پارلیمان میں اپوزیشن کی ”ناکامیاں“


یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں پاکستان کی پارلیمانی تاریخ کی سب سے بڑی اپوزیشن ہے عمران خان کو ”مسند اقتدار“ پر بٹھانے والی قوتوں نے انہیں ایوان زیریں میں ”اتحادی جماعتوں“ کی بیساکھیوں کا محتاج بنا دیا ہے جب کہ ایوان بالا میں تاحال پی ٹی آئی کی حکومت اکثریت سے محروم ہے اس لئے ایوان بالا میں اپوزیشن جب چاہتی ہے حکومتی بل کو روک لیتی ہے لیکن پارلیمان کے ایوان بالا کا المیہ ہے کہ اپوزیشن اکثریت میں ہونے کے باوجود کوئی موثر رول ادا نہیں کر پا رہی اپوزیشن کی جماعتوں میں ایسے ارکان موجود ہیں جو راولپنڈی سے ”سیٹی“ بجنے کے منتظر رہتے ہیں اور جس بل کو وہ راستہ دینا چاہتے ہیں ایوان سے کسی نہ کسی بہانے سے غائب ہو جاتے ہیں اور پھر اپنی ”غیر حاضری“ کی قیمت وصول کر لیتے ہیں فروری 2021 ء کے انتخابات میں حکومتی حکمت عملی کے نتیجے میں نہ صرف اپوزیشن منقسم ہو گئی بلکہ اس تقسیم کا حکومت بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہے حکومت نے اپنے ارکان کی مدد سے اپنی مرضی کا ”قائد حزب اختلاف“ منتخب کروا کر اپوزیشن میں تقسیم کا جو بیج بویا تھا اس کے تاحال اثرات موجود ہیں یہی وجہ ہے سینیٹ میں عددی اکثریت کے باوجود اپوزیشن کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اپوزیشن کی ”نالائقی“ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے حکومت نے اقلیتی ووٹ ہونے کے باوجود سینٹ سے متنازعہ بل کو منظور کرا لیا۔

یہ تو اللہ تعالی ہی بہتر جانتا ہے کہ قائد حزب اختلاف سید یوسف رضا گیلانی سمیت اپوزیشن کے 8 ارکان ایک انتہائی اہم بل کی منظوری کے وقت ایوان سے کیوں غیر حاضر رہے اور حکومت نے رات کے اندھیرے میں ”گنتی“ پوری ہونے کی اطلاعات پر ہنگامی بنیادوں پر اسٹیٹ بنک آف پاکستان ایکٹ کا ترمیمی بل سینیٹ کے ایجنڈے پر شامل کیا حکومت کو اس بات کا علم تھا کہ سید یوسف رضا گیلانی نور محمد کھوکھر کی رسم قل میں شرکت کے لئے ملتان گئے ہوئے ہیں اور وہ سینیٹ کے صبح 10 بجے ہونے والے اجلاس میں شرکت نہیں کر پائیں گے ایوان میں بل لانے کا فیصلہ کیا اگر سید یوسف رضا گیلانی کو رات گئے بل لانے کے بارے میں علم ہو گیا تھا تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے وہ رات کو ہی ملتان سے اسلام آباد کے لئے کیوں روانہ نہیں ہو گئے؟

ان کی نیت پر کوئی شک نہ کیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے انہوں نے بل بارے میں سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا ان کی ”تساہل پسندی یا مصلحت پسندی“ نے ان کے سیاسی کیریر پر دھبہ لگا دیا جس کے صدمہ میں انہوں نے قائد حزب اختلاف کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان تو کر دیا لیکن اپنا استعفاٰ چیئرمین سینیٹ کو بھجوانے کی بجائے پارٹی چیئرمین کو بھجوا دیا جنہوں نے استعفاٰ موصول ہونے سے قبل ہی مسترد کر دیا جس کے بعد ان کے سیاسی مخالفین کو استعفاٰ کو ڈرامہ قرار دینے کا موقع مل گیا سید یوسف رضا گیلانی اور شاہ محمود قریشی کے درمیان کبھی گاڑھی چھنتی تھی جب سے دونوں کے الگ الگ سیاسی کیمپ ہو گئے تو شاہ محمود قریشی بھی ان پر وار کرنے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا انہوں نے سید یوسف رضا گیلانی کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے استعفے کو کھیل قرار دے دیا اور کہا کہ ان کا یہ موقف ہے کہ انہیں ایجنڈے کی بروقت اطلاع نہیں مل گئی تھی جب کہ گیلانی کے آفس کو دو روز قبل معلومات مل گئی تھیں کہ اہم بل آ رہا ہے۔

