حکومت کیوں نواز شریف سے خوفزدہ ہو رہی ہے؟
ایسا دکھائی دیتا ہے۔ عمرانی حکومت کو نواز شریف فوبیا ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان سے لے کر پی ٹی آئی کا ادنیٰ کارکن تک صبح و شام نواز شریف بارے بیانات جاری کرنا اپنا فرض اولیں سمجھتا ہے۔ یہ سلسلہ اس دن سے جاری ہے جب سے میاں نواز شریف کو علاج معالجے کے لئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی اسے نواز شریف فوبیا ہی کہا سکتا کیونکہ حکومت نواز شریف کی واپسی کا راگ جس زور شور سے الاپ رہی ہے اس سے پوری حکومت کی پریشانی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
میاں نواز شریف کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد گر جانے کے بعد جب حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو لالے پڑے گئے تو میاں نواز شریف کو بیرون جانے کی اجازت دی گئی کسی کے وہم و گماں بھی نہ تھا کہ لندن پہنچنے کے بعد میاں صاحب کے نہ صرف پلیٹ لیٹس مستحکم ہو جائیں گے بلکہ وہ ایک صحت مند شخص کے طور ہائیڈ پارک میں واک کرتے نظر آئیں گے جب کبھی میاں نواز شریف کسی ریسٹورنٹ میں کافی پیتے یا کھانا کھاتے نظر آتے ہیں تو کپتان سمیت ان کی پوری ٹیم کا مورال گر جا تا ہے پھر حکمران جماعت کا ہر چھوٹا بڑا لیڈر میاں نواز شریف کے خلاف ہرزہ سرائی میں اپنا اپنا حصہ ڈالنے کے لئے دوڑ میں شریک ہو جا تا ہے۔
وزیر اعظم صبح و شام کور کمیٹی اور ترجمانوں کے اجلاس بلا کر میاں نواز شریف کے خلاف میڈیا مہم تیز تر کرنے کی ہدایات جاری کرتے رہتے ہیں پھر فواد چوہدری سے لے کر شہباز گل تک ہر حکومتی ترجمان نواز شریف کے خلاف بیان بازی کر رہا ہوتا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ نواز شریف ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے پاکستان کی بگڑتی ہوئی معیشت کی بحالی کے لئے اتنے اجلاس منعقد نہیں کیے جتنے انہوں نے نواز شریف کی واپسی پر کیے ہیں جب میاں نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دی گئی تو کسی کو اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ میاں نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے زیادہ لندن میں قیام کے دوران حکومت کے لئے زیادہ خطرناک ہوں گے۔
میاں صاحب کا شمار خطے کے سینئر ترین رہنماؤں میں ہوتا ہے۔ جہاں ان کی عالمی سطح کے لیڈروں تک رسائی حاصل ہے۔ عمرانی حکومت کو سب سے زیادہ پریشانی سعودی عرب کے حکمران کے مشیر کی میاں نواز شریف سے ملاقات سے ہوئی ہے جس کے بعد خود عمران خان بھی کہنے لگے نواز شریف کی سزا ختم کرنے کے لئے راستے تلاش کیے جا ہے۔ ہیں۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی کہ میاں نواز شریف کا شمار آج بھی پاکستان کے مقبول ترین لیڈروں میں ہوتا ہے۔
