مکران میں انتظامی حوالے سے مزید ضلع بنانے کی اہم وقتی ضرورت


مکران میں اس وقت صرف تین اضلاع ہیں در حالانکہ آبادی کے اعتبار سے مکران میں نو اضلاع بنانے کی گنجائش موجود ہے، ترقی کے لیے ناگزیر ہیں کہ علاقوں کو چھوٹے چھوٹے انتظامی حصوں میں تقسیم کیا جائے، اس کے دو فوائد ہیں ایک تو امن قائم کرنے میں مدد ملی گی، دوئم ترقی کے لئے بھی یہ حکمت عملی دنیا میں زیادہ کارگر ہے۔ اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ تربت سمیت گوادر کو علاقائی ترجیح کی بنیاد پر آبادی کے لحاظ سے مزید ضلع بنایا جائے۔

یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے جو ہم کر رہے ہیں بلکہ بلوچستان میں ایسے اضلاع بھی موجود ہیں جن کی آبادی ایک لاکھ سے کم ہے میں اعداد و شمار کے تحت گن کر بتاوں گا کہ اگر ان کے اعداد و شمار کی بنیاد پر مکران میں مزید اضلاع بنایا جائے تو کتنے اضلاع کی گنجائش موجود ہے۔

اس وقت ہرنائی کی آبادی صرف 97 ہزار ہے، لہٹری کی آبادی ایک لاکھ 18 ہزار ہے۔ ، زیارت کی آبادی ایک 60 ہزار ہے، سبی کی آبادی ایک لاکھ 30 ہزار ہے واشک کی آبادی ایک لاکھ 76 ہزار ہے آوران کی آبادی صرف ایک لاکھ 21 ہزار ہے خاران کی آبادی ایک لاکھ 56 ہزار ہے، موسیٰ خیل کی آبادی ایک لاکھ 67 ہزار ہے، بارکھان کی آبادی ایک لاکھ 71 ہزارہے اور اسی طرح شیرانی کی آبادی صرف ایک لاکھ 53 ہزار ہے جبکہ ان تمام علاقوں کو اضلاع کی حیثیت حاصل ہے جبکہ ان کے مقابلے میں ضلع کیچ کی صرف آبادی 9 لاکھ سے بھی زیادہ ہے جو ان کے اضلاع کے مقابلے میں چار اضلاع سے بھی زیادہ ہے جبکہ پورا کیچ ایک ہی ضلع ہے۔

اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلع کیچ کو چار ضلعوں میں تقیم کیا جائے۔ اس کا فارمولا درج ذیل طریقے سے بنایا جاسکتا ہے۔

اس وقت تربت تحصیل کی آبادی چار لاکھ 17 ہزار کے لگ بھگ ہے جو کہ باقی اضلاع کی نسبت بھی زیادہ ہے۔ بلیدہ سب تحصیل کی آبادی 77 ہزار ہے، زعمران سب تحصیل کی آبادی 43 ہزار ہے، ہوشاب سب تحصیل کی آبادی 51 ہزار ہے، بلنگور سب تحصیل کی آبادی 45 ہزار ہے، دشت سب تحصیل کی آبادی 77 ہزار ہے، تمپ تحصیل کی آبادی ایک لاکھ 46 ہزار ہے اورمند سب تحصیل کی آبادی 50 ہزار ہے۔

اب کیچ کو عوامی مفاد عامہ اور علاقائی جغرافیہ کے اعتبار سے درج ذیل فارمولے کے تحت پانچ اضلاع میں تقسیم کیا جائے۔

اول۔ زعمران اور بلیدہ تحصیل دونوں کی آبادی کل ملاکر ایک لاکھ 20 ہزار ہے یہ دونوں علاقے جغرافیائی اعتبار سے آپس میں ملتے ہیں ان دنوں کو ایک ضلع کی حیثیت دیا جائے جس کا ہیڈ کوارٹر بلیدہ کو بنایاجائے۔ اگر ہرنائی 97 ہزار کی آبادی کی بنیاد پر ضلع بن سکتی ہے تو بلیدہ زعمران ایک لاکھ 20 ہزار آبادی کے باوجود کیوں ضلع نہیں بن سکتی۔ مگر یہ محض ہمارے علاقائی سیاستدانوں کی نا اہلی ہے جو اب تک نہیں بنی۔

دوئم۔ تمپ تحصیل کی آبادی ایک لاکھ 46 ہزار ہے جبکہ مند سب تحصیل کی آبادی 50 ہزار ہے۔ دونوں کی آبادی ایک لاکھ 96 ہزار ہے اگر سبی ایک لاکھ 38 ہزار آبادی کی بنیاد پر ضلع ہے تو تمپ ایک لاکھ 96 ہزار آبادی کے باوجود کیوں ضلع نہیں بن سکتی۔ اس ضلع کا ہیڈکوارٹر تمپ کو بنایا جائے۔

سوئم، دشت سب تحصیل کی آبادی 77 ہزار ہے جبکہ دشت سے ملحقہ بلنگور سب تحصیل کی آبادی 45 ہزار ہے دونوں کی آبادی ایک لاکھ 22 ہزار بنتی ہے یہ دونوں علاقے آپس میں ملے ہوئے ہیں ان دونوں کو ضلع کی حیثیت دیا جائے جس کے لیے دشت کے کسی خاص مقام کا تعین کر کے اسے ضلعی ہیڈ کوارٹر بنایا جائے۔

