سٹیٹ بینک: اپوزیشن جواب دے


اپوزیشن کے تعاون سے حکومت پارلیمان کے دونوں ایوانوں سے سٹیٹ بینک آف پاکستان کا ترمیمی قانون کثرت رائے سے منظور کرانے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں کئی ہفتوں سے ایوان کے باہر اس قانون کی شدید مخالفت کر رہیں تھی۔ منہ سے جھاگ اڑا کر جلسوں اور پریس کانفرنسوں میں اپوزیشن رہنما اس بل کو ملک و قوم سے غداری اور قومی سلامتی کو عالمی مالیاتی ادارے کے آگے سرنگوں کرنا قرار دے رہے تھے۔ لیکن ایک مرتبہ پھر جب وقت قیام آیا تو یہ جماعتیں خود سپردگی کے عالم میں حکومت کے سامنے لیٹ گئیں جس کی بدولت حکومت ایوان بالا، جہاں اپوزیشن اکثریت میں ہے وہاں سے بھی با آسانی یہ قانون منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

اب حسب سابق فیس سیونگ اور اپنے ووٹرز کو مطمئن رکھنے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے ایک دوسرے کو قصوروار قرار دیا جا رہا ہے۔ سب سے زیادہ انگلیاں سینیٹ میں قائد حزب اختلاف یوسف رضا گیلانی پر اٹھ رہی ہیں کہ وہ گنتی والے دن غائب نہ رہتے تو حکومت یہ بل سینیٹ سے منظور نہیں کرا سکتی تھی۔ اس تنقید کے بعد یوسف رضا گیلانی نے سینیٹ میں آ کر اپنی غیر حاضری سے متعلق وضاحت کی اور اپوزیشن لیڈر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا اعلان کر دیا۔

حالانکہ ہر شخص جانتا ہے یوسف رضا گیلانی جیسے منجھے ہوئے سیاستدان پارٹی قیادت کی گائیڈ لائن کے بغیر اس اہم موقع پر سینیٹ سے غیر حاضر نہیں ہو سکتے تھے۔ اسی لیے استعفی کے فوراً بعد پارٹی قیادت کی طرف سے اسے مسترد کرنے کا اعلان سامنے آ گیا۔ سوال یہ ہے کہ اس ڈرامے کے بعد اپوزیشن اپنی ذمہ داری سے بری الذمہ ہو چکی ہے؟ اپوزیشن سے یہ سوال نہیں ہونا چاہیے کہ اس کی نظر میں یہ بل واقعتاً ملکی مفاد کے منافی تھا تو پھر اسے رکوانے میں پوری طاقت استعمال کیوں نہیں کی گئی اور اگر حکومتی موقف درست ہے کہ بل پاس کرنا ملکی مفاد میں لازم تھا تو پھر اس پر سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور منافقت کیوں کی گئی؟ گزشتہ تین سالوں میں یہ پہلا موقع نہیں کہ اپوزیشن اس نظام کی سہولت کار کے طور پر سامنے آئی ہے بلکہ ہر فیصلہ کن موڑ پر اس کی جانب سے اسی طرز عمل کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے۔

جمہوری نظام میں حکومت کی کارکردگی پر چیک اینڈ بیلنس رکھنا اور اس سے باز پرس کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہے اور اگر اپوزیشن اس میں ناکام رہے تو اس کی بھی جواب طلبی ہونی چاہیے۔ گزشتہ تین سال سے ہر بار فیصلہ کن موڑ پر اپوزیشن جماعتیں موجودہ نظام کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کرتی ہیں، ان جماعتوں کے سپورٹرز یہ جاننے کا حق رکھتے ہیں کہ آخر وہ کون سی مجبوریاں ہیں جن کے سبب وہ اس نظام کے خلاف مزاحمت میں کامیاب نہیں ہو رہیں؟

اپوزیشن جماعتوں کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ ان کے جو ارکان غیر حاضر رہ کر یا دیگر حیلوں بہانوں سے حکومت کو سپورٹ کرتے رہے ہیں ان سے آج تک جواب طلبی کی کیا سنجیدہ کوشش کی گئی؟ اس بارے میں بھی عوام کو آگاہی ملنا ضروری ہے کہ آرمی چیف کی مدت ملازمت کا قانون بغیر غور و فکر عجلت میں پارلیمنٹ سے پاس کرانے میں اپوزیشن کا کیا مفاد تھا؟ اس کے ساتھ یہ بھی پتا چلنا چاہیے کہ صادق سنجرانی صاحب کو چیئرمین سینیٹ بنوانے میں اپوزیشن کی معاونت کے پیچھے کیا لالچ کار فرما تھا؟

