باڑ لگائیں، دفاعی بجٹ بڑھائیں

بلوچستان میں سکیورٹی فورسز پر حالیہ دنوں میں ہونے والے حملوں نے نہ صرف ایک بار پھر افغان طالبان کے اپنی زمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانیوں پر سوال اٹھائے ہیں۔ بلکہ افغانستان اور ایرانی سرحدی علاقوں میں موجود ان عناصر کے قلع قمع اور روک تھام کے لیے باڑ کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ افغانستان میں کالعدم بلوچ تنظیموں اور ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں میں ہونے والے اتحاد کا اثر پاکستان کی سکیورٹی صورتحال پر پڑ رہا ہے۔
کیچ میں چیک پوسٹ پر حملہ ہو یا پھر پنجگور اور نوشکی کے واقعات ان سب کے ڈانڈے ایران اور افغانستان سمیت انڈیا سے مل رہے ہیں۔ دیکھا جائے تو پاکستان اس وقت افغانستان کو سفارتی، معاشی اور لاجسٹک سپورٹ فرام کر رہا ہے۔ اس کے باوجود افغان طالبان کی حکومت نہ صرف کالعدم ٹی ٹی پی کو روکنے پر آمادہ نظر اتی ہے نہ ہی پاکستان کے سرحدی علاقوں سے ملحقہ افغانی علاقوں میں موجودہ بلوچ دہشتگردوں کو روکنے میں کامیاب ہوئی ہے۔
حتی کہ بین الاقوامی میڈیا کے مطابق گزشتہ دنوں افغان حکومت کی طرف سے گرفتار کیے جانے والے بلوچ دہشتگرد رہنما کچھ ہی دنوں بعد ایران میں دیکھے گئے ہیں۔ پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے قریب سمجھے جانے والے افغان طالبان کی حکومت کے ان کارناموں پر تو دکھ ہوتا ہی ہوتا ہے۔ ایسے میں کلبھوشن یادیو کی ایران کے ذریعے بلوچستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو آپریٹ کرنے کے اعتراف کے ساتھ ساتھ ایرانی سرحد سے پاکستانی فورسز پر حملوں اور ایران سے دہشت گردوں کی پاکستانی علاقوں میں دہشتگردانہ کارروائیوں کے بعد واپس ایران میں فرار نے بھی ہمسایہ ملک کے کردار پر سوال اٹھائے ہیں۔
ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے جہاں بھرپور سفارتی اقدامات کی ضرورت ہے وہاں جنگی بنیادوں پر باڑ لگانے کے عمل کو مکمل کرنے کی بھی ضرورت ہے۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس وقت باڑ لگانے کا عمل نوے سے پچانوے فیصد تک مکمل کر لیا گیا ہے۔ مگر باڑ لگانے کے ساتھ پیٹرولنگ اور سرحدی چوکیوں کو بڑھانے کے لیے بے بہا وسائل کی ضرورت ہے۔ ایسے وقتوں میں کہ جب گزشتہ تین برس سے دفاعی بجٹ میں اضافہ نہ کیا گیا ہو۔ ایسے حالات میں حکومت کی جانب سے جنگی بنیادوں پر نہ صرف باڑ لگانے کے لیے فنڈز قائم کر کے فوری اجرا کو یقینی بنایا جائے۔
اسی کے ساتھ ساتھ دفاعی بجٹ میں بھی فوری اور معقول اضافے کیا جانا چاہیے۔ ڈالر اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کا اثر افواج پاکستان کے لئے امپورٹ یا تیار کیے جانے ساز و سامان پر بھی پڑا ہے۔ بلوچستان کے جغرافیائی محل وقوع اور وسیع رقبہ کی وجہ سے نہ دہشت گردوں کو چھپنے بلکہ فرار ہونے کے لئے آسانی ہوتی ہے۔ ایسے میں دہشتگردوں کے گڑھ علاقوں میں آمدورفت کے لئے بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیوں کی خریداری فوری ضرورت ہے۔ پاکستان سٹریٹجک فورم کی جانب سے حالیہ حملوں کے تناظر میں چند فوری اقدامات کے حوالے سے جو سفارشات پیش کی گئیں اس میں پہلے نمبر پر سرحدی علاقوں میں باڑ کی تنصیب اور مکمل کیے جانا ہے۔
دوسری تجویز جو پیش کی گئی وہ انٹیلی جینس بنیادوں پر کارروائیاں ہیں۔ تیسری تجویز بلٹ پروف اور بم پروف گاڑیوں کا حصول ہے۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق بلوچ دہشت گردوں کی جانب سے استعمال کیے جانے والا اسلحہ میں لانگ رینج رائفلز اور سنائپرز ہیں۔ ان دہشتگردوں کی جانب سے وقتاً فوقتاً آئی ای ڈی ڈیوائسز اور بارودی سرنگوں کے ذریعہ بھی سکیورٹی فورسز کے گشت کرنے والے قافلوں کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ اب بم پروف یا بلٹ پروف وہیکلز کی امپورٹ یا پاکستان میں تیاری بھاری سرمایہ طلب عمل ہے۔
اسی طرح سے افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلاء کے بعد وہاں چھوڑے جانے والا جدید اسلحہ بھی اونے پونے داموں ان دہشتگردوں کو مل چکا ہے۔ ہمیں بھی اپنی فورسز کے لئے جدید اسلحہ کی خریداری یا تیاری کی ضرورت ہے۔ درج بالا امور کے لئے دفاعی بجٹ میں اضافہ ہی واحد حل ہے۔ ہماری سیاسی جماعتوں اور حکومت کو اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا کر کے اقدامات اٹھانے ہوں گے ۔

