقت کی روٹی کے حصول کے لیے مشکلات کا شکار ہے۔ کیا کسان اپنی فصل کی بہتری کے لیے کیمیائی کھاد کی خاطر لائنوں میں لگے ہوئے ہیں۔ اگر یہ سب کچھ ہو رہا ہے تو سوچنا یہ ہے کہ ہمارا میڈیا کیا دکھا رہا ہے۔ کیا ہمارا میڈیا دکھا رہا ہے کہ عدالت نے تکذیب نکاح کی اپیل مسترد کرتے ہوئے میرا کو عتیق الرحمن کی بیوی قرار دے دیا۔ میڈیا دکھا رہا ہے کہ حریم شاہ کے ہونٹوں کی سرجری نا ہونے سے اس کے ہونٹ کی شیپ بگڑ گئی ہے۔

مطلب ہماری پریشانیاں اور مسائل کچھ اور ہیں جبکہ شور کچھ اور باتوں کا ہے۔ کبھی سوچا کہ ایسا کیوں ہے کیا وجہ ہے کہ اصل مسائل کا سرسری تذکرہ کیوں ہوتا ہے نان ایشوز کو عوام کے سامنے کیوں ڈسکس کیا جاتا ہے۔ میرا کی تکذیب نکاح کا معاملہ ہو یا حریم شاہ کے ہونٹوں کی خوبصورتی ہو یہ کب عام آدمی کے مسائل ہیں۔ وہ جس کو سستی دوائی نہیں مل رہی جس کو روزگار نہیں مل رہا جہاں امن وامان مخدوش حالت میں ہو، سٹریٹ کرائم میں اضافہ سے پریشان عوام کی مشکلات کچھ اور ہیں

تو پھر یہ سب کیا ہے اور کیوں ہو رہا ہے ایسا؟ تو اس ضمن میں ایک بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ میڈیا ہمیشہ سیاسی اشرافیہ کے لیے ہراول دستے کا کردار ادا کرتا ہے۔ ایک سوچی سمجھی پالیسی کے تحت نان ایشوز کو ایشوز بنا کر حقیقی مسائل پر پردہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اگر میڈیا حقیقی معنوں میں عوام کی ترجمانی کرنے لگ جائے اور عوامی سطح پر درپیش مسائل کو اجاگر کرنے لگے تو کوئی بھی حکومت چند دن سے زیادہ نہیں چل سکتی۔ لہذا اتنا سچ بولا جاتا ہے جس سے ساکھ محفوظ رہ سکے لوگوں کا اعتبار قائم رہ سکے جبکہ باقی ماندہ وقت جھوٹ کو سچ بنا کر پیش کیا جاتا ہے

ہمیشہ ایک بات کی ہے اور اب پھر دہرا رہا ہوں کہ ہماری بدنصیبی کہ ہمیں کچھ بھی خالص اور کھرا نہیں ملا۔ فوجی آمر آئے تو انہوں نے سیاست دان بننے کی کوشش کی اور سیاست دان آئے تو انہوں نے آمر کا لبادہ اوڑھ لیا۔ ایماندار بیوروکریٹ کام نہیں کر سکتا جبکہ بے ایمان افسر ہمیں پسند نہیں ہیں۔ مروجہ نظام تعلیم سے نوکری نہیں مل سکتی اور اچھی تعلیم دینے کے قابل نہیں ہیں۔ نجی ہسپتالوں کا علاج مہنگا اور دسترس سے باہر ہے جبکہ سرکاری شفا خانے سوائے موت بانٹنے کے کچھ نہیں کر رہے۔ پولیس سے امن وامان کی خواہش بجا سہی مگر یہ بھی اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کے مترادف ہے جس کے سبب امن وامان کی صورتحال پیدا ہو چکی ہے۔

معیشت چلانے کے تمام دعوے اپنی جگہ، معاشی اعشاریوں میں بہتری اور معیشت کی ٹھیک سمت میں سفر کی افسانوی داستانیں اپنی جگہ مگر حقیقت یہ ہے کہ آئے روز منصوبہ بندی یہ ہوتی ہے کہ نیا قرض کس ملک سے اور کس مد میں لیا جائے۔ قرض پر قرض لیتی ہماری سیاسی اشرافیہ نے کبھی یہ سوچا ہے کہ اس قرض کی واپسی کیسے ہوگی۔ مگر وہ کیوں سوچیں قرض تو عوام نے واپس کرنا ہے لہذا پریشانی کی کوئی بات نہیں بس توجہ صرف قرض لینے پر مرکوز ہونی چاہیے۔

کیونکہ پیسے ہوں گے تو ترقیاتی کام ہوں گے اور ترقیاتی کام سیاست کے لیے بہت ضروری ہیں۔ اب سیاست اور ریاست میں سے سیاست کے انتخاب کا مطلب یہ ہے کہ ریاست جائے بھاڑ میں فی الحال اپنا وقت گزارا جائے۔ نتیجہ یہ کہ نسل در نسل مقروض ہوتے جا رہے ہیں۔ پھر ان قرضوں کی ادائیگی کے لیے ٹیکسز کی بھرمار نے عام آدمی کی زندگی اجیرن کردی ہے۔

آپ ایک لمحہ کو سوچیں تو آپ کو بھی ہنسی آئے گی کہ جس ملک کی چالیس فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہو جہاں ایک بہت بڑی آبادی کو احساس کفالت اور احساس راش پروگرام کے تحت نقد رقم دی جا رہی ہو جہاں غریب لوگوں کے پیٹ بھرنے کے لیے لنگر خانے کھولے جا رہے ہوں اور پناہ گاہیں تعمیر ہو رہی ہوں۔ جہاں پولیو کے قطروں سے لے کر مختلف بیماریوں کی ویکسین بطور امداد مل رہی ہو وہاں اورنج لائن، میٹرو اور بی آر ٹی پشاور جیسے منصوبے کیا زیب دیتے ہیں۔

جہاں ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہو تو اس گلستاں کا انجام کیا ہو گا اس کو سمجھنے کے لیے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں ہے۔ ابھی تو کچھ نہیں بگڑا ابھی تو قرض کی مے مل رہی ہے اور خمار سے آنکھیں سرخ ہیں۔ جس دن قرض ملنا بند ہوا اور نشہ ہرن ہوا تو پھر پتہ چلے گا کہ کیا کھویا اور کیا پایا۔ بڑے طمطراق سے نیا پاکستان بنانے نکلے تھے اب یہ حالت ہے کہ نا تو نیا پاکستان ہم سے بن سکا اور نا ہی اب پرانا واپس مل سکتا ہے مطلب نا گھر کے رہے اور نا ہی گھاٹ کے یعنی نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے۔

مگر پریشانی کی چنداں ضرورت نہیں ہے ابھی تبدیلی سرکار کی کچھ مدت باقی ہے امید کامل ہے کہ جس طرح سرکار چل رہی ہے یہ کشتی کسی کنارے لگا کر ہی چھوڑے گی۔ اور کچھ ہو یا نا ہو ایک کام ضرور ہو گا اور وہ یہ کہ کم سے کم تبدیلی کا بھوت سر سے اتر جائے گا۔ اور اگر ایسا ہو گیا تو یہ بھی کسی انعام سے کم نہیں ہو گا مگر ایک کہاوت ہے کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں جاتے۔

Facebook Comments HS