وہ آج بھی عوام کے دلوں پر حکمرانی کرتے ہیں۔ سزا یافتہ ہونے اور جلاوطن کیے جانے کے باوجود ان کی مقبولیت کا گراف کم نہیں ہو بلکہ دن بہ دن اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عمرانی حکومت کے ترجمان ہر روز میاں نواز شریف کے بارے میں کوئی نہ کوئی شوشہ چھوڑ کر پی ٹی آئی کے کارکنوں یہ تسلی دینے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ بس نواز شریف کو دوبارہ جیل میں ڈالنے کے دن کا انتظار ہے۔ اس کے بعد ملک کے تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ 100 فیصد عمران خان کا تھا جس میٹنگ میں نواز شریف کو باہر بھیجنے کا فیصلہ ہوا، میں بھی اس میں شریک تھا جس وقت میاں نواز شریف کو بیرون ملک بھیجنے کی اجازت دینے کا معاملہ زیر غور آیا اس وقت کمرے میں 6 سے 8 لوگ بیٹھے تھے جب کہ نواز شریف کو بھیجنے کا معاملہ پہلے کابینہ میں زیر بحث آیا تھا۔ عمران خان نے یہ نہیں کہا کہ یہ فیصلہ ان کا نہیں تھا۔ پی ٹی آئی کی سینئر لیڈر شپ کمرے میں بیٹھی تھی اور نواز شریف کو باہر بھیجنے کے فیصلے پر سب کی رائے مختلف تھی عمران خان کا کہنا ہے کہ جن میڈیکل رپورٹس کی بنیاد پر وہ فیصلہ کیا گیا وہ جھوٹی ثابت ہوئیں۔
جب سے حکومت نے میاں نواز شریف کی واپسی کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ سابق وزیراعظم نواز شریف کی نئی میڈیکل رپورٹ لاہور ہائی کورٹ میں جمع کرا دی گئی ہے۔ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ بین الاقوامی شہرت یافتہ کارڈیالوجسٹ ڈاکٹر فیاض شال نے تیار کی ہے جو امجد پرویز ایڈووکیٹ کی وساطت سے عدالت میں جمع کرائی گئی ہے۔ امریکی ڈاکٹر فیاض کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میاں نواز شریف انجیو گرافی کرائے بغیر لندن سے نہ جائیں وہ علاج کے بغیر پاکستان گئے تو ان کی حالت بگڑ سکتی ہے۔
میڈیکل رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ نواز شریف اپنی ادویات جاری رکھیں اور کھلی فضا میں چہل قدمی کریں، چہل قدمی کے دوران کورونا سے بچاؤ کے اقدامات بھی کریں، دنیا میں موجودہ کورونا وائرس کی عالمی وبا کو دیکھتے ہوئے ان کو ہر طرح کے سفر /یا عوامی مقامات جیسے ہوائی اڈوں پر جانے سے گریز کرنا چاہیے۔ رپورٹ کے مطابق کلثوم نواز کی وفات کے بعد میاں نواز شریف زیادہ دباؤ میں ہیں۔ وہ ذہنی دباؤ کے بغیر اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں، ذہنی دباؤ سے ان کی بیماری مزید بگڑ سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے سبب ان کو سانس کا مسئلہ بھی ہو سکتا ہے۔ وہ دل کے مریض ہیں اور کورونا وبا کے سبب ان کی جان بھی جا سکتی ہے لہٰذا جب تک نواز شریف کی کرونری انجیو گرافی نہیں ہوجاتی وہ صحت سینٹر کے قریب ہی رہیں اور ادویات لیتے رہیں۔ رپورٹ میں ڈاکٹر نے لکھا ہے کہ حال ہی میں بتایا گیا ہے کہ چونکہ انہوں نے اپنی ذیابیطس کو کنٹرول کرنے کے لئے روزانہ Empagliflozin 10 mg دوا شروع کی تھی جس کے نتیجے میں ان کے گردوں کے افعال خراب ہو گئے ہیں۔ اس لئے ان کی انجیو گرافی سے پہلے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ رپورٹ میں ڈاکٹر فیاض شال نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی صحت سے متعلق کسی سوال کی صورت میں ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
