سندھ کی قدیم اجتماعی قبریں


اجتماعی قبریں دنیا بھر میں پائی گئی ہیں۔ اجتماعی قبروں پر دنیا کے ماہرین نے سائنسی تحقیقات کی ہیں دنیا کے محققین نے تحقیق کے ذریعے اہم نتیجے اخذ کر کے کتابیں لکھی ہیں۔ لیکن میری ذاتی معلومات کے مطابق پاکستان، خاص طور پر سندھ میں اجتماعی قبروں پر تحقیق نہیں کی گئی اور نہ ہی ان پر کچھ لکھا گیا ہے۔ پاکستان کے صوبہ پنجاب، بلوچستان اور بالخصوص صوبہ سندھ میں واقع قدیم اجتماعی قبروں کے متعلق کسی ریسرچ اسکالر نے نہیں لکھا اور نہ ہی اس ورثے کو ریکارڈ پر لایا گیا ہے۔ مقامی لوگوں کا خیال ہے کہ یہ قبریں صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی ہیں لیکن تحقیقی یا تاریخی طور پر ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی گئی ہے کہ یہ واقعی صحابہ کرام کی قبریں ہیں یا ایک سے زیادہ لوگوں کا اجتماعی مدفن ہیں۔

پاکستان کے صوبہ سندھ میں قدیم اجتماعی قبریں سندھ میں دوسرے علاقوں میں بھی ہیں مگر کیرتھر پہاڑی سلسلے کے دامن کے قریب زیادہ ملتی ہیں۔ یہ اجتماعی قبریں پہاڑی سلسلے کے نزدیک ضلع ٹھٹھہ، رانیکوٹ قلعہ، ضلع جامشورو سے لے کر دادو ضلع تک ہیں۔ آگے شمال کی طرف شہداد کوٹ، جیکب آباد اور ممکنہ طور پر سبی بلوچستان تک ایسی قبریں موجود ہوں۔ میں نے خود سندھ مین ان اجتماعی قبروں کا مشاہدہ کیا ہے۔ سندھ میں جنوب کی طرف سے مکلی ٹھٹھہ سے لے کر شمال میں قلعہ رانیکوٹ، ضلع جامشورو کے نئیگ شریف، ضلع دادو کے گاؤں آچر خان گبول، گاجی شاہ کے قبرستان، بہلیل شاہ، گاؤن ہلیلی، رحیم شاہ قبرستان، گاج ندی کے قریب، گہرام فقیر گادھی کے قبرستان اور فرید آباد میں بہت سی لمبی اجتماعی قبریں واقع ہیں۔ ضلع قمبر شہداد کوٹ اور جیکب آباد میں بھی یہ قبریں موجود ہیں۔

سندھ میں ملنے والی یہ قبریں بہت لمبی ہیں جن کی پیمائش 20 سے 30 فٹ سے زیادہ ہے۔ کن قبروں کی لمبائی 30 فٹ سے بھی زیادہ ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتے ہیں کہ یہ لمبی قبریں کس کی ہیں؟ ان قبروں کا دور کون سا ہے؟ کیا اتنے لمبے لوگ ان قبروں میں دفن کیے گئے تھے؟ کیا یہ قبریں تاریخی یا قبل از تاریخ کی ہیں؟ یہ تمام سوالات تاریخی حوالے سے لاجواب ہیں اور سندھ میں واقع ان قبروں کے بارے میں تاریخ بالکل خاموش ہے۔ ان قبروں کے بارے میں کسی مقامی محقق نے نہیں لکھا۔

دنیا کے مورخین اور ریسرچ اسکالرز کی رائے ہے کہ اجتماعی قبریں ایک سے زیادہ افراد کی تدفین کی جگہ ہیں۔ احمدت کی کتاب ’کرنٹ کانسیپٹ ان فارنسک ایٹومولوجی‘ میں ذکر کیا گیا ہے کہ ”اجتماعی قبر ایک ایسی جگہ ہوتی ہے جہاں تین یا کئی لاشوں کو دفنا دیا جاتا ہے، جو کہ ایک سو سے زیادہ بھی ہو سکتے ہیں۔“

