جگت بازوں کا دانشور آفتاب اقبال بمقابلہ شاعر انقلاب حبیب جالب

دانشوروں کے بھی بہت سے طبقے ہوتے ہیں اور ہر طبقہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے، ہر طبقہ اپنی اپنی حیثیت کے مطابق اپنی شخصیت کے گرد ہر ایرے غیرے نتھو خیرے سے خود کو بچانے کے لیے ایک حفاظتی باڑ قائم کر لیتا ہے تاکہ من کی شانتی بنی رہے اور چند من پسند لوگوں میں فیض بٹتا رہے اور داد ملتی رہے یہی کافی ہے۔ زندگی میں بڑے بڑے دلچسپ کرداروں سے آمنا سامنا ہوتا رہتا ہے میرے بھی ایک بڑے دلچسپ دوست ہیں جو آج کل پی ایچ ڈی کرنے میں مصروف ہیں اور مختلف سبجیکٹ میں تقریباً آٹھ ایم اے کر چکے ہیں اور آج کل ایم اے سرائیکی بھی پھڑکانے کے چکروں میں مبتلا ہیں۔
ان کی زندگی کا فلسفہ ہے اگر مالک نے دولت سے نوازا ہے تو پھر ڈگریوں کا انبار لگانے میں تاخیر نہیں کرنی چاہیے ان کے مطابق ایسا کرنے سے آپ کا علمی قد کاٹھ بڑھتا ہے اور دوسروں پر علمی رعب بھی بنا رہتا ہے۔ میرے دوست کا یہ فلسفہ حیات ہے کہ غریب غربا کو علم بانٹ کر ہمیں اپنے برابر کھڑا کرنے کی غلطی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ یہ کمی کمین ہوتے ہیں ان کو چھوٹی موٹی مزدوری ہی جچتی ہے اور خدا نخواستہ پڑھ لکھ جائیں تو یہ آپ کا گریبان تک پکڑنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔
ان کا یہ بھی ماننا ہے کہ جو علم ہم لاکھوں لگا کر حاصل کرتے ہیں وہ ہم فری میں کیوں تقسیم کریں؟ ہمیں اپنے علم کی قیمت طلبا کی ناک رگڑوا کر حاصل کرنی چاہیے، اس کریکٹر کی جو سب سے دلچسپ بات ہے وہ یہ ہے کہ یہ بندہ اپنے لیول کے پڑھے لکھے افراد کے درمیان علمی گفتگو کرنا پسند نہیں کرتا بلکہ ان پڑھ قسم کے جگت باز یا شوقیے قسم کے گویوں میں بیٹھ کر خود نمائی پسند کرتا ہے اور یہی جگت باز اس موصوف کو ”چک“ کے رکھتے ہیں اور مختلف تعریفی کلمات ”واہ واہ یا آپ کا اقبال بلند ہو“ ٹائپ جیسے شبد سن کر خوش ہو جانا ان کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے۔
یہ دانشوروں کاوہ طبقہ ہوتا ہے جو اپنے ماحصل کو انتہائی مشکل بنا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ ایوریج قسم کا معمولی آدمی ان کے قریب بھی نہ پھٹکے، ان کو ہر وقت اپنے اردگرد ”واہ واہ“ کرنے والے لوگ چاہیے ہوتے ہیں جو ان کے انا کے غبارے میں ہر وقت تعریفی کلمات کی ہوا بھرتے رہیں۔ بالکل اسی طبیعت کا بندہ آفتاب اقبال ہے جنہیں ہم جگت بازوں کا دانشور کہیں تو زیادہ مناسب ہو گا کیونکہ جب سے ہوش سنبھالا ہے ہم نے تو موصوف کو جگت بازو میں ہی گرا ہوا پایا ہے اور جگت باز بھی اتنے تربیت یافتہ ہیں یا برین واش ہیں کہ آفتاب اقبال کے علاوہ سماج کے ہر بندے پر خوب جگت بازی کریں گے مگر جیسے ہی اپنی جگتوں کا رخ آفتاب اقبال کی طرف کرتے ہیں تو بہت محتاط روی اور اس قسم کی جگتیں کریں گے کہ جس سے موصوف کا علمی دبدبہ برقرار رہے اور ان کو مزید اپنی ذات کے متعلق خود نمائی کا موقع ملے۔
