پیر روشان اور روشنیہ تحریک، پشتونوں کا نظرانداز باب


پشتون قوم کی روایات، اقدار اور پشتو نثر اور شاعری کا جب بھی ذکر ہو گا تو بایزید انصاری المعروف پیر روشان کے بغیر تذکرہ ادھورا ہی رہ جائے گا۔ پیر روشان جیسی ہمہ جہت شخصیت پر کافی تحقیقی کام ہو چکا ہے اور اس میں مقامی اور بیرونی محققین نے بھی حصہ لیا ہے۔ ان کی شخصیت کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اس دور کے سیاسی، معاشرتی اور جغرافیائی عوامل کا بغور جائزہ لینا ضروری ہے کیونکہ کوئی بھی فرد ماحول کا رنگ لیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ پیر روشان کی شخصیت کو ایک کالم میں سمونا ناممکن ہے۔

بایزید انصاری ”پیر روشان“ ( 1585۔ 1525 ) پشتونوں میں سب سے پہلے صاحب سیف و قلم و کتاب کی حیثیت سے نمایاں ہوئے۔ جنھوں نے مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے دور ( 1605۔ 1556 ) میں روشنیہ تحریک کی بنیاد ڈالی۔ ان کے پیروکاروں نے انھیں پیر روشان کا خطاب دیا لیکن ان کے مخالفین جن میں نمایاں شخصیات ملا زنگی اور اخوند درویزہ نے انہیں پیر تاریک کے نام سے مشہور کیا۔

پیر روشان کا تعلق جنوبی وزیرستان کے ایک دیہات کانیگرم کے انصاری قبیلے سے تھا۔ بحوالہ کتاب (ایمپریل فرنٹیئر ٹرایب اینڈ سٹیٹ ان وزیرستان) کانیگرم میں پیر زادوں کے پانچ خاندان صدیوں سے رہتے آ رہے ہیں جن میں دو گیلانی (بغداد) دو انصاری (بغداد) اور ایک کا تعلق بخارا سے بتایا جاتا ہے۔ ان میں انصاری قبیلہ آج بھی پیر روشان کی نسبت سے پہچانا جاتا ہے۔ یہ پیر زادے ایک طرف مقامی پشتون برکی قبیلے اور دوسری طرف پڑوسی محسود قبیلے میں زبان، برتاؤ، رسم و رواج اور روایات کے اعتبار سے گھل مل گئے ہیں۔

تاریخ کے اوراق سے پتہ چلتا ہے کہ سال 1526 ء میں پانی پت کے میدان میں ابراہیم لودھی کو مغل بادشاہ بابر کے ہاتھوں شکست ہوئی جس سے پشتونوں کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔ ابراہیم لودھی کی شکست کے بعد پشتونوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹے۔ پشتونوں کو ہندوستان میں سکون کا ٹھکانہ میسر نہ تھا اور وہ خانہ بدوشوں کی طرح جگہ جگہ پھرتے تھے۔ چند سال بعد پشتون بادشاہ شیر شاہ سوری نے بابر کے بیٹے ہمایوں سے دہلی کا تخت واپس چھین لیا چنانچہ ایک دفعہ پھر مختلف پشتون جوق در جوق ہندوستان کی طرف روانہ ہوئے۔

پیر روشان کے والد شیخ عبداللہ وزیرستان سے بغرض تجارت ہندوستان کے شہر جالندھر جایا کرتے تھے اور پیر روشان کی پیدائش بھی جالندھر میں ہوئی۔ ان حالات سے باآسانی اندازہ ہوتا ہے کہ پیر روشان نے انتہائی نامساعد حالات میں پرورش پائی۔ بچپن سے اس نے اپنی معصومانہ نگاہوں سے دیکھا کہ پشتونوں سے قوت و اقتدار چھن جانے سے مغلوں نے وہاں پر مقیم پشتون خانوادوں سے کس قدر نازیبا سلوک روا رکھا۔ ایک دفعہ دوران سفر ایک پشتون خاتون کو دیکھا کہ مغلوں نے اس کے سر کے بال چکی سے باندھ رکھے ہیں۔ یہ واقعات ان کے ذہن میں نقش ہوتے گئے۔

