مسئلہ بلوچستان: پاکستان کی پیٹھ کمزور ہے

امریکا کا پاکستان کے حوالے سے اہم اعلان سامنے آیا ہے، پاکستان امریکا سٹریٹجک پارٹنر تھا آج بھی ہے، امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان کہتے ہیں کہ کبھی نہیں کہا امریکا و چین میں کسی ایک کا انتخاب کرو۔ امریکی شراکت داروں کو چین سے زائد مخصوص فوائد ملتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بیجنگ میں چینی قیادت سے کلیدی مذاکرات کیے۔ پاکستان سی پیک قرضوں، بجلی منصوبوں پر نظر ثانی چاہتا ہے۔ امریکا اور چین سے بیک وقت اچھے تعلقات ممکن ہیں؟
افغان سرزمین کا دہشتگردی کے لئے استعمال ہونے کا دعویٰ کتنا اہم ہے؟ دہشتگردی کی نئی لہر، مقابلہ کرنے کے تقاضے کیا ہیں؟ پس پردہ کون ہیں؟ بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حملے کیا ظاہر کرتے ہیں؟ اس کو سی پیک پر اثر انداز ہونے کی کوشش سمجھا جائے؟ افغانستان کی کمزور حکومت پاکستان میں امن کے لئے مدد کرپائے گی؟
سوالات تلخ ہیں مگر جواب پانا بھی ضروری ہیں۔ زمینی حقائق پر بات ہوتو اچھا ہوتا ہے، خیالات میں تعمیر کیے گئے محل آنکھ کھلنے پر زمین بوس ہو جاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو بلوچستان کی حالت کل یا پرسوں نہیں بگڑی۔ یہ مرض پرانا ہے ہے لیکن لا دوا نہیں۔ کالعدم بی ایل اے کی کارروائیاں ایک عرصے سے جاری ہیں، ان کی کارروائیوں میں نواب اکبر بگٹی کی موت کے بعد شدت آئی، حال ہی میں سکیورٹی فورسز کی پوسٹوں پر حملہ، ایک سنجیدہ مسئلہ ہے، اس کا بغور جائزہ لینے کی ضرورت ہے، دیکھنا یہ ہے کہ سدباب کیسے ہو سکتا ہے؟
سوائے چین کے ہر طرف سے ہمارے بارڈر پر مسائل ہیں، یہ خطرناک صورتحال ہے۔ افغانستان، بھارت سے تعلق کی باتیں کرنا دنیا کا بہت آسان کام ہے، افغانستان میں بھارت کے قونصل خانے بند ہو گئے ہیں، اب ٹھکانے کہاں ہیں؟ اگر یہ سب بھارت کر رہا ہے تو پھر اس کے ہاتھ لمبے ہیں۔ وہ ہم سے مضبوط ہے، طالبان حکومت کے آنے کے بعد تو سرحد محفوظ ہونی چاہیے۔ جب تک مقامی تعاون حاصل نہ ہوتو ایسی کارروائیاں نہیں ہو سکتی ہیں۔ ایسے ہاتھ تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔
افغان حکومت پاکستان کو اپنی سرزمین استعمال نہ ہونے کی یقین دہانی کروا رہی ہے لیکن ان کی اپنی حکومت کی کیا رٹ ہے، اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ دشمن سے خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ اس نے جہاں موقع پانا ہے حملہ کر دینا ہے، وہ ہاتھ پر ہاتھ دھر کر نہیں بیٹھا ہو گا۔ جب دشمن بھارت جیسا ہوتو ان سے تو خیر کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔ پیپلز پارٹی نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرنے کی بات کر رہی ہے، اس کا مطالبہ بھی ٹھیک ہے، اگر نیشنل ایکشن پلان پر عمل کیا جاتا تو آج ایسی صورتحال نہ ہوتی۔
حالیہ واقعات کا مقصد تو واضح ہے، بنیادی طور پر ہدف سی پیک ہے، وزیر اعظم کے چین کے دورہ سے پہلے اس میں شدت آئی ہے، چین اور پاکستان کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ آپ کہاں اپنا سرمایہ لگا رہے ہیں؟ کہاں پاکستان پر اعتماد کر رہے ہیں؟ ان کا تو یہاں کنٹرول نہیں ہے۔ ہمارے لئے ضروری ہے کہ اس صورتحال کو زیادہ محتاط انداز میں قابو پایا جائے۔ اس صورتحال کا اثر عالمی ہے۔ ہو سکتا ہے ان کے بیس کیمپ افغانستان میں ہوں، افغان حکومت ان کو کنٹرول نہیں کر سکتی ہے۔ اگر بلوچستان میں کارروائیاں ہو رہی ہیں تو ان کی جڑیں بلوچستان میں موجود ہیں۔ یہاں زیادہ تر سکیورٹی ادارے نشانہ بن رہے ہیں۔ لیکن سیاسی قیادت میں خاموشی ہے۔ وہاں سیاسی لوگ ڈرتے ہیں کہ کہیں ہم ہدف نہ بن جائیں۔ سویلین سپورٹ سسٹم کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
