پنجگور، نوشکی میں ایف سی پر حملے: سنیچر کی صبح بھی پنجگور ایف سی ہیڈ کوارٹر سے فائرنگ کی آوازوں کی اطلاع



(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے پنجگور شہر میں دو فروری کی شب مسلح افراد کے حملے کے بعد اب تک کرفیو کا سماں ہے جہاں سے شہریوں نے بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح بھی ایف سی ہیڈکوارٹر کے اندر سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دی ہیں۔

بی بی سی نے ڈپٹی کمشنر پنجگور سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن تاحال ان کا کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔

خیال رہے کہ دو فروری کی شب بلوچستان کے دو مقامات پنجگور اور نوشکی میں فرنٹیئر کور کے ہیڈکوارٹرز پر مسلح افراد نے حملہ کیا تھا جس کی ذمہ داری بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کی جانب سے دو فروری کو جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا تھا کہ پنجگور میں دہشت گردوں نے دو مقامات سے ایف سی کے دفتر میں داخل ہونے کی کوشش کی لیکن بروقت کارروائی سے انھیں ناکام بنا دیا گیا تھا۔

آئی ایس پی آر نے نوشکی اور پنجگور حملوں میں 13 دہشتگردوں اور سات فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق بھی کی تھی۔

نوشکی میں دوسرے روز تمام حملہ آوروں کو ہلاک کرنے اور آپریشن کو ختم کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ڈپٹی کمشنر نوشکی نعیم جان گچکی کے مطابق نوشکی میں صورتحال اب کنٹرول میں ہے اور شہر میں تیسرے روز معمولات زندگی بحال ہو گئے تھے۔

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

پنجگور میں اس وقت کیا صورتحال ہے؟

پنجگور سے ایک شہری نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ سنیچر کی صبح 10 بجے تک انھوں نے ایف سی ہیڈ کوارٹر کے اندر اور قرب و جوار سے فائرنگ کی آوازیں سنیں۔

شہری نے بتایا کہ پنجگور میں کرفیو جیسا سماں ہے اور انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔

انھوں نے بتایا کہ انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو کہا جا رہا ہے کہ جب تک انھیں انتظامیہ کی جانب سے ہدایات موصول نہ ہوں اس وقت تک وہ گھروں کے اندر ہی رہیں۔

شہری کا کہنا تھا کہ شہر کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

واضح رہے کہ پنجگور اور نوشکی میں بدستور موبائل فون سروس بند ہے اور اسی طرح انٹرنیٹ سروس بھی کام نہیں کر رہی۔

دونوں شہروں کی فضاؤں میں ہیلی کاپٹروں کا گشت بھی جاری ہے۔

پنجگور
’شہر کی بندش کی وجہ سے لوگوں کو پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے‘

نوشکی اور پنجگور کہاں واقع ہیں؟

نوشکی کوئٹہ شہر سے تقریباً 150 کلومیٹر کے فاصلے پر مغرب میں واقع ہے اور ضلع نوشکی کی سرحد شمال میں افغانستان سے لگتی ہے۔

نوشکی میں ماضی میں بھی بم دھماکوں اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر حملوں کے واقعات پیش آتے رہے ہیں تاہم منگل کی شب جو واقعہ پیش آیا وہ نوشکی شہر کی تاریخ میں اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہے۔

دوسری جانب پنجگور صوبے کے جنوبی حصے میں واقع ہے جہاں سے ایران کی سرحد 100 کلومیٹر سے بھی کم فاصلے پر موجود ہے جبکہ یہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے 500 کلومیٹر دور ہے۔

نوشکی اور پنجگور

نوشکی اور پنجگور حملوں پر متضاد اطلاعات

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے صوبہ بلوچستان کے دو مختلف علاقوں، نوشکی اور پنجگور، میں ایف سی ہیڈکوارٹرز پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملوں کے نتیجے میں اب تک سات فوجیوں کی ہلاکت اور چار کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔

پاکستانی فوج کے مطابق نوشکی میں اب تک مارے جانے والے شدت پسندوں کی تعداد نو ہے جبکہ ان کے خلاف آپریشن کے دوران ایک فوجی افسر سمیت چار فوجیوں کی ہلاکت ہوئی ہے۔

دو فروری کو جاری ہونے والے آئی ایس پی آر کے مطابق مجموعی طور پر 13 حملہ آور مارے گئے۔

آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق حملوں کے بعد اب سکیورٹی فورسز کلیئرنس آپریشن میں مصروف ہیں تاکہ علاقے میں چھپے شدت پسندوں کو پکڑا جا سکے۔

تاہم جمعرات کی دوپہر بلوچستان کے مشیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے سکیورٹی فورسز کی ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد تعداد بتاتے ہوئے کہا تھا کہ نوشکی میں پانچ اور پنجگور میں سات سکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے۔

حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کی جانب سے جاری کیے گئے پیغام کے مطابق تنظیم کے مجید بریگیڈ کی جانب سے دعویٰ کیا گیا کہ پنجگور میں جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جس میں ان کے دو حملہ آوروں کی ہلاکت ہوئی۔

آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے مطابق پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے ان کارروائیوں میں ملوث شدت پسندوں اور افغانستان اور انڈیا میں موجود ان کے ہینڈلرز کے درمیان کمیونیکیشن پکڑی ہے۔

اس سے قبل جمعرات کی صبح وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے ان حملوں کے نتیجے میں چار فوجیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی تھی۔ اپنے ایک ویڈیو بیان میں وزیر داخلہ نے بتایا تھا کہ دہشت گردوں نے نوشکی اور پنجگور میں بڑا حملہ کیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔

شیخ رشید کے مطابق پنجگور اور نوشکی، دونوں جگہ سے دہشتگردوں کو باہر دھکیل دیا گیا اور فوج نے اپنی روایات زندہ رکھیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’تھوڑے سے چار یا پانچ دہشتگرد، پنجگور میں سکیورٹی فورسز کے گھیرے میں ہیں جن کو فوج شکست فاش دے گی۔‘

Facebook Comments HS

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 33851 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp