مہر در کی بہادر لڑکیاں


اک کے بعد اک شاندار کہانی۔
کلمات تحسین، تالیوں اور حاضرین کے تمتماتے چہروں سے عیاں۔
اک سے بڑھ کر اک شاہکار۔
امید کو جنم دینے اور پروان چڑھانے کی باتیں۔
کٹھن حالات اور مشکلات کے انبار میں۔
پریشانیوں، صعوبتوں، غربت اور تنہائی کا سامنا کرتی ہوئی کچھ ولولہ انگیز کہانیاں۔

سمندر کی ایک شاخ اور تیمر کے جنگلات کے پڑوس میں کراچی کے ایک قدیم اور منفرد سے ہوٹل کے لان میں فطرت سے قریب تر اس خطے کے اپنے درختوں اور کھلی ہوا میں ہم بیٹھے تھے اور ہوا میں پھیلی ہوئی اک خوشبو کے ساتھ بہت سی ڈاکیومینٹریز دیکھ رہے تھے۔

اس فلم محفل کے وجہ تھیں بہت سی قابل اور تخلیقی صلاحیتوں کی حامل نوجوان اور پرعزم چمکتی آنکھوں، فہیم شاد کی قیادت میں آہنی ارادوں اور انتھک لگن رکھنے والی کچھ لڑکیاں اور لڑکے۔

ایک کہانی اور پھر ایک اور،
شاہکار پہ شاہکار لگاتار

دکھ، غربت، پریشانیوں سے بھری غریب بستیوں سے آنے والی سورج کے سے حوصلے والی کہانیاں اور ہر اک کہانی کا مرکز ایک خاتون۔

اندھیرے سے اٹھنے والے ہمت کے سورج۔
عزم، حوصلے اور محنت کے اک سے بڑھ کر اک چمکتے ستارے۔

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی موضوع اور کہانی کو عوام الناس تک درست تشریح کے ساتھ پہنچانے کا ذریعہ فلم کا میڈیم ہے اور مہر در کے تخلیق کار گروہ نے مشکلوں، رکاوٹوں اور چیلنجز کو اپنی لگن، محنت اور حوصلے سے عبور کرتے ہوئے اک اور خواب کے سلسلے کو تعبیر دی۔

کھلی فضا میں فلم اسکریننگ گو کہ بہت مشکل اور پیچیدہ کام ہے مگر کیا کیجیے کہ کووڈ نائنٹین عرف کرونا کے ایک نئے روپ اومیکرون کی آمد کے بعد عوام الناس کی طبی حفاظت کے نقطہ نظر سے محکمہ صحت حکومت سندھ کی جانب سے احتیاطی تدابیر کے طور پر ان ڈور تقریبات پر پابندی کے بعد کھلی فضا میں تقریب کا انعقاد واحد حل تھا۔

اطراف میں ہونے والی دوسری تقریبات اور ہوٹل کے اوپن ائر ریسٹورنٹ سے آنے والی کراکری اور کٹلری کی نقل و حرکت سے پیدا ہونے والی ’موسیقی‘ غیر ضروری مداخلت کر رہی تھی مگر مہر در کی انتظامی ٹیم نے پوری تندہی اور عزم سے پروگرام کو بہتر بنانے پر پوری توجہ رکھی۔ اب ہر ایک جگہ کچھ اداس لوگ تو ہوتے ہی ہیں جو حسن کو بکھیرنے کا کام جاری رکھتے ہیں۔

اک کے بعد اک شاندار کہانی۔
کلمات تحسین، تالیوں اور حاضرین کے تمتماتے چہروں سے عیاں۔
اک سے بڑھ کر اک شاہکار۔
امید کو جنم دینے اور پروان چڑھانے کی باتیں۔
کٹھن حالات اور مشکلات کے انبار میں۔
پریشانیوں، صعوبتوں، غربت اور تنہائی کا سامنا کرتی ہوئی کچھ ولولہ انگیز کہانیاں۔
چاکی واڑہ لیاری سے تعلق رکھنے والی وین ڈرائیور ماہ نور۔
چاکی واڑہ لیاری سے تعلق رکھنے والی ٹرک آرٹ کی استاد روزینہ المعروف روزی استاد۔
ابراہیم حیدری کے ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والی حکیمہ
ماری پور کے علاقے سے تعلق رکھنے والی صبیحہ ناز
ابراہیم حیدری کے ساحلی علاقے سے تعلق رکھنے والی لال خاتون
دیکھنے والوں میں ہر اک جیسے کچھ لمحوں کے لیے ان کہانیوں میں کھو سا گیا۔
کیوں کہ ان کہانیوں میں ان سب دیکھنے والوں کو امید، امکان اور روشنی نظر آ رہی تھی۔

ہمت اور حوصلے کی ان کہانیوں کو پردے (اسکرین) پر دیکھتے ہوئے شاید اس کٹھن صورت حال کو پوری طرح سمجھنا تو ممکن نہیں، لیکن ہاں اس کا اندازہ لگانا بالکل بھی مشکل نہیں کہ یہ پردے (اسکرین) پر دکھائی جانے والی کہانیاں ان سب بہادر لڑکیوں کی زندگی کی کہانی کا اک حصہ ہی ہیں۔

اک وہ حصہ جس میں ان کی کامیابی کا اک پرتو نظر آتا ہے۔ جس کے پیچھے ان گنت دن و رات کی محنت، مشقت اور بہت سے خواب ہیں۔