افغانستان میں ابھی کوئی حکومت نہیں، طالبان ایک گروپ ہے جس نے پورے افغانستان پر قبضے کا اعلان کیا ہے۔ ابھی تک ان کی حکومت کو دنیا میں کسی نے تسلیم نہیں کیا ہے، ان کی اپنے ملک میں کوئی رٹ نہیں ہے۔ پاکستان کی خاک مدد کریں گے، افغانستان کے جن علاقوں میں ٹی ٹی پی ہے وہاں افغان حکومت کا اتنا کنٹرول نہیں ہے۔ چیک پوسٹیں موجود ہیں لیکن اس طرح کنٹرول نہیں ہے جس طرح ہونا چاہیے تھا۔ ٹی ٹی پی سے بات کرنے کی کوشش کی گئی لیکن بات نہیں ہو پا رہی۔ اب تو پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ کہتے ہیں بات چیت ختم ہو چکی ہے، ٹی ٹی پی اور بلوچستان کے متحارب گروپوں میں ایک تعاون کی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ہمیں اس وقت غیر مبہم پالیسی کو لے چلنے کی ضرورت ہے، ہمیں ایک آپریشن کی طرف جانے کی ضرورت ہے، اب مزید حملوں کا انتظار نہیں کرنا چاہیے۔
دوسری جانب دنیا کی جغرافیائی سیاست میں ہمارا رول بڑا اہم ہے، پاکستان کا کردار کلیدی ہے، امریکا کا بیان بڑا مثبت ہے، امریکی رویے میں تبدیلی آئی ہے، اوسلو میں طالبان کے ساتھ مذاکرات میں نرمی دیکھنے کو ملی ہے، امریکا پورے خطے کو ایک وسیع تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ جیو اکنامک کا محور سی پیک کا ہے، امریکا کو معلوم ہو گیا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لایا جائے، پاکستان کو اب چاہیے وہ اس سے استفادہ کرے، نائن الیون کے بعد پاکستان میں دہشت گردی بڑھی، پاکستان میں دہشت گردی ”را“ اسپانسر ہے، نوشکی، بلوچستان میں جو کچھ ہوا گوریلا جنگ کی نوید ہے، نیکٹا کو تیار نہیں کیا گیا، ہماری سیکیورٹی بریچ ہوئی ہے، ہمیں اپنے معاملات کو ٹھیک کرنا ہو گا، نیکٹا کو 2009 میں بنایا تھا تاحال فعال نہیں ہوا۔
دنیا کے تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں، امریکا کو دیکھ لیں وہ بھارت کا حلیف ہے تو چین اور روس کے ساتھ بھی تعلقات رکھے ہوئے ہے۔ ہمیں بھی سب سے تعلقات برقرار رکھنے چاہئیں۔ سی پیک کو ہدف بنایا گیا ہے، کوشش کی جائے کہ سرحدوں پر امن لایا جائے۔ افغان حکومت اور امریکا سے مل کر کام کرنا چاہیے۔ چین یہاں آ کر مسائل حل نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنے مسائل خود حل کرنا ہوں گے۔ کسی معجزے کے انتظار میں رہے تو معجزہ ہوتا مشکل نظر آ رہا ہے۔
ساری صورتحال کو سمجھنے کے لئے یہ قصہ ہی کافی ہے۔ ایک شخص کو پکڑ کر مسلسل مارا پیٹا جا رہا تھا، اس کے سینے پر مارا جا رہا تھا، اور آدمی ”میری پیٹھ، میری پیٹھ“ کہتا جا رہا تھا، آخر وہ لوگ رک گئے، کہنے لگے ہم تمھیں سینے پر مار رہے ہیں اور تم ”میری پیٹھ، میری پیٹھ“ کہہ رہے ہو، یہ کہہ کر کیوں چیخ رہے ہو؟ سینے کے بجائے پیٹھ میں کیوں درد اٹھتا ہے؟ مار کھانے والے شخص نے جواب دیا کہ اگر میری پیٹھ مضبوط ہوتی تو مجھے سینے پرنہ مار پاتے۔
آج ہمارے ملک کی کیفیت بھی ایک مار کھانے والے شخص کی سی ہے، جس کے سینے پر مار پڑ رہی ہے، لیکن اس کی پیٹھ مضبوط نہیں، آج کا افغانستان سسک سسک کر جی رہا ہے۔ وہ افغانستان جسے امریکا سے 15 اگست کو خالی کروایا گیا تھا، طالبان اپنا ملک نہیں سنبھال پا رہے اور پاکستان اپنے ملک میں امن کے لئے ان سے ہی مدد طلب کر رہا ہے۔

