الوداع لتا منگیشکر: سروں کی ملکہ

آج سر و سنگیت کی دنیا اداس ہے۔ ساز و آواز کا جہان مغموم ہے۔ لے اور آہنگ کا نگر ملول ہے۔ گیت و نغمے کی وادی غم و اندوہ میں ڈوب گئی ہے۔ ترنم و موسیقی کی کائنات نوحہ کناں ہے۔ تان و طبلے کا عالم گریہ زار ہے۔ آج سروں کی دیوی لتا منگیشکر 92 سال تک اقلیم گائیکی پر بلا شرکت غیرے حکمرانی کرنے کے بعد خاموش ہو گئی۔ جس کے گلے میں بھگوان بولتا تھا وہ چپ ہو گئی۔ جس کی آواز میں جادو تھا وہ نہ رہی مگر لتا جی کی جسمانی موت سے کیا ان کی آواز بھی مر جائے گی؟ نہیں کبھی نہیں، آوازیں کب مرتی ہیں اور لتا کی آواز تو امرت دھارا بن کر کانوں میں رس گھولتی رہے گی، لتا بولتی رہے گی۔
اے سروں کی دیوی!
یہ سب جو کہہ رہے ہیں
تم مر گئی ہو،
یہ سارے کم فہم ہیں،
آوازیں بھلا کب مرتی ہیں،
یہ جیتی ہیں،
یہ پھلتی ہیں،
آوازیں رنگ بدلتی ہیں،
جو کہتے ہیں،
تم مر گئی ہو،
محض تمہارا جسد دیکھتے ہیں،
تجھے بے جان، خاموش اور سرد دیکھتے ہیں،
مگر،
یہ کم فہم کب جانے ہیں،
لتا تو ساز ہے، سر ہے، آواز ہے،
اور
”تیری آواز ہی پہچان ہے، جو ہمیں یاد رہے گی“
ہماری سماعتوں میں،
سدا آباد رہے گی۔
بانوے سالہ زندگی، اسی سالہ طویل گائیکی کا کیریر، چھتیس سے زائد زبانوں میں پچیس ہزار سے زیادہ لافانی اور لا زوال نغموں کا اثاثہ عطا کرنے والی عظیم اور منفرد گلوکارہ کیسے مر سکتی ہے؟
نام گم جائے گا، چہرہ یہ بدل جائے گا
میری آواز ہی پہچان ہے گر یاد رہے
لتا جی کی آواز کے کروڑوں دیوانے ہیں، لاکھوں چاہنے والے ہیں۔ وہ بلا شبہ فن کی معراج پر تھیں۔ ہندو دھرم والے تو ان کی پوجا کر تے ہیں۔ بلا شبہ انہوں نے بادشاہوں اور حکمرانوں سے بڑھ کر تکریم اور توقیر پائی مگر اس کے باوجود انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ دوسری زندگی میں لتا نہیں بننا چاہیں گی۔ فن اور اس کی آبیاری کے لیے جس طرح انہوں نے اپنا خون جگر دیا وہ ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔
فنون لطیفہ سے وابستہ لوگ نہایت حساس، ہمدرد اور انسان دوست ہوتے ہیں۔ لتا جی بھی سادگی، محبت، انسان دوستی اور حساسیت کی چلتی پھرتی تصویر تھیں۔ بر صغیر پاک و ہند کے لوگ بلا تخصیص مذہب و جغرافیہ انہیں اپنے دور کی عظیم ترین گلوکارہ سمجھتے تھے۔ محمد رفیع، کشور کمار، نور جہاں، مکیش، طلعت محمود اور مہدی حسن جیسے نابغۂ روزگار گلوکاروں نے اس میدان میں سربراہی کا تاج ان کے سر پر رکھا تھا جبکہ وہ خود میڈم نور جہاں کو اپنی استاد مانتی تھیں اور ان کی بے حد عزت کرتی تھیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مہدی حسن کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔
حسب روایت ہمارے کچھ کٹھ ملا اور جنت کے ٹھیکیدار ان کی موت پر بھی مذہب کا چورن بیچ کر اپنی اوقات دکھا رہے ہیں۔ ان کے نفرت اور حقارت میں ڈوبے تیر سوگواران کو چھلنی کر رہے ہیں۔ جنت اور جہنم کے سرٹیفکیٹ بیچ رہے ہیں۔ کنویں کے یہ مینڈک اسی طرح نفرت کا زہر پھیلاتے رہیں گے اور لتا جیسے لوگ فن اور انسان دوستی کے طفیل امر ہو جائیں گے۔
حیدر آباد جیل میں انقلابی شاعر حبیب جالب نے کچھ اس طرح لتا جی کو خراج تحسین پیش کیا تھا
تیرے مدھر گیتوں کے سہارے
بیتے ہیں دن رین ہمارے
کیا کیا تو نے گیت ہیں گائے
سر جب لاگے من جھک جائے
تجھ کو سن کر جی اٹھتے ہیں
ہم جیسے دکھ درد کے مارے
تیرے مدھر گیتوں کے سہارے
بیتے ہیں دن رین ہمارے
میراؔ تجھ میں آن بسی ہے
انگ وہی ہے رنگ وہی ہے
جگ میں تیرے داس ہیں اتنے
جتنے ہیں آکاش پہ تارے
تیرے مدھر گیتوں کے سہارے
بیتے ہیں دن رین ہمارے

