علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے میرے شکوے

میرے ساتھ تو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی والوں نے بہت برا کیا ہے۔ ہوا یوں کہ میں نے نومبر میں سیل فون کے ذریعے ماسٹر ان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس کے داخلے کے لیے اپنا آن لائن فارم فل کیا، سارے ڈاکومنٹس اپلوڈ کر کے فارم سبمٹ کیا، پھر چالان فارم جنریٹ کر کے فیس جمع کروا دی۔ مگر فروری کے آغاز تک میرا داخلہ کنفرم نہ ہوا۔ دو بار ریجنل کیمپس کو میل کی پر انہوں نے جواب نہ دیا، اوپن یونیورسٹی کی ہیلپ لائن پر کالز کیں پر وہ مسئلہ حل نہ کر سکے۔
اوپن یونیورسٹی کے سٹوڈنٹ ہیلپ ڈیسک پر متعدد بار کمپلین کی جن کی کچھ ٹکٹس اب بھی میرے پاس موجود ہیں مگر وہاں بھی کسی نے جواب تک دینا گوارا نہ کیا۔ پھر ایک دن میں اپنے شہر کے ریجنل کیمپس گئی تو انہوں نے مجھے یہ بدترین خبر سنائی کہ میرا ایڈمشن فارم تو علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی والوں تک پہنچا ہی نہیں۔ حالانکہ فارم سبمشن کا سٹیٹس بھی میری آئیڈی پر موجود ہے، پر مجھے بتایا گیا کہ اب ایڈمشن فل ہو چکے ہیں۔ آپ کا داخلہ فارم یونیورسٹی تک نہیں پہنچا اور کیوں نہیں پہنچا اس کی وجہ یہی ہو سکتی ہے کہ آپ نے یعنی میں نے فارم درست طریقے سے سبمٹ نہیں کروایا۔
حالانکہ سیل فون سے ہی میں بقیہ سارے کام اور آن لائن فارم بھی سبمٹ کرواتی ہوں پر کہیں اور تو کبھی ایسا ایشو نہیں بنا جیسا ادھر بنا ہے۔ اس کا سیدھا سادا مطلب یہ ہے کہ میرا ماسٹر ان لائبریری اینڈ انفارمیشن سائنس میں داخلہ لینے کا خواب ٹوٹ گیا۔ تو اب ریجنل کیمپس والوں نے کہا ہے کہ اب یہی آپشن ہے کہ فیس دس یا پندرہ فیصد کٹوتی کے ساتھ واپس لینے کے لیے فیس ریفنڈ کا فارم فل کر کے جمع کروا دیں۔
تو اب یہی کروں گی۔ ابھی ایک فرینڈ نے پاکستان سیٹیزن پورٹل پر اس حوالے سے کمپلین کرنے کا مشورہ دیا ہے تو اس آپشن کو آزمانے کا بھی پکا ارادہ ہے۔ ایک اور فرینڈ نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی جا کر ڈین سے مل کر مسئلہ بتانے کا کہا ہے لیکن اب مجھ سے اتنی دور نہیں جایا جائے گا۔ میں اس یونیورسٹی سے پہلے چار مختلف طرح کے ڈگریز مکمل کر چکی ہوں لیکن اب تک مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اب میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا کہ سبمشن کے باوجود بھی میرا ایڈمشن فارم اوپن یونیورسٹی تک نہیں پہنچ سکا۔ میں بہت دکھی ہوں اس بات پر۔ مجھے میرے مسئلے کا حل چاہیے تبھی میں نے یہ تحریر لکھی ہے ورنہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی میری پسندیدہ ترین یونیورسٹی رہی ہے۔

