پی ایس ایل 7 میں لاہور قلندرز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ: ’لاہور قلندرز نے دینی ہائپر ٹینشن ہی ہے، کبھی آؤٹ ہو کے، کبھی آؤٹ کر کے‘
جیسے ہی آپ کو یہ محسوس ہونے لگے کہ لاہور قلندرز یا تو بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کر رہی ہے یا پھر بدترین تو تھوڑا تحمل کا مظاہرہ کریں کیونکہ ’پکچر ابھی باقی ہے۔‘
لاہور قلندرز نے اب تک پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) میں کوئی ٹورنامنٹ تو نہیں جیتا لیکن اگر تفریح کا کوئی پیمانہ ہو تو قلندرز نے اپنے مداحوں کو محظوظ کرنے میں کبھی کوئی کسر بھی نہیں چھوڑی۔
آج بھی ٹورنامنٹ کی اب تک سب سے مضبوط ٹیم اسلام آباد یونائیٹڈ کے خلاف میچ کے دوران بھی انھوں نے ایسے ہی کھیل کا مظاہرہ کیا اور پہلے بیٹنگ میں بہترین آغاز کو ضائع ہونے دیا اور پھر اسلام آباد سے جیت کو آخری لمحات میں چھین لیا۔
لاہور نے اسلام آباد کو نو رنز سے شکست دے کر پوائنٹس ٹیبل پر دوسری پوزیشن حاصل کر لی ہے لیکن اس فتح کی کہانی خاصی دلچسپ ہے۔
یہی وجہ تھی کہ ٹوئٹر پر لاہور قلندرز کی مداح معصومہ شیرازی یہ کہنے پر مجبور ہوئیں کہ ’لاہور قلندرز نے دینی ہائپر ٹینشن ہی ہے، کبھی آؤٹ ہو کر، کبھی آؤٹ کر کے۔‘
لیکن بات ’ہائپر ٹینشن‘ اور ’دل منھ کو آنے‘ تک کیسے پہنچی اس کا احوال کچھ یوں ہے کہ اسلام آباد یونائیٹڈ نے ٹاس جیت کر پہلے فیلڈنگ کا فیصلہ کیا لیکن پہلے سات اوورز تک ایسا ہی محسوس ہوتا رہا کہ جیسے اسلام آباد کو یہ فیصلہ بھاری پڑنے والا ہے۔
لاہور کے دونوں اوپنرز نے اس ٹورنامنٹ میں اپنی بہترین فارم کو جاری رکھا اور 83 رنز کی شراکت جوڑ کر اننگز کا جارحانہ آغاز کیا اور یوں لگتا تھا کہ لاہور ایک بار پھر 200 رنز کا ہدف دینے میں کامیاب ہو سکے گا۔
اس کے بعد اسلام آباد کے کپتان شاداب خان بولنگ میں آئے اور چھا گئے۔ انھوں نے اوپر تلے چار وکٹیں حاصل کر کے لاہور کا سکورنگ ریٹ سست کر دیا اور یوں سارا بوجھ لاہور کے آخری چند بلے بازوں پر آ گیا۔
ایسے میں انگلش بلے باز ہیری بروکس اور ڈیوڈ ویزے کی شراکت نے لاہور کو دفاع کے لیے ایک بہتر ٹوٹل یعنی 174 رنز فراہم کیے۔
ادھر اسلام آباد نے اننگز کا آغاز کیا تو اوپنرز آج تو آغاز میں ہی آؤٹ ہو گئے اور پاور پلے میں دونوں اوپنرز کے نقصان پر 52 رنز ہی بن سکے۔
اس کے بعد کپتان شاداب خان اور بائیں ہاتھ کے کیوی بلے باز کولن منرو کے درمیان 103 رنز کی شراکت بنی تو ایسے لگا کہ اب اسلام آباد یہ میچ نہیں ہار سکتا۔ اس کی وجہ اسلام آباد 10ویں نمبر تک اہل بیٹسمین بھی تھے۔
تاہم جیسے ہی راشد خان کی گیند پر شاداب خان آؤٹ ہوئے تو لاہور قلندرز کے بولرز کو ایک نئی جان مل گئی اور انھوں نے رنز کا بہاؤ مکمل طور پر روک دیا۔
اس کے بعد لاہور کے فاسٹ بولرز نے آخری اوورز میں خوبصورت بولنگ کا منفرد مظاہرہ کیا۔ 17ویں اوور میں حارث رؤف نے صرف اٹھ رنز کے عوض منرو کو پویلین کی راہ دکھائی۔
18ویں اوور میں شاہین آفریدی نے بھی صرف آٹھ رنز ہی دیے۔ 19ویں اوور میں جب 12 گیندوں پر 21 درکار تھے تو حارث رؤف نے چھکا پڑنے کے باوجود اوور میں صرف نو رنز دیے۔
آخر میں بات 20 سال کے زمان خان پر آ گئی جنھیں چھ گیندوں پر 12 رنز کا دفاع کرنا تھا اور ان کے سامنے آصف علی اور اعظم خان جیسے جارحانہ بلے باز کھڑے تھے لیکن ان کے مطابق انھوں نے یہ اوور ’انجوائے کرتے ہوئے‘ گزار کر دیا۔
اس پورے اوور میں میں انھوں نے تین رنز دیے جس میں ایک وائڈ بال بھی شامل تھی اور آصف علی کو آؤٹ کر کے قلندرز کی فتح یقینی بنا دی۔
سوشل میڈیا پر صارفین جہاں لاہور قلندر کے اس سنسنی خیز مقابلے کو جیتنے کے بعد تعریفیں کر رہے ہیں وہیں 20 سال کے زمان خان کی بھی تعریف ہو رہی ہے اور نوجوان کپتان شاہین شاہ آفریدی کے دباؤ میں پرسکون رویے کو بھی سراہا جا رہا ہے۔
شاہین آفریدی آخری اوور میں زمان خان کی رہنمائی کرتے دکھائی دیے اور خاصے پرسکون اور مسکراتے نظر آئے۔
ایک صارف نے لکھا کہ ’شاہین کو اس پرسکون رویے پر آسکر دے دینا چاہیے۔‘
https://twitter.com/taimoorze/status/1489952779959418881?s=20&t=h8NBs_928k-1vGnbqUuW7g
احسن افتخار ناگی نے لکھا کہ ’ایک تیز باؤنسر اور اس کے بعد ایک سلوئر بال، وہ بھی آصف علی کو۔ آصف علی جیسے بلے باز کے سامنے ایسی گیندیں کروانے کے لیے خاصی جرات اور بہادری چاہیے ہوتی ہے۔‘
اسلام آباد یونائیٹڈ کے مینیجر ریحان الحق نے لکھا کہ ’یہ ایک مشکل شکست تھی لیکن کبھی کبھار آپ کو حریف کو سراہنا پڑتا ہے۔ لاہور قلندرز نے بہترین بولنگ کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے پاس بہترین کوالٹی کا بولنگ اٹیک ہے۔ اسلام آباد اپنی غلطیوں پر کام کرے گا اور جلد کم بیک کر گا۔‘