پیر روشان بچپن سے ہی اپنے والد کے علمی ماحول سے متاثر ہوئے جو اپنے وقت کے عالم دین تھے۔ لڑکپن میں اپنے والد کے ایک شاگرد ملا پائندہ کی شاگردی اختیار کی۔ پیر روشان کو خدا نے فطری استعداد ودیعت کی تھی اور مختلف علوم پر دسترس حاصل کرتے رہے۔ بلوغ تک پہنچے تو اپنے چچازاد بھائی خواجہ اسماعیل کی روحانی زندگی سے متاثر ہوئے اور ان کے حلقہ ارادت میں بیٹھنے لگے اور وقت کے ساتھ طبع زاد سرمستی کی وجہ سے صوفیانہ راستہ اختیار کرنا پڑا۔

بعض اوقات وجد میں آ کے رقص کرنے لگتے تھے۔ سماع اور سرود کی محفلوں کے قائل تھے۔ پیر روشان کی ان باتوں سے باپ بیزار ہونے لگے لیکن اس سے روکنے کی تدابیر نہیں تھیں۔ وقت کے ساتھ پیر روشان نے ایک فعال اور باعمل تصوف کی بنیاد ڈالی اور اس کے لیے آٹھ مدارج مقرر کیے۔ شریعت، طریقت، معرفت، قربت، وصلت، وحدت اور سکونت۔ ان کی یہ اصلاحی تحریک پراثر ہونے لگی۔ اس نے لوگوں کو توحید ذکر خفی کی طرف بلانا شروع کیا اور شرک خفی اور تقلید فاسدہ سے دور رہنے کا حکم دیا۔

مرد و زن کے حقوق میں برابری کی بات کی۔ اس کی یہ مہم وزیرستان سے شروع ہوئی اور پڑوس کے تمام قبائل میں آگ کی طرح پھیل گئی۔ پیر روشان اب ایک با اختیار پیر کی حیثیت سے مشہور ہونے لگے ان کا حلقہ اثر مضبوط اور ٹھوس دلائل سے روز بروز پھیلتا گیا۔ پیر روشان نے وزیرستان سے تیراہ میں منتقل ہونے کا فیصلہ کیا۔ یہاں کے پشتون قبائل مستقل مغلیہ حکومت یعنی دربار دہلی اور دربار کابل سے برسر پیکار رہتے تھے۔ تیراہ میں آفریدی، اورکزئی، بنگش اور ان کے قریبی قبائل خلیل، داود زئی، یوسف زئی، توئی اور صافی پیر روشان کے حلقہ ارادت مند میں شامل ہونے لگے۔

جیسے جیسے پیر روشان کا اثر و رسوخ بڑھتا گیا اسی طرح کچھ پیروں اور ملاؤں کو پیر روشان کی یہ شہرت راس نہیں آئی اور انہوں نے فکر روشان کی مخالفت میں دربار کابل میں شکایت کی کہ روشنیہ تحریک غلط عقائد اور ایک نئی طاقت کے ساتھ ابھر رہی ہے اور اگر اس نے تلوار اٹھائی تو پھر اس کا ختم کرنا مشکل ہو جائے گا۔ اس وقت والی کابل مرزا محمد حکیم مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے سوتیلے بھائی تھے۔ اس نے دانشمندی سے پیر روشان کو دربار کابل طلب کیا اور ان کے مذہبی عقائد اور نظریات کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔

