رنگوں میں سوچنے والی لڑکی اور گونجتی سرگوشیاں


اب سے کوئی بارہ برس قبل میں نے ”رنگوں میں سوچنے والی لڑکی“ کے عنوان سے ایک افسانہ تحریر کیا۔ رنگوں میں سوچنے والی لڑکی کو تصویروں میں آوازیں اور آوازوں میں تصویریں نظر آتی تھیں۔ اس کا ماننا تھا کہ تیز ہوا کا شور ڈارک بلیک اور بچوں کی ہنسی آف وہائٹ ہوتی ہے۔ اسے لڑکیوں پر فحش جملے کسنے والے مردوں کے آس پاس سرمئی رنگ کے بلبلے پھوٹتے نظر آتے تھے اور وہ بیمار لوگوں کو ان کی آواز کی زرد آہٹ سے پہچان لیتی۔ اس کی زندگی میں کئی مرد آئے مگر ان میں صرف ایک ہی ایسا تھا جس نے اس کی انفرادیت کو سراہا۔ وہ اس کی گہری سرخ باتوں کے ریشم میں الجھ کر زندگی کو دھنک سمجھ بیٹھی لیکن جب وعدوں کا بلبلہ پھٹا تو اسے ادراک ہوا کہ اس کا اپنا کوئی رنگ نہیں تھا۔

کہانی ختم ہوئی تو رنگوں میں سوچنے والی لڑکی نے میرا گریبان پکڑ لیا اور مجھے حقارت بھری نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی :

”یہ جانتے ہوئے بھی کہ میں ایک غیر معمولی کردار تھی، تم نے مجھے ایک معمولی کہانی اور معمولی انجام عطا کیا، چناں چہ میں اسے رد کرتی ہوں کہ یہ مردوں کے بنائے ہوئے سماج میں عورت کی کہانی لکھنے والے مرد کا جبر ہے۔“

میں جانتا ہوں کہ مجھے اس کردار کی کہانی دوبارہ لکھنی ہوگی لیکن اس سے پہلے مجھے ایک ریڈیکل فیمینسٹ کا ذکر کرنا ہے اور اور خالد سعید کے افسانے ”متولیہ“ کی کہانی بیان کرنی ہے۔

۔

چند مہینوں قبل مجھے ایک سیمینار میں جانے کا اتفاق ہوا، جہاں میری ملاقات ایک نامی گرامی ریڈیکل فیمینسٹ سے ہوئی جس نے مادر سری نظام کی حمایت میں دلائل کے انبار لگا دیے، مگر جب اس سے خواجہ سراؤں کے متعلق دریافت کیا گیا تو اس نے انہیں ایک اول جلول ڈب کڑھبی مخلوق قرار دیا، جو عورتوں کی بھونڈی نقالی کو اپنا طرۂ امتیاز سمجھتی ہے۔ میں یہ عظیم الشان خیالات جان کر ششدر رہ گیا اور مجھے خیال آیا کہ اگر ٹھیک اسی لمحے پدرسری نظام کو مادر سری نظام سے بدل دیا جائے تو بھی جبر کا عالم یہی رہے گا کہ محض چہروں کی تبدیلی سے سماج نہیں بدلا کرتے۔

پھر مجھے خالد سعید کا افسانہ ”متولیہ“ یاد آیا کہ جس کی ہیروئن کو اس کا باپ اور بھائی قتل کرنا چاہتے ہیں اور وہ ایک مزار میں چھپی گریہ و زاری کر رہی ہے۔ اس کی آہ و بکا سن کر صاحب مزار اپنے مرقد سے باہر نکل آتا ہے اور اس کا مسئلہ دریافت کرتا ہے تو پتا چلتا ہے اسے پسند کی شادی کرنے کی پاداش میں قتل کیا جا رہا ہے۔ یہ سن کر صاحب مزار اپنا ماتھا پیٹ لیتا ہے اور انکشاف کرتا ہے کہ اب سے پانچ ہزار برس قبل اسے بھی غیرت کے نام پر قتل کیا گیا تھا اور مارنے والی خود اس کی اپنی ماں اور بہنیں تھیں۔

اور جہاں ”متولیہ“ کی کہانی ختم ہوتی ہے، وہیں سے گونجتی سرگوشیوں کی کتھا شروع ہوتی ہے!

