کپل شرما کی کامیابی کی کہانی ہمیں بہت کچھ سکھاتی ہے


آئی ایم ناٹ ڈن یٹ

کپل شرما آج کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ یہ نام فقط ایک انسان کا نہیں ہے بلکہ خود میں طنز و مزاح، ہنسی و مذاق، خود ہنسنا دنیا کو ہنسانا جیسے معنی رکھتا ہے۔

کپل شرما کی زندگی کی کہانی کافی دلچسپ ہے۔

گمنامی سے تھیٹر و سنگنگ تک کا سفر، تھیٹر سے اسٹینڈپ کامیڈی اور اسٹنڈپ کامیڈی سے اپنا شو وجود مین لانے تک کی تگ و دو اور پھر ایشیاء کا ٹاپ کامیڈین بننے تک کی راہ بالی ووڈ میں انٹری کی کہانی کافی دلچسپ اور عام لوگوں کے لئے انسپائریشن رکھتی ہے۔

کپل شرما کی کہانی کا آغاز گمنامی سے ہوتا ہے خود کی کوشش اور محنت سے کامیابی کا سفر طے کرتے ہوئے بے پناہ شہرت، دولت، عزت حاصل کرتا ہے اور آج ہر ایک کے دل پر راج کر رہا ہے۔

اس کے اس کامیابی کے سفر میں ایک وقت وہ آتا ہے جب وہ ڈپریشن میں چلا جاتا ہے اور اسی ڈپریشن میں کئی تنازعات میں گھر جاتا ہے مثلاً کامیڈین ساتھی سنیل گروور سے تعلق میں کشیدگی پیدا ہو جاتی ہے اس تنازعہ کی وجہ سے اس کی پوری ٹیم دو گروپ میں تقسیم ہو جاتی ہے اور نتیجتاً کپل شرما شو بند ہوجاتا ہے۔

ٹویٹر پر موجودہ وزیر اعظم کے خلاف کچھ ٹویٹ کر دیتا ہے جس کی وجہ سے وزیر اعظم کے چاہنے والوں کی طرف سے کافی تنقید کا نشانہ بنتا ہے۔

اس کی زندگی میں یہ حادثات ایک خطرناک ٹرننگ پوائنٹ بن سکتے تھے۔ یہاں تک کہ کئی بالی وڈ ماہرین  نے یہ پیش گوئی بھی کر دی کہ اب مشکل ہی کپل شرما اپنی کھوئی ہوئی دولت، شہرت حاصل کر پائے گا۔

لیکن کپل شرما نے ہار نا مانی اور دوبارہ کھڑا ہونے کی ہمت کی اور وہ خود کو ذہنی اور جسمانی اعتبار سے تیار کیا اور کچھ وقفے کے بعد کافی شاندار انداز میں واپسی کی پوری ٹیم کو جمع کیا اور شو کا آغاز کیا۔

ابھی حال ہی میں نیٹ فلیکس پر کپل شرما کا پہلا شو رلیز ہوا ہے آئی ایم ناٹ ڈن یٹ (I ’m not done yet ) جس میں کپل شرما خود اپنی سر گزشت حیات اور اپنی اسٹرگل کی کہانی کو بیان کرتا ہے جو کہ کافی شاندار ہے۔

اس شو کا اصل بنیادی نکتہ یہ ہے کہ کپل شرما آج کامیابی کے جس مقام پر ہے وہاں تک پہنچنے کی تگ و دو میں بے شمار نوجوان اس گرد راہ میں الجھے ہوئے ہیں لیکن منزل کا نام و نشاں دور دور تک نظر نہیں آتا ہے۔

اتنی کامیابی مل جانے کے باوجود بھی کپل شرما کہتا ہے I ’m not done yet کیونکہ کائنات بہت بڑی ہے میں جس مقام پر ہوں وہ کامیابی کی آخری منزل نہیں ہے بلکہ ہر گزرنے والی شب اور آنے والا دن یہ احساس دلاتا ہے کہ ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں۔

زندگی ایک سفر ہے یہاں پر صرف چھوٹے چھوٹے پڑاؤ ہیں منزل کہیں نہیں ہے ایک انسان کو چاہیے کہ وہ پڑاؤ کو ہی اپنی منزل نا تصور کرے بلکہ اپنا سفر مسلسل جاری رکھے یہ سفر ہی اصل زندگی جینے کا احساس دلاتی ہیں۔

انسان کی زندگی ایک سائکل کی طرح ہے جب تک اس کی پہیا چل رہی ہوتی ہیں تب تک وہ گرتی نہیں ہے اور جیسے ہی وہ رک جاتی ہیں تو پھر وہ گر جاتی ہے۔

سفر ہمیشہ جاری رکھیں چھوٹی چھوٹی کامیابیوں کو اصل منزل نہ سمجھیں اور ہمیشہ اپنی کچھ خواہشات کو تشنہ رہنے دیں تاکہ ان کی تکمیل کی چاہت آپ کو پرسکون نہ بیٹھنے دیں کیوں کہ travel is our destination۔

زندگی کے دو رخ ہیں خوشی غم، عروج زوال
زندگی میں غم، مایوسی، زوال اس کا مقدر بنتی ہیں جو ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہوا ہے۔
عروج، کامیابی، خوشی اس شخص کو ملتی ہیں جو کچھ پانے کے لیے دوڑ دھوپ کر رہا ہے۔

ایک بات یاد رکھیے گھر کی چہار دیواری میں کچھ نہیں ملنے والا ہے ملتا اسی کو ہے جو ہجرت کرتا ہے، منزل اسی کو ملتی ہے جو سفر میں نکلتا ہے، کامیابی اسی کا مقدر ٹھہرتی ہے جو در بدر کچھ پانے کے لیے بھٹکتا ہے۔

Facebook Comments HS