والی کابل کے دربار میں ایک پر اثر مکالمے کے بعد پیر روشان کو تمام الزامات سے بری قرار دیا گیا۔ کابل سے واپسی پر انہوں نے ہشت نگر میں رہنے کا فیصلہ کیا اور یہاں کے خوانین سے رشتے ناتے کیے جس کی وجہ سے پیر روشان ایک طاقتور شخصیت بن گیا اور اسی زمانے میں رسالے اور کتابیں لکھیں۔ صراط توحید اور فخر الطالبین انہی ایام کی تخلیق ہیں۔ اپنے مریدوں اور خلفاء کے ہاتھوں مختلف ممالک اور علاقوں میں توحید خالص اور روشنیہ تحریک میں شمولیت کے دعوت نامے بھیجے۔

کچھ عرصے بعد دربار کابل نے توئی کے مقام پر ایک قافلے کو لوٹنے کی پاداش میں پورے ایک گاؤں کو گھوڑوں کے سموں تلے روند ڈالا۔ حکومت کابل کا اقدام گرچہ انصاف پر مبنی تھا لیکن مغل فوج نے طاقت کے نشے میں بعض بے گناہ لوگوں کو بھی قتل کر دیا اور انتقامی کارروائی میں تجاوز کیا۔ علاقہ توئی کے لوگوں نے مرشد پیر روشان کے پاس پہنچ کر روحانی مدد کے لیے درخواست کی۔ پیر روشان نے ایک خط والی کابل کے نام لکھا کہ اسیران توئی مسکین قسم کے لوگ ہیں اور ایک اتفاقی واقع کی وجہ سے بے گناہ لوگوں کا قتل کرنا ایک زیادتی ہے اس لیے ہم اس کی شدید مذمت کرتے ہیں اور جو بے گناہ قید کیے گیے ہیں انھیں رہا کیا جائے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔

دربار کابل نے اس خط کو شاہانہ آداب کے منافی سمجھا اور صوبیدار پشاور کو پیر روشان کی گرفتاری کا حکم دیا۔ پیر روشان کو اپنے مریدوں نے مشورہ دیا کے اپ تصادم سے گریز کریں اور ہشت نگر سے یوسفزئی کلیانی کی طرف کوچ کریں۔ پیر روشان اپنے مریدین کے ساتھ یوسفزئی کلیانی کی جانب روانہ ہوئے۔ صوبیدار پشاور بمعہ لشکر ان کے کے تعاقب میں تھا۔ رستے میں ایک مقام پر پیر روشان نے اپنے مریدوں اور جانثاروں کو مخاطب کیا یا تو بھوک اور پیاس سے مر جائیں یا مغل کے لشکر سے زندہ رہنے کی بھیک مانگیں لیکن کیوں نہ میدان جنگ میں اپنی مردانگی اور شجاعت کا مظاہرہ کریں۔ پیر روشان کی رائے سے مریدوں نے اتفاق کیا اور اپنی تلواریں نیام سے نکال لیں۔ صوبہ دار پشاور اور اس کے لشکر کو جنگ میں عبرتناک شکست ہوئی۔ اس کے بعد روشنیہ تحریک کے حوصلے بلند ہوئے اور انہوں نے ہندوستان کے حکمران اکبر سے ٹھکر لی اور مغلیہ سلطنت کو ایک عرصے تک لرزہ براندام رکھا۔

پیر روشان نے تیراہ میں آزاد مملکت کی بنیاد ڈالی۔ مغل حکومت نے روشنیہ تحریک کو دبانے کے لیے فکری اور سیاسی میدان میں براہ راست اور بالواسطہ دونوں طریقوں سے کوشش کی۔ پیر روشان کی آزاد ریاست ننگرہار تک پھیل گی تھی۔ مغل کے پے درپے حملے ہوئے اور بالآخر شنواری علاقہ توراغہ میں ایک فیصلہ کن جنگ میں پیر روشان کو شکست ہوئی۔ پیر روشان جان بچا کر کلیانی مردان پہنچے لیکن جنگ اور راستے کی تکالیف سہ نہ سکے اور وہیں پر ان کا انتقال ہوا اور لواحقین نے اسے ہشت نگر میں دفن کیا۔

