مفاہمانہ طرزِ عمل کی اعلیٰ مثالیں

جماعت اسلامی کے پہلے قیم جناب قمر الدین خاں اور قائداعظم کے مابین 1941 کے آخر میں ملاقات ہوئی جو قومی زندگی میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ 1915 میں بنارس (یو پی) میں پیدا ہوئے اور مسلم علی گڑھ یونیورسٹی سے ایم اے عربی کی ڈگری حاصل کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی سے اقتصادیات میں ماسٹرز کیا۔ وہ جماعت اسلامی کے تاسیسی اجلاس میں شریک ہوئے اور دارالسلام (پٹھان کوٹ) میں تقریباً دو سال رہے۔ اس دوران معیار تقویٰ کا مسئلہ اٹھ کھڑا ہوا اور وہ مولانا جعفر پھلواری اور مولانا منظور نعمانی کے ساتھ جماعت سے علیحدہ ہو گئے۔ انہوں نے 1950 کے آخری عشرے میں پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ علوم اسلامیہ میں تدریس کے فرائض انجام دیے اور اس کے بعد ”ادارہ تحقیقات اسلامی“ سے بھی وابستہ رہے۔ 16 مارچ 1985 کو ان کا کراچی میں انتقال ہوا۔
قمر الدین خاں صاحب کی قائداعظم سے ملاقات کی روداد کراچی کے ہفت روزہ ”The Thinker“ کے دسمبر 1969 کے شمارے میں قطعی انداز میں شائع ہوئی جس میں قائداعظم نے فرمایا تھا ”مسلم لیگ اور جماعت اسلامی کے کام میں کوئی تضاد نہیں بلکہ یہ ایک دوسرے کو supplement کر رہی ہیں۔“ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ انہوں نے قائداعظم کی خدمت میں جماعت اسلامی کے جو تعارفی پمفلٹ پیش کیے تھے، وہ آرکائیوز میں محفوظ ہیں۔
سید ابوالاعلیٰ مودودی نے قائداعظم کی وفات پر ترجمان القرآن کے شمارے اکتوبر 1948 میں چھ صفحات پر محیط اشارات میں ان کے عظیم الشان کارناموں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا۔ مولانا رقم طراز ہیں :
”مسٹر محمد علی جناح کی محترم شخصیت پچھلے دس بارہ سال سے مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا مرکز و محور بنی ہوئی تھی۔ ساری قوم ان پر مجتمع تھی۔ ان کی راہنمائی پر سب کو بھروسا تھا۔ ان کے ذاتی اثر و رسوخ نے مختلف عناصر کو جوڑ کر مسلمانوں کو ایک متحد قوم بنایا تھا۔ ان کے اعتماد پر قوم نے پوری طاقت اس جدوجہد میں لگا دی تھی جس کے نتیجہ میں آخرکار پاکستان قائم ہوا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد اس نئی مملکت کی عمارت جس مضبوط ستون کے سہارے پر تعمیر ہو رہی تھی، وہ بھی انہی کی جامع اور معتمد علیہ شخصیت تھی۔ ملک کے باہر بھی پاکستان کی جو کچھ ساکھ اور دھاک تھی، وہ زیادہ تر اسی آزمودہ کار مدبر کی بدولت تھی۔ کوئی دوسری شخصیت ہمارے ہاں ایسی نہیں ہے کہ ان کے وقار اور تدبر کو بین الاقوامی برادری میں اس درجہ بھروسے اور اعتبار کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو۔“
سید ابوالاعلیٰ مودودی کے واضح خیالات اور بے پناہ احترام کے جذبات کے باوجود بدخواہوں کی طرف سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا رہا کہ وہ قائداعظم کو ’کافر اعظم‘ کہتے اور ان کی ذات پر تنقید کے نشتر چلاتے رہے۔ ’کافر اعظم‘ کے الفاظ مجلس احرار کے ایک مرکزی راہنما اظہر علی اظہر نے استعمال کیے تھے جسے لوگ مذاق میں ’ادھر ہے نہ ادھر‘ کے نام سے پکارتے تھے۔ بدقسمتی سے روزنامہ نوائے وقت میں وقار انبالوی، مولانا کے خلاف مضمون لکھتے اور تحقیق کے بغیر بے پر کی اڑاتے رہتے تھے جس سے سیکولر حلقے بڑے خوش ہوتے۔