جب میں نے پہلی بار ”گونجتی سرگوشیاں“ کا نام سنا تو فوراً ہی ذہن میں سوال ابھرا کہ آخر یہ سرگوشیاں کس کی ہیں اور کہاں گونج رہی ہیں؟ پھر جونہی انکشاف ہوا کہ یہ ایک ایسا افسانوی مجموعہ ہے جسے بہ یک وقت سات خواتین نے مل کر تحریر کیا ہے تو بے اختیار وہ ریڈیکل فیمنسٹ یاد آئی جس کے نادر خیالات سن کر ”متولیہ“ سے رجوع کرنا پڑا تھا۔ ڈرتے ڈرتے کتاب کھولی تو سب سے پہلے ”ایلے سارینا“ پر نظر پڑی۔ ثروت نجیب کے اس افسانے نے پہلی ہی قرات میں جکڑ لیا۔

فلیش بیک اور میجیکل رئیلزم کے امتزاج سے جنگ و جدل اور خون خرابے کے متوازی سفر کرتی ایک لامتناہی پریم کتھا پڑھنا کئی حوالوں سے ایک ناقابل فراموش تجربہ تھا، جسے میں لو آٹ فرسٹ ریڈنگ کا نام دوں گا۔ تشبیہ اور استعارے سے مزین شاعرانہ زبان نے کہانی کا تاثر دو آتشہ کر دیا۔ چونکہ میں بنج ریڈنگ کا قائل ہوں لہذٰا ثروت کے پانچوں افسانے ایک ہی نشست میں پڑھ ڈالے۔ ان کا ایک اور افسانہ ”شہرہائی ذغالی“ پوسٹ ہیومس فکشن کی عمدہ مثال ہے، جسے پڑھ کر انور سجاد کے ابتدائی عہد کا وہ معروف افسانہ یاد آیا، جس کا مرکزی کردار صدر مملکت کو قتل کرنے کے بعد خود کشی کر لیتا ہے اور اپنے تئیں جنت میں آنکھ کھولتا ہے تو خود کو جہنم میں موجود پاتا ہے۔ یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ ان کے زیادہ تر پروٹاگونسٹ مرد تھے، جنہیں بفر زون میں پیدا ہونے کی سزا ملی، اور جو کبھی بین الاقوامی عسکریت پسندی کا شکار ہوئے، تو کبھی مذہبی انتہا پسندی کی بھینٹ چڑھ گئے۔

ثروت نجیب کے بعد ابصار فاطمہ کو پڑھا۔ ثروت نجیب کی طلسماتی اور اساطیری فضا کے برعکس ابصار فاطمہ کے افسانے سادہ بیانیے میں اندرون سندھ کی دیہی زندگی کو منعکس کرتے ہیں، جہاں کا جاگیردارانہ نظام اور وڈیرا شاہی پسے ہوئے طبقے کی عورت کو قربانی کے جانور جتنی اہمیت دینے پر بھی تیار نہیں۔ ابصار فاطمہ نے سماجی حقیقت نگاری کا وظیفہ استعمال کرتے ہوئے چائلڈ میرج، فورسڈ کنورشن اور میریٹل ابیوز جیسے مشکل، مگر حقیقی موضوعات پر قلم اٹھایا ہے۔

”لچھی کی کرسی“ ان کا نمائندہ افسانہ ہے، جس میں ایک ہندو لڑکی اپنی بقاء کے لیے پاور ڈسکورس کا حصہ بنتی ہے، یہاں تک کہ ایک ایسا وقت آتا ہے، جہاں اسے کرسی یا اپنی ذات میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ سمیرا ناز بھی ابصار فاطمہ کی طرح مختصر نویسی کی قائل ہیں اور سادہ بیانیے، مونولاگ اور مکالمے کے ذریعے کہانی آگے بڑھاتی ہیں، تاہم انہیں مظلوم عورتوں کے بجائے مظلوم مردوں اور خواجہ سراؤں کے کردار زیادہ فیسینیٹ کرتے ہیں۔

ان کے مختصر افسانے ”تنہائی کے دو پل“ میں ایک ایسے کردار کا ماجرا بیان کیا گیا ہے، جو ڈبل شفٹ میں کام کرنے کے باوجود اپنے خاندان کی ضروریات پوری کرنے سے قاصر ہے، اور یوں مرکزی کردار کے وسیلے جدید پرولتاری فرد کے مسائل بیان کرنے کی سعی کی گئی، جسے روزی روٹی کے گھن چکر میں ڈال کر ایسی بدترین غلامی سے دوچار کر دیا گیا ہے کہ وہ انسان کے بجائے ایک مشین بن کر رہ گیا ہے۔ اسی طرح ان کے ایک اور مختصر افسانے ”سوڈے کی بوتل“ میں نفسیاتی حقیقت نگاری کا وظیفہ استعمال کرتے ہوئے ایک ایسے فرد کی کہانی بیان کی گئی ہے، جو شدید اینگزائٹی سے دوچار ہے، مگر اس کے اپنے خاندان کے لوگ اس کی کیفیت کو سمجھنے سے قاصر ہیں۔ سمیرا ناز کے افسانوں کو پوسٹ ماڈرن فیمینزم، ایکو فیمینزم اور مارکسزم کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے موضوعات نئے اور عصر حاضر سے متعلق ہیں، تاہم اگر وہ روایتی ٹریٹمنٹ کے بجائے جدید ٹولز کا استعمال کرتیں تو ان کے افسانوں کا سکوپ مزید بڑھ سکتا تھا۔

