اس سے پہلے کہ کرپشن اور ملاوٹ کے چمپیئن بنیں


سہیل حبیب تاجک صاحب ایک پروفیشنل پولیس افسر ہونے کے ساتھ ایک شاندار انسان بھی ہیں۔ پولیس کالج سہالہ، اسلام آباد کے کمانڈنٹ تعینات ہوئے تو اپنی پوری کوشش کی کہ زیر تربیت افسران کی ذہنی، جسمانی اور فکری تربیت میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی جائے۔ ان کے ہر ہر جملے میں ان کا تجربہ اور مشاہدہ بولتا تھا۔ ایک بار انھوں نے ٹریننگ سیشن کے دوران ایک بات کی جو میری سماعت سے ٹکراتی ہوئی دل و دماغ کے نہاں خانوں میں اتر گئی، انھوں نے کہا ”کرپشن کی دوڑ میں فتح حاصل کرنا بہت مشکل کام ہے کیونکہ اس میں مسابقت بہت زیادہ ہے جبکہ ایمانداری کی دوڑ میں فتح نسبتاً آسان ہے کیونکہ اس میں مسابقت بہت کم ہے“ اس جملے کو میں نے کئی بار سوچا اور اس پر غور کیا تو اس کے بہت سے مفاہیم کھل کر میرے سامنے آئے۔

بے ایمان، لالچی، خود غرض اور دھوکے بازوں سے بھرے اس معاشرے میں اگر آپ بھی انھی خواص کے ساتھ داخل ہو گئے تو سمجھیں آپ ایک کیچڑ کی دلدل میں داخل ہو گئے ہیں اور کچھ ہی عرصہ کے بعد آپ اس کیچڑ میں اس طرح سر تا پا غرق ہو جائیں گے کہ پہچاننا بھی مشکل ہو جائے گا۔ یا یوں کہہ لیں کہ ایک کالی سیاہ دیوار پہ ایک کالا نکتہ اور لگ جائے گا اور پوری کالی دیوار پہ لگے ایک اور کالے نکتے پہ کوئی غور تک نہیں کرے گا، یہ کالا نکتہ کسی بھی قسم کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو پائے گا۔ لیکن اگر اس کالی سیاہ دیوار کے عین بیچ ایک سفید نکتہ لگا دیا جائے تو ہر دیکھنے والے کی توجہ کو تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی اپنی جانب ضرور مبذول کرا لے گا اور وہ سفید نکتہ خاصی دور سے نمایاں طور پر نظر آئے گا۔ اس سفید نکتے کے واضح نظر آنے کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے کہ وہ کالی سیاہ دیوار کے بیچ لگا ہوا ہے۔

ہمارا پیارا ملک پاکستان اس لحاظ سے بھی ایک شاندار ملک ہے کہ یہاں ایمانداری کے میدان تقریباً خالی پڑے ہیں۔ جہاں دنیا معیار اور مقدار بہترین کرنے کی تگ و دو میں لگی ہوئی ہے اور کسٹمر کئیر کو اولین ترجیح کے طور پر لیا جا رہا ہے وہیں ہم کرپشن اور چور بازاری کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ ہم ہر گزرتے سال کے ساتھ کرپشن کی رینکنگ میں بد ترین ممالک کی فہرست میں اوپری نمبروں پہ اپنا سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ملاوٹ اور کھوٹ کا یہ عالم ہے کہ بازاروں کے بازار بھرے پڑے ہیں مگر خالص اور معیاری چیز ڈھونڈنا ہتھیلی پہ سرسوں اگانے کے مترادف ہے۔ دکان کا نام ماشاءاللہ کریانہ سٹور اور انشاء اللہ آپ کو وہاں سے ہر دو نمبر چیز با آسانی دستیاب ہوگی، فضل ربی ملک شاپ والے کے دودھ میں دودھ کا نشان بھی نہیں، سنار سونے میں، لوہار لوہے میں حسب توفیق ملاوٹ کر رہا ہے۔ بازار میں ایک کپ اچھی چائے تلاشنا بھی جان جوکھم کا کام ہے۔

