لتا منگیشکر: ایک مسحور کن آواز


لتا منگیشکر۔ ”میری آواز ہی پہچان ہے“ ، واقعی فانی انسان کا نام بھی گم جاتا ہے اور چہرہ بھی بدل جاتا ہے۔ لیکن کسی بھی انسان کا فن ہے جو کہ اسے زندہ رکھ سکتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند کی نامور اور مایہ ناز آواز، صف اول کی گلوکاراؤں میں ایک معتبر نام لتا منگیشکر 92 برس کی عمر میں رواں ماہ فروری میں کووڈ 19 میں مبتلا رہیں اور آخر کار زندگی اور موت کی کشمکش میں جان کی بازی ہار گئیں۔ اپنی مسحور کن آواز سے گرویدہ بنا لینے والی فن موسیقی کی عظیم گلوکارہ اپنے کروڑوں مداحوں کو غمزدہ چھوڑ کر اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔

لتا جی کے سوگ میں ہندوستان بھر میں سرکاری طور پر دو روز سرکاری طور پر یوم سوگ منانے اور پرچم سرنگوں رکھنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ انہیں فن موسیقی کے قدر دانوں اور مختلف حلقوں نے ان کی حیات ہی میں کئی القابات سے نوازا۔ اعلٰی پایہ کی گلوکار اور ہندوستان کی پہچان مانی جانے والی لتا جی کو کئی اعلٰی سول ایوارڈز سے نوازا گیا۔ لیکن اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ایک فن کار کے لئے سب سے بڑا اعزاز اس کے مداحوں کی طرف سے ہونے والی پذیرائی ہوتی ہے۔

لتا جی، ”سروں کی دیوی“ اس حوالے سے خوش قسمت تھیں کہ دنیا بھر کے طول و عرض میں جہاں مشرقی موسیقی اور خاص طور پر ہندوستانی موسیقی کی سوجھ بوجھ رکھنے والے موجود ہیں، وہ سبھی لتا جی کو ان کے فن کے حوالے سے معتبر مانتے تھے۔ لتا جی کی آواز کے عاشق اور شیدائی صرف ان کے ہم عصر ہی نہیں بلکہ ہر عمر کے ہندوستانی موسیقی کے سننے والے شامل ہیں۔

لتا جی نے اپنی اوائل عمری ہی میں موسیقی میں دل چسپی لینا اور گانا شروع کر دیا تھا۔ کہا جاتا ہے کہ 13 برس کی عمر میں آپ نے ہندی فلم کے لئے گیت گایا تھا۔ اور پھر آنے والے برسوں میں فن موسیقی کے میدان میں ان کی فتوحات کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو گیا۔ لتا جی کی آواز کی خاصیت یہ بتائی جاتی ہے کہ وہ دن بدن جوان ہوتی جاتی تھی۔

ان کی سحر انگیز آواز کا ثانی نہیں تھا۔ شاید ان کی ہم عصر یا بعد میں آنے والی بہت سی گلوکارائیں بہت اچھا گاتی ہوں لیکن قدرت نے جو تحفہ خوب صورت آواز کی شکل میں لتا جی کو دیا تھا، کوئی اس آواز کی کوالٹی اور معیار کو نہ پہنچ سکا۔ معیاری اور اچھی موسیقی کے رسیا اور شوقین سامعین لتا جی کی لافانی آواز کا بھرپور مزہ لینے کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیتے اور اپنے ماحول سے بے خبر ہو کر اس آواز میں جیسے کھو جاتے۔

ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کے بارے میں کہا جاتا ہے وہ نہ تو کھلے عام روتے تھے اور نہ ہی کسی رونا پسند کرتے تھے۔ لیکن 1963 ء میں جب ایک تقریب میں لتا جی نے گیت کار پردیپ کا لکھا ہوا نغمہ، ”اے میرے وطن کے لوگو“ گایا تو نہرو اپنے آنسو نہ روک سکے۔ ہدایت کار محبوب نے لتا جی سے جو کہ پرفارمنس کے بعد اسٹیج کے پیچھے بیٹھی تھیں، جا کر کہا کہ پنڈت جی آپ کو بلا رہے ہیں۔ انہوں نے نہرو کے پاس جا کر کہا، ”یہ ہیں ہماری لتا، آپ کو ان کا گانا کیسا لگا؟