اس کے بعد ان کے بیٹے شیخ عمر نے روشنیہ تحریک کی باگ ڈور سنبھالی۔ شیخ عمر کچھ عرصے بعد یوسفزئی، دلہ زاک اور کافر آباد قبائل کے ساتھ اندرونی خانہ جنگی میں تین بھائیوں سمیت مارے گئے لیکن ایک 15 سال کم سن بھائی جلال الدین المعروف ”جلالہ“ خود کو بچانے میں کامیاب ہوئے اور پیر روشان خاکستر کی یہ آخری چنگاری آنے والے دنوں میں آگ کی صورت اختیار کر گئی۔ پیر روشان کے کم سن بیٹے جلال الدین ”جلالہ“ نے تحریک کو نئی روح پھونکی۔

موجودہ جلال آباد افغانستان اور تحصیل جلالہ مردان انہی کے نام سے منسوب ہیں۔ جلال الدین ”جلالہ“ نے مغلوں کے ساتھ پانچ خونریز جنگیں لڑیں اور مغلوں کے لیے درد سر بنا رہا۔ جلال الدین جلالہ قبائلی سرداروں کی سازش سے غزنی میں قتل ہو گیا اور اس کے بعد پیر روشان کے پوتے شیخ احداد نے آفریدی، تنی، اورکزئی اور سوری قبائل سے فوجیں تیار کیں اور 1601 ء تک اکبر سے لڑتے رہے اور بعد میں شہنشاہ جہانگیر کے زمانے میں مغل فوج سے لڑتے ہوئے مارے گئے اور اسی جذبے سے شیخ احداد کے بیٹے عبدالقادر نے جہانگیر کی مغلیہ حکومت کے خلاف عزیمت کا پرچم بلند کیا اور آخر کار مغل بادشاہ شاہجہان کے دور میں روشنیہ اور مغلوں کے بیچ امن معاہدہ طے پایا۔

روشنیہ تحریک کی روحانی قوت کو دبانے کے لیے مغلوں نے اس وقت کے ایک عالم سید علی ترمذی المعروف پیر بابا کے مرید اخوند درویزہ کی معاونت کی۔ اخوند درویزہ نے پیر روشان پر کفر و الحاد کا فتویٰ چسپاں کیا لیکن اکبر کے دین الٰہی پر خاموشی اختیار کی۔ اکبر دین الٰہی سے لوگوں کو خود اپنی بندگی اور عبادت کے لیے مجبور کرتا تھا جبکہ پیر روشان خالص توحید و سنت کی دعوت دیتے تھے اور روایتی چالباز ملا اور پیروں سے لوگوں کو باخبر رکھتے تھے اور محض تصوفی طریقے کے داعی تھے اور ایک حریت پسند اور اپنے پشتون قوم کی خاطر مغلوں سے لڑنے والے لیڈر تھے۔

پیر روشان صاحب سیف کے ساتھ صاحب قلم تھے وہ ایک شاعر ایک ماہر لسانیات، ایک طالب علم ایک عالم ایک سیاستدان ایک سپاہی ایک جرنیل اور سب سے بڑھ کر ایک پیر کی حیثیت رکھتے تھے۔ پنجاب کے لوگ اسے وجید جیسے شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں۔ پیر روشان نے پہلی پشتو نثر کی کتاب خیر البیان لکھی جس کو مزید تین زبانوں، عربی، فارسی اور ہندی میں لکھا۔ دیگر تصنیفات میں حالنامہ، فخر الطالبین، مقصود المومنین، رسالہ عالم، رسالہ فرحت المجتبی شامل ہیں۔

کاش کے بایزید انصاری پیر روشان کی زندگی پشتونوں کو خود شناسی و خود آگاہی کا درس دے سکے۔

Facebook Comments HS