حکومت کی طرف سے حسب معمول لاہور ہائیکورٹ میں سابق وزیراعظم نواز شریف کی جمع کرائی میڈیکل رپورٹ کو مسترد کر دیا گیا ہے۔ وفاقی وزرا نے سے جعلی رپورٹ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کے نئے ڈاکٹر کا تعلق بھی ہندوستان سے ہے۔ ڈاکٹر کے مطابق ان کو وہ بیماریاں بھی ہو گئی ہیں جو صرف عورتوں کو ہوتی ہیں۔ یہیں تک نہیں بلکہ ڈاکٹر نے بالواسطہ طور پر یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ میاں صاحب کی شادی بھی کروائی جائے، وزرا میاں نواز شریف کی علالت کا پہلے ہی مذاق اڑا رہے تھے۔ اب انہیں مذاق اڑانے کا ایک اور موقع مل گیا ہے۔ وزرا نے ایک بین الاقوامی شہرت کے مالک کارڈیالوجسٹ کی رپورٹ کو مسترد کر دی ہے۔ فواد چوہدری نے کہا ہے کہ امریکا میں بیٹھے ہوئے اپنے ذاتی معالج سے جعلی میڈیکل رپورٹس تیار کروا کر پاکستان بھجوانا پاکستان کے عدالتی نظام اور قوانین کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ رپورٹ میں واشنگٹن میں مقیم ڈاکٹر شال نے لندن میں مقیم نواز شریف کے بارے میں لکھا ہے کہ وہ دباؤ کا شکار ہیں اور کووڈ 19 کی وجہ سے نواز شریف کی حالت ایسی نہیں کہ وہ پاکستان کا سفر کر سکیں۔
انہوں نے رپورٹ کے بارے میں اپنی ماہرانہ رائے دی ہے کہ اس میں صرف یہی کمی ہے کہ نواز شریف کو ہائیڈ پارک کے علاوہ کسی دوسری جگہ واک کرنے کی بھی اجازت نہیں، اس سے ان کے اسٹریس میں اضافہ ہو گا۔ ڈاکٹر شہباز گل نے دعویٰ کیا ہے کہ نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ بنانے والے ڈاکٹر کا تعلق بھارت سے ہے۔ ڈاکٹر کو لکھنا چاہیے تھا کہ مریض کے دل کو خوش رکھنے کے لئے ان کو فوراً وزیراعظم بنایا جائے اور دو تہائی اکثریت دلوائی جائے، لندن میں 10 مہنگے اپارٹمنٹس لے کر دیے جائیں اور سیکورٹی اداروں، ججز کو برا بھلا کہنے کی بھی اجازت دی جائے۔ اب تو نواز شریف کے ڈاکٹر کے مطابق ان کو وہ بیماریاں بھی ہو گئی ہیں جو صرف عورتوں کو ہوتی ہیں۔
لگتا ہے نواز شریف صاحب کوئی بڑا دھماکہ کرنے والے ہیں۔ انہوں نے مسلم لیگی قیادت سے سوال کیا ہے کہ کیا ہمیشہ کی طرح یہ رام کہانی بھی ہندوستان نے لکھوا کر دی ہے؟ واشنگٹن میں روزنامہ ڈان کے بیورو چیف انور اقبال جن کا شمار پاکستان کے سینئر ترین صحافیوں میں ہوتا ہے۔ نے وزرا کی طرف سے بین الاقوامی شہرت یافتہ ڈاکٹر فیاض شال کی رپورٹ کا مذاق اڑانے کو شرمناک قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر شال دنیا کے ایک نامور معالج قلب ہیں جنہوں نے امراض قلب کے مریضوں کے متعدد آپریشن کیے ہیں۔ ان کا آج تک ایک آپریشن بھی ناکام نہیں ہوا
اگر کوئی پاکستانی معالج امراض قلب ان کی رپورٹ کو چیلنج کرتا تو بات بنتی لہذا نام نہاد ترجمانوں کے بیانات کی کوئی اہمیت نہیں۔ وزیر اعظم عمران خان اور ان کی ٹیم اپنی ساری توانائی میاں نواز شریف کو واپس لانے پر صرف کرنے کی بجائے ڈوبتی معیشت کو سہارا دینے کی حکمت عملی تیار کریں شہزاد اکبر کو میاں نواز شریف کو واپس لانے میں اپنی ناکامی کا اعتراف کرنے پر پہلے ہی وزیر اعظم فارغ کر چکے ہیں۔ ترجمانوں کو بھی اپنا زور اس ایشو پر صرف نہیں کرنا چاہیے میاں نواز شریف اسی روز پاکستان روانہ ہو جائیں گے جس روز عمران خان اپنا بوریا بستر باندھ کر وزیر اعظم ہاؤس سے روانہ ہو رہے ہوں گے۔ بس سیاسی منظر تبدیل ہونے کا انتظار ہے۔