جب آپ کسی پروگرام کے اینکر بنتے ہیں تو آپ پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ لفظوں کا چناؤ بڑے محتاط انداز سے کریں تاکہ پروگرام کی اہمیت بنی رہے۔ سماء ٹی وی پر کسوٹی کے نام سے پروگرام چل رہا ہے اس مہان نشست پر اسی عنوان کے تحت کبھی عبیداللہ بیگ بیٹھا کرتے تھے جو واقعی علمی قد کاٹھ رکھنے والے ”ڈاؤن ٹو ارتھ“ قسم کے انسان تھے، اپنے لفظوں کا استعمال بڑے ناپ تول اور نفاست سے کرتے تھے اور اپنی رائے کا اظہار انتہائی عاجزانہ اور بڑے متانت و وقار سے کرتے تھے کہ دل خوش ہو جاتا تھا۔
ہمارے معاشرے کا اس سے بڑا فکری زوال کیا ہو سکتا ہے کہ آفتاب اقبال جیسا خود نمائی پسند اس علمی نشست پر براجمان ہو جائے اور کسوٹی پروگرام کے بہانے اپنی فکری تبلیغ کا سہارا لے کر ادبی شخصیات کی انتہائی رعونت کے ساتھ تضحیک کرنے میں مصروف ہو۔ موصوف کسوٹی کے ایک پروگرام میں شاعر انقلاب حبیب جالب کے متعلق کچھ یوں ارشاد فرما رہے تھے۔
”وہ ایک جلسے کے شاعر تھے، اس بندے کی شاعری کی کیا کریڈبیلٹی ہوگی جس کے اشعار شہباز شریف جیسا بندہ اپنی تقاریر میں پڑھے، خدا کا نام لو یار“
ہمارے معاشرے کا اس سے بڑا المیہ کیا ہو گا کہ آفتاب اقبال جیسا بندہ جس کی خدمات فرہنگ آصفیہ کے صدقے تلفظ کی درستگی اور ٹی وی سکرین پر جگت بازی کی حد تک محدود ہو وہ اس جالب کی تضحیک کرے جس کی ساری زندگی عام لوگوں کے درمیان بسر ہوئی ہو، جس کی زندگی اکثر جیل یا سڑکوں پر لاٹھیاں کھاتے ہوئے کٹی ہو۔ لوگوں کو اپنے حقوق چھین لینے پر اکسانے والا، ان پڑھ اور بغیر ڈگری والوں کو شعوری ڈگریاں بانٹنے والا جس کا جنازہ ایک معمولی سے مکان سے اٹھتا ہے۔
جس کے پاس یہ کھلا آپشن موجود تھا اور بڑے بڑے پیشکش بھی کر چکے تھے کہ ”بس خلاف مت لکھا کرو“ جو چاہے لے لو مگر حبیب جالب نے سب کچھ ٹھکرا کر غریب عوام کے بیچ جینے مرنے کو چنا۔ وہ بھی حسن نثار یا آفتاب اقبال کی طرح ”مصلحت کے پیمانوں“ میں ڈھل کر محلانہ عیش و عشرت انجوائے کر سکتا تھا، اس کی قیمت کچھ زیادہ بھی نہ تھی بس منافق بننا تھا اور معاشرتی کڑواہٹوں پر پردہ ڈال کر اپنے کلام میں دودھ و شہد کا زمزم بہانا تھا بس پھر کیا وارے نیارے تھے مگر اس نے ایک معمولی سی زندگی گزارنے پر اکتفا ء کر لیا۔ یاد رہے کہ یہ وہی آفتاب اقبال ہیں جنہوں نے بہت عرصہ پہلے پرویز ہود بھائی کی فزکس کی دنیا میں ان کی خدمات کو تسلیم کرتے ہوئے شاندار خراج تحسین پیش کیا تھا مگر حال ہی میں موصوف نے اپنا ”علمی سجدہ سہو“ کچھ اس انداز سے کیا کہ ان کا بچا کھچا علمی بھرم بالکل ختم ہو گیا۔ انہوں نے ارشاد فرمایا تھا کہ