خواب اور ان کی ان تعبیروں کے بیچ کتنا وقت اور فاصلہ ہے یہ ان بہادر لڑکیوں سے پوچھنا چاہیے۔
بہت سے سوال ہیں جو کیے جانے ضروری ہیں اور ان کے جواب اور زیادہ ضروری ہیں۔

سوال ہم سب کو خود سے پوچھنے ہیں، اپنے سماج سے پوچھنے ہیں اور سوال جواب کا یہ عمل اپنے سماج اور شہر کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ جب ہم ان چند بہادر لڑکیوں کو دیکھتے ہیں اور خراج تحسین کے کلمات ادا کرتے ہیں تو اس امر پر سوچنا لازم ہے کہ معاشرے میں، محلوں میں، گلیوں میں کیوں سماجی ٹوٹ پھوٹ کا عمل جاری ہے اور کیوں ہمارا ثقافتی ڈھانچہ کیوں شکست و ریخت کا اس طرح شکار ہو رہا ہے کہ ہماری مثبت روایات ختم ہوتی سی لگتی ہیں۔

بہر حال یہ باتیں زندگی اور سفر کی طرح جاری رہیں گی اور ان سے وابستہ سوال و جواب کا سلسلہ بھی جاری رہے گا۔

دوبارہ پلٹتے ہیں سمندر کی ایک شاخ اور تیمر کے بچے کچھے جنگلات کے گردونواح میں موجود شہر کراچی کے ایک قدیم اور منفرد سے ہوٹل کے لان میں جہاں بہادر لڑکیوں پہ بنی مختصر ڈاکیومینٹریز کی اسکریننگ کا شاندار سلسلہ جاری تھا اور اک اور زبردست بات یہ بھی معلوم ہوئی کہ ان بہادر لڑکیوں پہ بنی یہ تمام ڈاکیومینٹریز کو بنانے والی بھی بہت سی بہادر لڑکیاں ہیں۔

یہ کتنی شاندار بات ہے کہ بہت سی بہادر لڑکیاں مل کر کیسا متاثر کن کام کر رہی ہیں اور دل میں جیسے اک اطمینان کی لہر سی پھیلنے لگتی ہے اور تند و تیز ہواؤں میں روشن امید کے دیے کی لو اور بلند ہوجاتی ہے۔

شاید کچھ لوگوں کو یہ اتنا اہم نہ لگے مگر سمجھنے والے سمجھ سکتے ہیں کہ تمام تر معروضی حالات کی موجودگی میں اس طرح کے کسی سماجی تجربے کا ہونا کتنی شاندار بات ہے اور اس کے مثبت اثرات کتنی دور تک جائیں گے۔

اس سماجی تجربے کے جس بھی رخ اور زاویے پر سوچا جائے اور سمجھا جائے تو امید کی کتنی کرنیں روشنی سی پھیلانے لگتی ہیں اور یہ روشنی کتنی دور تک پھیلے ہوئے اندھیرے کو ختم کرے گی۔

سوچنے کی بات یہ بھی ہے کہ اس تجربے کے لیے کس درجے کی ندرت خیال اور ذاتی ہمت اور عزم کی ضرورت ہے اور یہ سوچ جب سوال بن کر سامنے آتا ہے تو جواب میں کچھ سنہرے ستاروں سے نام سامنے آتے ہیں :

مہر در، فہیم شاد، مہر گھر اور پروین۔

عام سے لگنے والے نام واقعی سنہرے ستارے کی مانند ہیں، جنہوں نے اتنی ہمت مجتمع کی کہ اک ایسا منفرد سماجی تجربہ کیا جا سکے اور جس کے ذریعے بہادر لڑکیوں کو موقع مل پائے کہ وہ فلم میکنگ سیکھیں اور اس سیکھ کو کچھ اور بہادر لڑکیوں کی زندگی کے کچھ روشن گوشوں کو سامنے لانے کے لیے فلم میکنگ کے شاندار ذریعے کو استعمال کیا جائے۔

امجد اسلام امجد نے کہا کہ
محبت ایسا دریا ہے
کہ بارش روٹھ بھی جائے
تو پانی کم نہیں ہوتا۔

سماج کو بدلنے اور خوبصورتی کے خواب دیکھنے والے نوجوان فہیم شاد کی چمکتی آنکھوں میں جھیل سی اک گہرائی ہے جو کبھی کبھی واضح نظر آتی ہے کیونکہ ویسے تو ہمیشہ اک مسکراہٹ کا پردہ اس کے چہرے پہ سجا اس کے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتا رہتا ہے۔

مہر در آرٹ پروڈکشن اور مہر گھر کی کہانی کبھی آئندہ بیان کروں گا کیوں کہ وہ بھی خواب دیکھنے سے تعبیر تک پہنچنے کی اک شاندار مثال ہے جس پہ بات کرنا بھی ضروری ہے۔

مہر در کی بہادر لڑکیوں پر مشتمل ٹیم اور اس کے پیچھے فہیم شاد اور دیگر مہردر کے دوستوں کی ہمت موجودہ وقت میں اس سماجی تجربے کے ذریعے ہمارے معاشرے میں مثبت طور پر اک ایسی سوچ کی بنیاد رکھی گئی ہے جو یقیناً اس شہر اور پورے سماج کے لیے ایک نئی امید کا سورج بن کر طلوع ہو گی۔

Facebook Comments HS