بارہ دروازے ایک موری


یونیورسٹی میں ہمارے ایک ماسٹر ہوا کرتے تھے، اپنے مضمون پہ زبردست گرفت اور مہارت کے علاوہ ان کی ایک اور وجہ شہرت تھی کہ وہ ایک جملہ تین زبانوں میں بولتے تھے۔ ایک روز اپنی جوانی کا قصہ بتاتے ہوئے کہنے لگے کہ لاہور شہر کی کیا بات ہے، لاہور شہر کی چہل پہل دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے، تفریحی مقامات ہوں یا علم و ادب کی درس گاہیں ہر چیز کی اپنی ہی کشش ہے۔ ایسی باتوں سے تعریف کرنے کے بعد کہنے لگے کہ لاہور شہر کا نام لیکن ٹھیک نہیں ہے۔ اس شہر کا نام لاہور نہیں، لئیا ہور، یعنی اور پیسے لے آؤ ہونا چاہیے۔ اس پہ ہماری حس ظرافت پھڑکی اور ایک برجستہ جملہ کسا کہ پوری جماعت ہی کشت زعفران بن گئی۔

کبھی صرف فصیل کے اندر کا علاقہ ہی لاہور شہر تھا۔ اور شمالی لاہور، اچھرہ، ماڈل ٹاؤن، شاہدرہ جیسے مضافات کے لوگ اندرون لاہور کو شہر کہہ کر ہی مخاطب کیا کرتے تھے۔ لیکن پھر جیسا پطرس بخاری صاحب نے لاہور کے محل وقوع بارے کہا کہ لاہور بہت پھیل گیا ہے، لاہور کی اردگرد بھی اب لاہور ہی ہے۔

وقت کی ریخت میں بہت کچھ بدل گیا اور بہت کچھ بھلا دیا گیا ہے۔ جدید دور میں پرانا مال کہاں بکتا ہے۔ اب تو بڈھے دریا کی اصطلاح استعمال کرنے والے بھی نہیں رہے۔ لاہور کے تہواروں کا بھی واجبی سا وجود باقی ہے۔ میلے ٹھیلے تو کب کے معدوم ہو گئے، بڑھتی آبادی کے باعث اب تو لاہور کے باغات بھی گنے چنے ہی رہ گئے ہیں۔

کبھی بسنتی رت میں لاہوریوں کی زندہ دلی دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ بسنت باقاعدہ ایک تہوار تھا۔ بسنت کی مناسبت سے کپڑے، کھابے، موسیقی، پتنگیں اور دیگر لوازمات کا اہتمام ہوتا تھا۔ پنجاب سے باہر کے شہروں کے دوست بھی بسنت رت دیکھنے لاہور اور بڑے شہروں کا رخ کرتے۔

ہماری نسل شاید وہ آخری پیڑھی ہے جس نے لاہور کے آسمان کو عام دنوں میں بھی گڈیوں، پتنگوں سے سجتے دیکھا ہے۔ جیسے گاؤں میں سارے بزرگ ہر شام ایک ہی حقے کے گرد بیٹھ کے محفل سجاتے تھے، ایسے ہی لاہور شہر کے باسیوں کے لئے ضروری تھا کہ شام کو ایک آدھ پیچا ضرور لگایا جائے۔ جو غم روزگار میں مبتلا ہوتے وہ یہ شوق چھٹی کے دن پورا کرنا لازمی خیال کرتے۔ جاذب نظر پتنگیں، ان کی جھولتی ڈوریں، منہ میں پان اور پتنگوں کے پیچوں میں مہارت اور اس پہ داد کا بھی اپنا ہی سماں ہوتا تھا۔

لاہور شہر کی بیرونی فصیل میں آمد و رفت کے لئے بارہ دروازے بنائے گئے تھے۔ پورے شہر کا انتظام مقررہ ضابطے اور نسق کے مطابق چلتا تھا۔ دروازوں کے کھلنے اور بند ہونے کے اوقات متعین تھے۔ شہر سے نکاسی آب کے لئے اس وقت کے مروجہ طریقے کے مطابق ایک تنگ سی گزرگاہ بنائی گئی تھی جو مقامی زبان میں، موری، کہلاتی تھی۔ جو کوئی مقررہ وقت سے رہ جاتا یا جسے چھپ کے آنا مقصود ہوتا تو وہ اس موری سے شہر میں داخل ہوتا۔ آغاز میں چونکہ یہ کوئی باقاعدہ دروازہ نہیں تھا تو گزرنے والے کو نیواں ہو (جھک) کے اور اپنے کپڑے لتے سنبھال کے، بچ بچا کے گزرنا پڑتا تھا۔

لاہور تو پھیل گیا اور لاہور کے دروازے بھی تجاوزات اور جیتنے کی دوڑ میں کھو گے لیکن، موری، کی تمثیل نے رمز سمجھا دی کہ کیسے خود کو سنبھال کے گزر جانا ہے۔ اس دور کی جدیدیت اور تیز رفتاری میں بھی اپنی اصل راہ اور اپنی اصل منزل سے نظر ہٹائے بغیر راہ میں درپیش مشکلات، مصائب اور آلودگی سے بچنے کا نسخہ فراہم کر دیا۔

شاہ حسین نے جب ملامتی میں قدم رکھا تو کیا خوب کہا کہ:

سجناں اساں موریوں لنگھ گیوسے
بھلا ہویا گڑ مکھیاں کھادا، اساں بھن بھن توں چھٹیوسے
ٹنڈھ پرانی کتیاں لگی، اساں ہتھ منہ نہ دھتیوسے
کہے حسین فقیر سائیں دا، اساں ٹپن ٹپ نکلیوسے

اچھا ہوا کہ امرا کے شاہ دروازوں کی بجائے اب ہم عام لوگوں کی گزرگاہ سے شہر میں داخل ہونے لگے
اچھا ہوا کہ گڑ مکھیوں نے کھایا، گندگی سے ہم بچ نکلے
پرانا جوہڑ، اور اس میں بھی کتوں نے منہ ڈال رکھا ہو، ہم نے اس میں ہاتھ منہ نہ دھویا
اور اس غلاظت سے ہم بچ نکلے

Facebook Comments HS