”میں پروفیسر ہودبھائی کو بہت عالم فاضل سمجھتا تھا مگر جب مجھے یہ پتہ چلا کہ یہ بندہ تو ایتھیسٹ ہے تو اس کا علم کس کام کا ، جو بندہ بے خدا ہو اس کی کوئی علمی حیثیت نہیں ہوتی“
انتہائی غیر ذمہ دارانہ بات کر کے پرویز ہود بھائی کو مشکل میں ڈالنے کے علاوہ اپنا علمی قد کاٹھ بھی لوگوں پر عیاں کر دیا، حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ہود بھائی نے کبھی بھی خود کو ایتھیسٹ نہیں کہا۔ اب جس بندے کا علمی شخصیات کو پرکھنے کا اتنا سطحی سا پیمانہ ہوتو ذرا سوچیں کہ اس کی اپنی فکری سطح کا لیول کیا ہو گا؟ ہم نے ٹی وی اسکرین پر ان کی جگتوں سے ان کی فکری سطح کا پتہ چلایا ہے مگر جو ان کے بہت زیادہ قریب اور ان کی ٹیم کا حصہ رہے ہیں آپ ان کے کلپ یوٹیوب پر سن سکتے ہیں۔
خبرناک کے پروڈیوسر ذیشان حسین اور باغی پروفیسر کی گفتگو آپ ملاحظہ فرما سکتے ہیں جس میں انہوں نے واضح طور پر کہا تھا کہ آفتاب اقبال خود پسند اور نرگسیت زدہ شخص ہیں اور انہیں اپنی ذات کے علاوہ کچھ بھی پسند نہیں ہے۔ دراصل یہ اس طرح کے لوگ ہوتے ہیں جو معاشروں کو اپنی پست ذہنی سے گمراہ کر کے ان کو بے سمت کر کے اندھیروں کی طرف دھکیل دیتے ہیں، یہ تلفظ یا معلوماتی اٹکل پچو یا مشکل قسم کی لفاظی کا سہارا لے کر اپنی علمی اجارہ داری قائم کرنے کی کوششوں میں لگے رہتے ہیں تاکہ کنفیوز قوم مزید کنفیوز ہو کر ان کے علمی بوجھ تلے دبی رہے اور انہی کے گن گاتی رہے۔
اب موصوف کی علمی سطح چیک کریں کہ جس کلام کو شہباز شریف پڑھ لیں اس کی کریڈبیلٹی خطرے میں پڑ جاتی ہے دراصل جگتوں کے رنگ ہی نرالے ہوتے ہیں کبھی بھی کچھ بھی منہ سے نکل ہی جاتا ہے۔ شاید اسی وجہ سے آپ کا اقبال جگت بازوں میں بلند ہوا جب کہ حبیب جالب کا قد نئی فکر کے پیامبروں اور شعور بانٹنے والوں میں اپنی ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔


بہت خوب کیا کہنے سر۔ اس شخص کے بارے میں ہمارے احساسات کو آپ نے بہت خوبصورتی سے زباں دی۔
مجھے تو خود اس کی شخصیت کے بارے میں تب اندازہ ہونا شروع ہو جب آپ ٹی وی سے متعلق اس کی شخصیت سے جڑے تنازعات سامنے آئے۔
پھر دیکھا کہ کس طرح سے یہ اپنا پروگرام چھوڑ جانے والوں کی انتہائی گھٹیا انداز میں کردار کشی کی کوشش کرتا ہے۔
آپ کی تحریر کے ایک ایک لفظ سے اتفاق ہے۔