جناب مجید نظامی نے مولانا کے نام ایک خط میں اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ قائداعظم کے بارے میں اپنے خیالات ایک مضمون کی شکل میں رقم کر کے ہمیں ارسال کر دیں۔ سید صاحب نے یکم اگست 1976 کو ان کے نام ایک مراسلہ ارسال کیا جو ’خطوط مودودی‘ میں شامل ہے۔ اس میں جماعت اسلامی کی پوزیشن بڑی صراحت سے بیان کی گئی تھی۔ یہ صراحت دراصل ایسے فتنہ پرور عناصر کے منہ پر ایک زناٹے دار طمانچہ تھا جو شرمناک اخلاقی پستی کا مظاہرہ کر رہے تھے۔ اس مراسلے کے چند اقتباسات سے ہر ذی شعور کو اندازہ ہو جائے گا کہ جھوٹ کتنا ہے اور اصل حقیقت کیا ہے۔ مولانا لکھتے ہیں :
”آپ کی معلومات کے لیے اتنا کہنا کافی سمجھتا ہوں کہ ہوش سنبھالنے کے بعد جب سے میں نے ملکی سیاست میں دلچسپی لینی شروع کی تھی، میرے دل میں مسلمانوں کے جن لیڈروں کا احترام سب سے زیادہ تھا، ان میں سے ایک قائداعظم مرحوم بھی تھے۔ میں نے ہمیشہ انہیں ایک با اصول، راست باز اور مضبوط سیرت و کردار کا مالک انسان سمجھا اور 1920 سے 1948 تک کبھی میرے دل میں ان کے متعلق بدگمانی پیدا نہیں ہوئی کہ وہ اپنے ضمیر کے خلاف بھی کوئی بات کہہ سکتے ہیں۔
قائداعظم کے متعلق مجھے کبھی یہ شبہ نہیں ہوا کہ وہ پاکستان کو اسلامی ریاست بنانے کے معاملے میں مخلص نہ تھے، البتہ ان کے پس ماندگان کے متعلق مجھے یہ شبہ ضرور ہے کہ وہ ان کی ہم نوائی میں مخلص نہ تھے۔ یہ شبہ ان حضرات کے ان اعمال کی بنا پر ہے جو اقتدار حاصل کرنے کے بعد وہ کرتے رہے۔ ان پر تنقید کے معنی قائداعظم پر تنقید کے نہیں ہیں۔“
ہمیں ’خطوط مودودی‘ میں ایک اور خط بھی ملتا ہے جو مولانا نے 2 ستمبر 1970 کو جناب سید طاہر علی رضوی کے نام تحریر کیا جنہوں نے قائداعظم کے یوم وفات پر پیغام بھیجنے کی استدعا کی تھی۔ اس میں قائداعظم کے بے مثال کارناموں کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا تھا۔ سید مودودی یوں اظہار خیال فرماتے ہیں :
”قائداعظم محمد علی جناح مرحوم و مغفور کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سعادت نصیب ہوئی کہ وہ مسلمانوں کی سب سے بڑی مملکت کو وجود میں لانے کا باعث بنے۔ ان کی اس عدیم النظیر کامیابی کے چند وجوہ تھے۔ پہلی یہ کہ انہوں نے بعض سوشلسٹوں اور سیکولر حضرات کی خواہش کے علی الرغم اس بات کا غیر مبہم اعلان کر دیا کہ پاکستان میں اسلام کا اجتماعی نظام قائم کیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں پورے ہندوستان کے مسلمان جذبۂ اخوت سے سرشار ہو کر تحریک میں سرگرم ہو گئے۔ قائداعظم کی بے مثال کامیابی کی دوسری وجہ یہ تھی کہ انہوں نے دشمنوں کی گالیوں اور الزام تراشیوں کو درخور اعتنا نہیں سمجھا۔ تیسری یہ کہ وہ ایک جمہوریت پسند انسان تھے اور ہمیشہ اپنے رفقا سے مشورہ اور ان کا اعتماد حاصل کرتے تھے۔ انہوں نے سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین کے اجرا سے انکار کر دیا تھا۔“
قائداعظم کی خوبیوں اور عظمتوں کو نہایت فراخ دلی سے خراج تحسین پیش کرنا ایک عظیم روایت کی تابندگی تھی جو قوم کو تازگی اور اندھوں کو بینائی عطا کرتی ہے۔ (جاری ہے )