فواد چوہدری نے سید یوسف رضا گیلانی کا دفاع کچھ اس انداز میں کیا ہے کہ ”وہ ایک شریف آدمی ہیں، استعفاٰ تو بلاول کا بنتا ہے یا زرداری کا جن کے کہنے پر پیپلز پارٹی کے ارکان ایوان میں نہیں آئے“ یہ بات قابل ذکر ہے کہ مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر مصدق ملک سید یوسف رضا گیلانی پر طنز کے تیر چلا نے باز نہ آئے اور انہیں ”ہمت“ کر کے ایوان میں آنے کا مشورہ دیتے رہے تو سینیٹر سعدیہ عباسی نے کھل کر سید یوسف رضا گیلانی کے موقف کی حمایت کر دی اور پیپلز پارٹی کی قیادت کو ان کا استعفاٰ مسترد کرنے کا کہا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر مصطفی نواز کھوکھر نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ”پیپلز پارٹی کو اپوزیشن لیڈر کے لئے دلاور خان گروپ سے ووٹ نہیں لینا چاہیے تھے، دلاور خان گروپ حکومت کا حامی ہے، سید یوسف رضا گیلانی قابل احترام ہیں لیکن معذرت کے ساتھ ہمارے لئے لوگوں کو جواب دینا مشکل ہوجاتا ہے ہم لوگوں کو کس طرح قائل کرسکیں گے کہ ہم حکومت کو ہٹانے میں سنجیدہ ہیں۔ اپوزیشن کو دائیں بائیں دیکھنا بند کر کے صرف سیاست پر فوکس کرنا ہو گا۔

متنازعہ بل کی منظوری کے وقت قائد حزب اختلاف سید یوسف گیلانی سمیت حزب اختلاف کے 8 اور حکومت کے 4 ارکان ایوان میں غیر حاضر تھے، اے این پی کے عمر فاروق کانسی بل کی منظوری کے وقت ایوان سے باہر نکل گئے جبکہ دلاور خان نے حکومت کو ووٹ دیا اس طرح حکومت اپنی حکمت عملی سے ایک ایسا بل منظور کرانے میں کامیاب ہو گئی جسے اپوزیشن نے کسی صورت منظور نہ کرنے کا اعلان کر رکھا تھا سید یوسف رضا گیلانی ایوان بالا میں انتہائی جذباتی انداز میں قائد حزب اختلاف کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا لیکن اپوزیشن نے اسے“ عذر بد تر از گناہ ”قرار دے کر مسترد کر دیا ہے پارلیمان میں اپوزیشن پچھلے ساڑھے تین سال سے اہم ایشوز پر منقسم نظر آتی ہے اپوزیشن اہم ایشوز پر ووٹنگ کے دوران سودے بازی سے گریز نہیں کرتی اپوزیشن کا یہ المیہ ہے کہ اس کی صفوں میں ایسے لوگ بیٹھے ہیں جو بظاہر اپنے آپ کو اپوزیشن کا رکن بتاتے ہیں لیکن جہاں حکومت کسی مشکل میں پھنستی ہے مدد کو پہنچ جاتے ہیں حکومت سینیٹ اجلاس میں اپنی گنتی پوری نہ کر سکی تو بل پیش کرنے سے گریز کیاں رہی اجب گنتی پوری ہو گئی تو فوری طور پر وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا ترمیمی بل 2022 پیش کر دیا۔

ایوان بالا کی تاریخ میں پہلی بار چیئرمین سینیٹ نے بل کے حق میں دو بار ووٹ دے کر حکومت کو مشکل سے نکا لا جب کی منظوری کا مرحلہ آیا تو اے این پی ایک رکن عمر فاروق نے ایوان سے باہر جا کر حکومت کے لئے آسانی پیدا کر دی پی ٹی آئی کی ڈاکٹر زرقہ طبیعت خرابی کے باعث ایوان میں آکسیجن سلنڈر کے ساتھ آ گئیں اس اندازہ لگایا جا سکتا ہے حکومت بل منظور کرانے میں کس حد تک سنجیدہ تھی۔ سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ مسلم لیگ نون کا سینیٹ سے اسٹیٹ بینک ترمیمی بل منظور ہونے کی ذمہ داری مجھ پر عائد کرنا متعصبانہ رویہ ہے دوسری طرف فواد چوہدری نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی بل کی سینیٹ سے منظوری میں تعاون کرنے پر سید یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کا شکر یہ ادا کیا۔

پارلیمنٹ کے ایوان بالا کا یہ المیہ ہے اس میں حکومتی اور اپوزیشن بنچوں پر بیٹھے چند ارکان“ راولپنڈی ”کی طرف دیکھتے ہیں ان کے سامنے سیاسی جماعتوں کی قیادت بھی بے بس نظر آتی ہے چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم میں ناکامی میں بھی ان سینیٹرز کا رول نظر انداز نہیں کیا جاسکتا جو کہیں اور سے ہدایات لیتے ہیں پیپلز پارٹی جو بظاہر اپوزیشن بنچوں پر بیٹھی ہے لیکن وہ حکومت کی“ بی ٹیم ”بن کر رہ گئی ہے۔

Facebook Comments HS