ہم ایسے کمزور لوگ نوکریوں سے فراغت کا صدمہ برداشت جھیلنے، گالیاں سننے اور دھمکیوں کا سامنا کرنے کے باوجود ضمیر کی آواز بلند کرنے سے باز نہیں رہتے تو ارب پتی طاقتور سیاستدانوں کی چپ کو کردار کی کمزوری قرار دینے کے سوا کیا کہیں؟ اپوزیشن جماعتوں کے ووٹرز کو اپنی قیادت سے یہ سوال پوچھنا چاہیے کہ ایسے کمزور کردار کے لوگ جو پارلیمنٹ پہنچ کر بھی دباؤ برداشت نہیں کر سکتے اور اپنی جماعت اور چاہنے والوں کے لیے جگ ہنسائی کا سبب بنتے ہیں انہیں ٹکٹ ہی کیوں دی جاتی ہے؟

اپوزیشن جماعتوں کے پاس یقیناً یہ عذر ہو گا اور کچھ وقت کے لیے مان بھی لیتے ہیں کہ ہمارے ہاں رائج حلقہ جاتی سیاست کے اپنے تقاضے ہیں اور الیکٹیبلز سیاسی جماعتوں کی مجبوری ہیں۔ تاہم یہ مجبوری تسلیم کر لیں تب بھی سوال بنتا ہے کہ کم از کم سینیٹ میں خوشامدیوں اور مالداروں کی بجائے ایماندار لوگوں کو بھیجنے میں تو کوئی رکاوٹ نہیں۔ ہمارے ہاں تمام سیاسی جماعتیں جمہوریت کی بات تو کرتی ہیں مگر اسے مضبوط کرنے کی بات کوئی نہیں کرتا۔

بلدیاتی نظام کسی بھی جمہوری نظام کی بنیادی اکائی ہے اور بلدیاتی اداروں سے ہی جمہوری نظام کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں۔ یہ ہی کوئی بتادے کہ بلدیاتی اداروں کی مضبوطی سے جمہوریت کے نام لیواؤں کا ہاتھ کس نے روکا تھا؟ بلدیاتی ادارے فعال ہونے سے صرف عوامی مسائل ہی دہلیز پر حل نہیں ہوتے بلکہ جمہوریت کی حقیقی روح سے عوام روشناس ہوں گے۔ جمہوریت کے ثمرات عوام کو اپنی زندگیوں میں آسانی کی صورت محسوس ہوں گے تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ غیر آئینی اقدامات کے خلاف اٹھ کھڑے نہ ہوں۔

بلدیاتی ادارے قائم کرنے میں تو کوئی غیبی ہاتھ بھی رکاوٹ نہیں۔ نئی با صلاحیت اور ایماندار سیاسی قیادت پیدا کرنے کا واحد ذریعہ بنیادی جمہوریت کے ادارے ہیں۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تیس تیس سال اقتدار میں رہنے کے بعد بھی اپوزیشن جماعتیں ایک طاقتور بلدیاتی نظام نہیں دے پائیں؟ کیا اس کی وجہ صوبائی اور قومی سطح کی سیاست کرنے والوں کے اپنے مستقبل کے متعلق خدشات نہیں؟ یہ درست نہیں سیاسی جماعتوں کی قیادت کے پیش نظر یہ خوف تھا کہ بنیادی جمہوریت اگر مضبوط و فعال ہو گئی تو موروثی سیاست کو ہی اس کی پہلی ضرب لگے گی۔

ایک بار میثاق جمہوریت کے وقت اور دوسری بار جب ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگا امید پیدا ہونے لگی تھی کہ شاید ہماری سیاسی جماعتیں واقعتاً اب عوامی مفاد پر مبنی سیاست کریں گی۔ اب مگر وہی تاثر دوبارہ تقویت پا رہا ہے کہ جسے ہم سیاسی جدوجہد سمجھ رہے ہیں یہ دراصل مفادات کی جنگ ہے۔ یہ محسوس کر کے نہایت افسوس ہوتا ہے کہ ہم ایسوں نے طنز و تشنیع اور دھونس دھمکیوں کا سامنا چند خاندانوں کو کیسز میں ریلیف دلانے کے لیے کیا تھا۔

ہمارا نصب العین آئین و قانون کی بالادستی اور ایسی ریاست کا قیام تھا جس میں تمام شہریوں کو بنیادی حقوق کی ضمانت حاصل ہو۔ اعتراف کرنے دیجیے ہمارے خواب ایک بار پھر ٹوٹ رہے ہیں اور ہماری توقعات ایک بار پھر سراب ثابت ہونے جا رہی ہیں۔ جمہوریت جمہور کے مفادات کی حفاظت کا نام ہے، ایوان بالا میں حزب اختلاف اکثریت میں رہی جو تیر چلائے وہ ہم دیکھ چکے۔ کیا ضمانت ہے کہ اگلے انتخابات میں محض چہروں کی تبدیلی سے ہمارے حالات بدل جائیں گے؟ یہ طے ہو چکا کہ چند نشستیں ادھر ادھر ہونے سے ہمارے حالات نہیں بدلنے۔ اب ادراک ہو جانا چاہیے کہ ہمارے نصیب اس وقت تک نہیں بدلیں گے جب تک ہم اپنے اپنے سیاسی بتوں سے سوال پوچھنا شروع نہیں کریں گے۔

Facebook Comments HS