ولٹن، محمت ارو میریانا اہنی کتاب ”ہیومن اسکیلیٹن فوسینک ان میڈیسن“ میں بیان شامل کیا ہے کہ، ”اجتماعی قبریں قبائلی یا دیگر جنگوں، حملوں کے ساتھ ساتھ قدرتی آفات، خطرناک بیماریوں میں مارے جانے والے لوگوں کی تدفین کی جگہیں ہیں۔“ یوجین اور جارڈن کی کتاب ”اٹیک آف آئرش آن کرچنٹی“ میں بھی یہ ہی رائے شامل ہے کہ زیادہ لوگوں کو اجتماعی طور پر ایک قبر میں دفن کیا گیا جسے اجتماعی قبر کہا جاتا ہے۔ جونا اور رولینڈ کی کتاب ”سائنس آف ماس گریوز“ کے مطابق ”اس طرح کی قبریں عبادت گاہیں بھی تھیں اور بعد میں انہیں پتھروں یا مٹی سے ڈھانپ دیا گیا تھا۔“ یہ کتاب اس رائے کی بھی تائید کرتی ہے کہ ”ان کا پس منظر مذہبی، روحانی اور ثقافتی عقائد بھی تھا۔“

کچھ دوسرے معتبر ذرائع کے مطابق سندھ میں یہ لمبی یا اجتماعی قبریں سرداروں کی ہو سکتی ہیں اور مدفن کے وقت قبروں کو اس کی طاقت اور سرداری دکھانے کے لئے اس کی قبر کو بہت لمبا کر دیا گیا تھا۔ مقامی طور پر یہ روایت بھی ہے کہ یہ لمبی قبریں صحابہ کرام  کی ہیں لیکن اس حوالے سے تاریخ بالکل خاموش ہے کہ نبی پاک ﷺ کے دور میں کوئی صحابی سندھ میں آیا تھا۔ یہاں تک کہ اس بات کا کوئی تاریخی ثبوت نہیں ملتا کہ خلفائے راشدین کے دور میں کسی صحابی نے سندھ کا دورہ کیا ہو۔ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ کیا صحابی پورے سندھ کی بجائے زیادہ تر کھیرتھر پہاڑی سلسلے کے دامن کے قریب آباد ہوئے تھے؟

سوال یہ بھی ہے کہ حضور اکرم صلعم کے کن صحابیوں کی قد قامت ان قبروں جتنی اونچی تھی؟ یہ کوئی نہیں جانتا اور نہ تاریخ ہی بتاتی ہے۔ یہ تاریخی بیانات ضرور ملتے ہیں کہ سندھ کے لوگ عربستان جایا کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ سے ملاقاتیں کرتے تھے۔ سندھ کے لوگ بعد کے ادوار میں بھی عربستان جایا کرتے تھے اور وہیں آباد ہو گئے۔ وہاں وہ خود کو السندھی کہتے تھے۔ اب بھی ان السندھیوں کی اولاد سعودی عرب میں آباد ہے۔

مندرجہ بالا وجوہات کی بنا پر مقامی لوگ ان میں سے کچھ قبروں کو پیروں اولیاؤں کی قبریں سمجھتے ہیں۔

میں اس رائے کا قائل ہوں کہ سندھ میں واقع ان اجتماعی قبروں میں ان لوگوں کی لاشیں دفن ہیں جو قبائلی جنگوں، ماضی میں سندھ پر حملہ آوروں کے حملوں، قدرتی آفات اور خطرناک بیماریوں میں جو بہت سارے لوگ مارے گئے تھے وہ لوگ ہی اجتماعی طور ان قبور میں دفن ہیں۔ تاہم، سندھ پاکستان میں کھیرتھر پہاڑی سلسلے کے دامن میں واقع ان اجتماعی قبروں کی صحیح تاریخ کو واضح کرنے کے لئے مناسب اور مستند سائنسی تحقیق کی جائے۔ تاکہ تصدیق ہو سکے کہ یہ اجتماعی قبریں کن لوگوں کی ہیں۔ ان لمبی قبروں میں لوگوں کو دفن کرنے کا سبب اور پس منظر کیا ہے۔

Facebook Comments HS