معافیہ شیخ کے کردار اس کتاب کے دیگر افسانہ نگاروں کے برعکس نسبتاً دھیمے مزاج کے حامل ہیں کیونکہ وہ مزاحمت کے بجائے خود ترسی اور کمپرومائز پر یقین رکھتے ہیں۔ ان کے زیادہ تر افسانے علامتی بیانیہ لیے ہوئے ہیں۔ صفیہ شاہد اور فاطمہ عثمان کے ہاں بالعموم لوئر مڈل کلاس اور مڈل مڈل کلاس کی عورتوں کی نفسیات دیکھنے کو ملتی ہے، جنہیں اتنی بار استحصال کے عمل سے گزرنا پڑا کہ ان کی مزاحمتی قوت بیدار ہو گئی۔ فرق محض یہ ہے کہ صفیہ شاہد کی عورتوں نے اپنی کمزوری کو اپنی طاقت بنا لیا ہے، چنانچہ وہ اینٹ کا جواب پتھر سے دینے کی قائل ہیں اور ضرورت پڑنے پر ذہنی، حتیٰ کہ جسمانی تشدد سے بھی گریز نہیں کرتیں، جبکہ فاطمہ عثمان کی عورتیں زندگی سے سمجھوتہ کر چکی ہیں، تاہم ان کا مزاحمتی کردار تلخی اور اضطراب کی صورت میں خود کو زندہ رکھتا ہے۔

ان دونوں لکھاریوں کے ہاں سادہ بیانیہ کے ساتھ علامتی بیانیے کا انٹر پلے اور مونولاگ کا استعمال دیکھنے کو ملتا ہے، جو ان کی کرافٹ کو تازگی اور تہہ داری عطا کرتا ہے۔ صفیہ شاہد اور فاطمہ عثمان کے برعکس فرحین خالد کے ہاں زیادہ تر اپر مڈل کلاس اور ایلیٹ کلاس کی عورتوں کی نفسیات اور مسائل دیکھنے کو ملتے ہیں۔ انہوں نے ورچوئل رومانس، باڈی شیمنگ اور مرسی کلنگ جیسے موضوعات پر قلم اٹھایا، جنہیں پڑھ کر ایک خوشگوار حیرت کا احساس ہوا، بالخصوص ان کا افسانہ ”تم کیا جانو پریت“ اپنے موضوع اور پیشکش کے اعتبار سے ایک عمدہ کاوش ہے، جسے بہ یک وقت جادوئی حقیقت نگاری اور نفسیاتی حقیقت نگاری کے تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔

”گونجتی سرگوشیاں“ عورتوں کی لکھی ہوئی کہانیاں ضرور ہیں مگر یہ محض عورتوں کے لیے ہی نہیں لکھی گئیں۔ یہ اس بچے کی کہانی بھی ہے، جسے ریپ جیسے گھناونے عمل سے گزارا گیا۔ یہ اس خواجہ سرا کی کہانی بھی ہے، جسے ہمارا سماج انسان ماننے سے انکاری ہے۔ یہ اس مرد کی کہانی بھی ہے، جو مردوں کی بہیمانگی اور جبر کا شکار ہوا۔ یہ اس ایکو سسٹم کی کہانی بھی ہے، جسے سرمایہ دارانہ نظام نے اندھا دھند منافع کی لالچ میں روند کر پرے پھینک دیا۔

کبھی کبھار میں سوچتا ہوں ہمارا سماج طاقتور مردوں کا بنایا ہوا ایک مقبرہ ہے، جس میں انہوں نے عورتوں، خواجہ سراؤں اور ایکو سسٹم کو زندہ دفن کیا ہوا ہے۔ اس مقبرے کو گرانے کا طریقہ کیا ہے؟ سرگوشیاں! ۔ سینکڑوں، ہزاروں، لاکھوں سرگوشیاں، جو مل کر ایک زوردار گونج پیدا کریں، جس میں اتنی شدت اور توانائی ہو کہ اس مقبرے کو ہمیشہ کے لیے مسمار کر دے اور ایک ایسا سماج تشکیل دے، جس میں ہر جاندار کے پاس اپنے اپنے حصے کی آکسیجن اور روشنی ہو۔

”گونجتی سرگوشیاں“ اس بات کا واشگاف اعلان ہے کہ آج کی عورت نہ صرف اپنی کہانی لکھنا جانتی ہے بلکہ وہ اپنی ذات کے محبس سے باہر نکل کر دیکھنے پر بھی قادر ہے۔ وقت آ گیا ہے کہ رنگوں میں سوچنے والی لڑکی کی کہانی دوبارہ لکھی جائے، مگر اس بار اس کی کہانی میں نہیں لکھوں گا، اپنی کہانی وہ آپ لکھے گی۔ اور شاید اس کے بعد میری کہانی بھی!

(مورخہ اکیس جنوری دو ہزار بائیس کو اکادمی ادبیات پاکستان میں ”گونجتی سرگوشیاں“ کی تقریب رونمائی کے دوران پڑھا گیا)

Facebook Comments HS