نہیں کہنا سکھائیں


یہ ہمسایوں کے گھر بیٹا پیدا ہوا ہے کس کی وجہ سے ان کے گھر سے مٹھائی آئی ہے۔ اب ان کے گھر بھی خوشی آئے گی اور اس کی نسل بھی چل پڑے گی۔ بس اب دعا یہ ہے کہ ہونے والا بچہ خاندان کا فرمانبردار فرد بنے اور ان کا سہارا بنے۔

یہ کہانی میرے معاشرے کے ہر گھر کی جس کی فیملی میں نیا فرد شامل ہوتا ہے اور پیدا ہونے والے اس نومولود بچے سے وہ ساری امیدیں وابستہ کرلیتے ہیں جو شاید ہم سے اپنی 25 سے 30 سالہ زندگی میں بھی پوری نہیں کی ہوتی ہیں۔ اس کے دنیا میں آنے کا مطلب ہی یہ تصور کیا جاتا ہے کہ وہ ہر کام کو کر گزرے کسی سے انکاری نہ ہو۔ معاشرے اور خاندان کی یہ توقع ہوتی ہے کہ اس کی ڈکشنری سے لفظ ”نہیں“ نکال دیا جائے۔

ایک بچہ جو کہ اپنے بھوک کو مٹانے کے لئے بھی روتا ہے تاکہ اس کی ماں کو پتہ چل سکے کہ اس کی خوراک کا وقت ہو گیا ہے اس بچے کو ہم پیدائش کے بعد ہی اس کے نازک کندھوں پر بچپن میں ہی کفالت جیسی توپیں داغناں شروع کر دیتے ہیں۔ نسلوں سے چلنے والے خاندان کی عزت، ترقی اور معیار کا سارا ملبہ اس طریقے سے معصوم سی جان کے سپرد کیا جاتا کہ وہ اس سے انکار بھی نہیں کر سکتا کیونکہ خاندان اور معاشرے اس کو لفظ ”نہیں“ متعارف ہی نہیں کروایا ہوتا ہے۔

ہر اس بات اور عمل پر ”نہیں“ کہنا ہر اس انسان کا حق ہے جس سے اس کو تکلیف ہو اور وہ اچھا محسوس نہ کرے۔ کیونکہ میرے ملک کا قانون ہر شہری کو رائے کی آزادی دیتا ہے۔ بچہ اپنے والدین کو اس بات پر بھی انکار کر سکتا ہے جس سے اس کے حقوق کی حق تلفی ہو گی مثال کے طور پر بچہ کسی بھی طرح سے چائلڈ لیبر نہیں کرے گا اس کو تعلیم دی جائے۔

اولاد کو پیدا کرنے کے بعد کے والدین کی ذمہ داریوں میں ان گنت اضافہ ہو جاتا ہے۔ بچے کی اچھے طریقے سے پرورش، حفاظت، تعلیم، گھر، صحت اور خوراک کی تمام ضروریات ماں باپ کے زمرے میں ہی آتی ہیں۔ معاشرے کے حالات اب اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ اپنے بچوں کو ”نہیں“ کہنا سکھائیں اور ان کو یہ بتائیں کہ نہیں کہنے سے کسی کی نافرمانی نہیں ہوتی ہے بلکہ اس سے ہم اپنی حفاظت کو یقینی کو بناتے ہیں۔

ہم تو اس طرح سے معاشرے کی روایاتی زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں کہ روتے کھیلتے ہوئے بچے کی آواز کا معنی بھی ”ہاں“ ہی میں تصور کرتے ہیں۔ اپنی خوشی سے پوچھے گئے سوال یا بات کے جواب میں بچے کی طرف سے مسکرانے اور ”آ آ آ ہو ہو ہو“ کر کے کھلکھلانے کے مطلب کو بھی

” ہاں“ تصور کرتے ہیں حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے اور بچے کو تو اس بات کا بھی علم نہیں ہوتا کون اس سے کیا بات کر رہا ہے اور اس بات کا مطلب کیا ہے۔

ہم نے کبھی بھی بچوں کو ”نہیں“ کہنا سکھایا ہی نہیں ہے۔ روایاتی کے چکر میں ہم نے ہزاروں بچوں کو درندوں کے ہاتھوں ابدی نیند سوتے دیکھا ہے۔ نہیں کہنا کسی بھی خاندان کی پرورش پر سوالیہ نہیں بلکہ اس خاندان کے فرد کو ہر اس عمل سے محفوظ کرتا ہے جس سے اس کو تکلیف ہو سکتی ہے اور نہیں کہنے والا بچہ ہر وقت نافرمانی نہیں کرتا ہے بلکہ وہ خود کو محفوظ کرتا ہے۔

”نہیں“ کہنا سب کا حق ہے۔ نہیں سب کو کسی نہ کسی تکلیف سے بچاتا ہے اور معاشرے ایسے سنگین معاملات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا جس میں وہ معصوم پھولوں کو روندتے ہوئے دیکھے۔ نہیں کہہ کر کسی کی نافرمانی نہیں ہوتی بلکہ اظہار رائے ہوتی ہے جو میرے ملک کا قانون ہر شخص کو اس بات کا حق دیتا ہے کہ وہ رائے کا اظہار کر سکے۔ نہیں ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے بہت سے ظلم روکے جا سکتے ہیں لہذا خود بھی اور بچوں کو بھی نہیں کہنا سکھائیں۔ نہیں۔

Facebook Comments HS