سرکاری محکموں کا یہ عالم ہے کہ وہاں بنا نذرانے کے کوئی کام کروانا ممکن ہی نہیں۔ اگر آپ کو یہ زعم ہے کہ آپ کا کام بالکل جائز اور میرٹ پہ ہے اور بس آپ کے جانے کی دیر ہے، تمام سرکاری افسران و ماتحتان آپ کے لیے دیدہ و دل فرش راہ کیے بیٹھے ہیں تو یہ آپ کی سب سے بڑی خام خیالی ہے، آپ جتنے بڑے دانا و بینا ہیں جب تک ان کی مٹھی گرم نہیں کریں گے آپ کا کوئی کام نہیں ہو گا۔ استاد ابراہیم ذوق کے مصرعے ”دانش تری نہ کچھ مری دانش وری چلے“ کے مصداق ان کے سامنے کسی کی نہیں چلتی۔ ایک شریف آدمی نے اپنی عرصہ دراز سے رکی ایک فائل کے بارے میں دفتر سے معلوم کیا کہ وہ وہاں کیوں رکی ہوئی ہے تو ایک گھاگ کلرک نے کہا ”تم نے اپنی فائل کو پہیے ہی نہیں لگائے تو وہ آگے کیسے چلے گی“ ۔

ان حالات میں دیکھیں کہ ہمارے معاشرے کو صداقت شعار اور باصفا لوگوں کی کتنی اشد ضرورت ہے۔ کتنی زیادہ آسامیاں خالی اور منتظر ہیں کہ کوئی صاحب دل نیک طینت ان کی زینت بنے مگر ان کڑے معیارات پہ پورا اترنے والے آٹے میں نمک کے برابر یا شاید اس سے بھی کم ہوں گے۔ غور کریں کہ بے ایمان اور ناجائز منافع خوروں سے بھرے بازار میں ایک سچا اور کھرا تاجر دکان بنائے اور کھرے کھوٹے کو واضح کر کے اپنی جنس کو فروخت کرے تو اس کی شہرت دنوں میں پھیل جائے گی کیونکہ ایمانداری سے مال بیچنے کے میدان میں وہ اکیلا ہی دوڑ رہا ہو گا۔

کرپٹ اور طوطا چشم افسروں اور اہلکاروں کی بھیڑ میں ایک ایماندار اور صاحب دل افسر کو کتنی پذیرائی اور نیک نامی ملے گی جب وہ اپنے اختیار کو خدا کی عطا اور آزمائش سمجھ لینے کے بعد مخلوق خدا کی خدمت اور آسانیاں تقسیم کرنے کو اپنا وتیرہ بنا لے گا تو غریب اور مفلوک الحال افراد جھولیاں بھر بھر کے اس کو دعائیں دیں گے۔ ہو سکتا ہے دفتر سے گھر جاتے ہوئے ایک کرپٹ افسر کی طرح اس کے ہاتھ میں پھلوں، سبزیوں اور گوشت کے تھیلے ہوں نہ اس کی جیب سیم و زر سے بھری ہوئی ہو مگر ایک بات لازم ہے کہ اس کے دامن میں ان گنت لوگوں کی دعاؤں کے توشے ضرور ہوں گے، اسے اپنی دال میں وہ ذائقہ نصیب ہو گا جو بے ایمانوں کو مرغ و مسلم میں بھی میسر نہیں آتا۔ اور اس کا ایک روپیہ ہزاروں اور لاکھوں کا کام کر جائے گا کیونکہ اس کو برکت جیسی دولت میسر آ جائے گی۔

آج کرپشن میں لتھڑے اس سیاہ معاشرے کو ایماندار اور محنتی لوگوں کی اشد ضرورت ہے جو اس کالی دیوار پہ سفید شفاف نکتوں کی طرح واضح ہو سکیں اور دیکھنے والوں کی آنکھ کو خیرہ کر سکیں پھر مزید شفاف نکتے ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو سکیں اور پھر وہ دن آئے جب یہ پوری دیوار سفید نکتوں سے بھر جائے اور یہ کالے نکتے اپنی موت آپ مر جائیں۔ لیکن اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ہمیں کھڑا ہونا پڑے گا کیونکہ ابھی ہم میں کھڑا ہونے کی پوری اہلیت موجود ہے اگر ابھی بھی ہم کھڑے نہ ہوئے تو بہت دیر ہو جائے گی پھر خدانخواستہ ایسا نہ ہو جائے کہ ہم کرپٹ ممالک کی فہرست میں پہلے نمبر پہ آجائیں۔

Facebook Comments HS