چارم۔ ہوشاب سب تحصیل کی آبادی 51 ہزار ہے ہوشاب سے بہت سارے علاقے منسلک ہیں اور یہ ایک مرکز بھی ہے تربت تحصیل بہت بڑی ہے جس کی آبادی چار لاکھ 17 ہزار کے لگ بھگ ہے اس لیے ناصر آبادی سے لیکرکولواہ تک جیتنے بھی علاقے سی، پیک روڈ پر آتے ہیں انہیں الگ ضلع کی حیثیت دیا جائے۔ ان علاقوں میں، شاپک، شارک، سامی، ہیرونک، تحابان، ہوشاب، تل، کولواہ، تنک، بلگتر، گورکوپ، شامل ہیں جبکہ ناصر آباد سے لے کر جوسک تک بھی تمام علاقے اس ضلع میں شامل ہونے چاہیں اسی طرح یونین کونسل سید آاباد کیلکور اور سحاقی یونین کونسل جو اس وقت پنجگور ضلع میں شامل ہیں ہوشاب کو ضلع بنانے کی صورت میں انہیں ہوشاب ضلع میں شامل کیا جاسکتا ہے جن کی آبادی 6 ہزار کے لگ بھگ ہے۔ اس طرح ان علاقوں کی کل آبادی ایک لاکھ سے زائد ہے اگر ہرنائی 97 ہزار کی آبادی کی بنیاد پر ایک ضلع کی حیثیت حاصل کر لیتی ہے تو ہوشاب کیوں نہیں۔ اس ضلع کا ہیڈ کوارٹر ہوشاب کو بنایا جائے۔

پنجم۔ تربت تحصیل جو اس وقت ضلع کیچ کا حصہ ہے اسے الگ ضلع بنایا جائے۔ جس کی آبادی چار لاکھ کے لگ بھگ ہے اگر چہ تربت ضلع باقیوں کی نسبت آبادی کے اعتبار سے بہت بڑی بنتی ہے لیکن اس کے علاوہ ہمارے پاس کوئی چارہ نہیں ہے چونکہ یہ تربت سٹی کی آبادی ہے سٹی کو دو اضلاع میں تقسیم کرنا فی الحال نامناسب ہی ہے۔ اس لیے فی الحال تربت سٹی کو صرف ایک ضلع کی حیثیت دی جائے۔

اس طرح ہمارے فارمولے کے تحت ان علاقوں کو درجہ بالا پانچ اضلاع میں تقسیم کیا جائے۔ اس سے ایک تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ دوئم لوگوں کے لیے سہولیات پیدا ہوں گی۔ سوئم ترقی کے لیے لائحہ عمل طے کرنے میں آسانی ہوگی۔ چارم۔ امن وامان کی بحال یقینی بنایا جا سکے گا۔

اسی طرح گوادر کو بھی دو اضلاع میں تقسیم کیا جائے اس کا فارمولا درج ذیل ہونا چاہیے۔

گوادر سٹی کی آبادی ایک لاکھ 46 ہزار ہے اور جیونی کی آبادی 26 ہزار کے لگ بھگ ہے گوادر اور جیوانی چونکہ منسلک علاقے ہیں انہیں ایک ضلع کا درجہ دیا جائے۔ جن کی آبادی ایک 72 ہزار بنتی ہیں اگر خاران ایک لاکھ 55 ہزار آبادی کی بنیاد پر ایک ضلع ہے تو گوادر اور جیوانی ایک لاکھ 72 ہزار آبادی کے باوجود کیوں ایک ضلع نہیں بن سکتیں۔

اسی طرح تحصیل پسنی کی آبادی 61 ہزار ہے، اورماڑہ کی آبادی 25 ہزار ہے جبکہ سنٹسر کی آبادی 10 ہزار سے زیادہ ہے کل ملا کر ان کی آبادی 96 ہزار بنتی ہیں ان تینوں کو الگ ضلع کی حیثیت دیا جائے جن کی آبادی ایک لاکھ کے قریب ہے۔ پسنی کو اس ضلع کا ہیڈ کوارٹر بنایا جائے۔

2017 کی آبادی کے مطابق پنجگور کے بارے میں کوئی رائے دینا مناسب نہیں ہے۔ پنجگور کے تین تحصیل گوارگو، پروم اور گچک میں مردم شماری ہوئی ہی نہیں تھی جن کی آبادی 2017 کے مردم شماری کے مطابق 54 ہزار ہے جبکہ پنجگور تحصیل کی آبادی 2 لاکھ 60 ہزار بنتی ہے۔ اگر گوارگو، پروم اور گچک میں دوبارہ مردم شماری کی جائے تو ان علاقوں کی کل آبادی ایک لاکھ سے زائد بن سکتی ہے جس کی بنیاد پرا نہیں پنجگور سے الگ ضلع بنایا جا سکے گا۔

اس طرح مکران میں کل 9 اضلاع بن سکتے ہیں مگر اس کے لیے جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے ہمارے سیاستدان تو ما شا اللہ دولت جمع کرنے میں لگے ہوئے ہیں انہیں قوم و علاقے کی کوئی پرواہ نہیں مگر ہم بحیثیت قوم جاگ کر سیاستدانوں کو جگا کر یہ کر سکنے کی سکت رکھتے ہیں اور یقین جانیے اس سے ہمارے لیے بہت آسانیاں ہوں گے اور روزگار کے بھی بہت زیادہ مواقع پیدا ہونگے۔

Facebook Comments HS