” انہوں نے کہا،“ بہت اچھا، اس لڑکی نے میری آنکھیں نم کردی ہیں۔ ”یہ کہہ کر نہرو نے لتا کو گلے لگا لیا۔ بعد ازاں ممبئی میں ایک تقریب میں، جس میں نہرو مہمان تھے، لتا جی نے فلم“ آرزو ”کا گیت،“ اجی روٹھ کر اب کہاں جائیے گا، ”گایا۔ لیکن نہرو نے انہیں ایک چٹ بھیجی اور،“ اے میرے وطن کو لوگو، ”گانے کی فرمائش کی۔ لتا جی نے ان کی فرمائش پوری کی اور ان کی پسند کا نغمہ گایا۔

لتا جی کی سریلی آواز کے ساتھ ساتھ ان کا اردو تلفظ بھی لوگوں کی پسندیدگی کی ایک خاص وجہ تھی۔ یہاں تک اہل زبان بھی لتا جی کے اردو تلفظ کے معترف تھے۔ کہا جاتا ہے کہ اپنی پیشہ وارانہ موسیقی کے اوائل ہی میں لتا جی نے اردو کے درست تلفظ کے لئے ایک مولوی صاحب سے اردو کی تعلیم حاصل کی تھی۔

عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ کمرشل ازم کی ضرورت اسٹائل، گلیمر اور جدت ہے جبکہ فن موسیقی قدر دانوں کے لئے کلاسیکی فن کاروں کی حیثیت دیو مالائی اور جادوئی ہوتی ہے۔ فلم، ادب اور فن موسیقی سے تعلق رکھنے والی مختلف شخصیات لتا جی کے فن گائیکی اور آواز کے مداح اور معترف تھیں۔

فلم ساز و شاعر گلزار کا کہنا ہے، ”لتا جی کی آواز ہمارے عہد کا ثقافتی عجوبہ اور مظہر ہے۔ یہ ہماری روزمرہ زندگی کا حصہ ہے۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا کہ ہم کم از کم ایک بار ان کی آواز نہ سنتے ہوں۔“

شاعر، دانش ور اور کہانی کار جاوید اختر کہتے ہیں، ”اس کرہ ارض پر صرف ایک سورج، ایک چاند اور ایک لتا ہے۔“

اداکارہ نرگس نے کہا، ”مجھے ان جذباتی گیتوں کو گاتے ہوئے جو لتا جی کی آواز میں ہوں، آنکھوں میں گلیسرین ڈالنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔“

استاد سلامت علی خاں نے لتا جی کو ان الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا، ”ہندو سماج میں لتا جی کو ایک دیوی مانا جاتا ہے۔ ہندوستان سمیت پوری دنیا میں ہندو لتا منگیشکر کو اوتار سمجھتے ہیں۔“

شہرہ آفاق وائلن نواز یہودی مینوہن  نے لتا جی کے بارے میں کہا، ”میں اپنے وائلن پر آپ کی حیرت انگیز گائیکی کو باردگر تخلیق کرنے کی صرف کوشش کر سکتا ہوں۔“

آج فن موسیقی کی اس عظیم ہستی کو ان کے فن کے حوالے سے خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شاید یہ سطور ناکافی ہوں۔ لیکن لتا جی ان کلمات کی مستحق ہیں کہ وہ اپنے فن میں ایک برگذیدہ اور عجوبہ ہستی تھی۔ کسی نے لتا جی کے فن کے بارے میں کیا خوب کہا، ”لتا جی کسب کمال کے لحاظ سے معیار اور معراج کے سنگھاسن پر براجمان تھیں۔ وہ فن موسیقی کی اس منزل اور معیار پر رہ چکی تھیں جہاں جمالیاتی تخلیقات کے پرندوں اور ہماؤں کے پر جلتے ہیں۔“

شاستریہ سنگیت (کلاسیکی موسیقی) اور فلمی موسیقی میں لتا جی نے وہ مقام حاصل کیا جو کہ کم ہی فن کاروں کے حصہ میں آتا ہے۔ آپ ایک انمول گائیکہ تھیں۔ اپنی محنت اور لگن کے باعث آپ کو امتیاز اور اعزاز حاصل ہوا۔ لتا جی پس پردہ گائیکی جیسے پیشہ وارانہ میوزک میں، ”بہترین“ کہلائیں اور ”سرسوتی دیوی“ مان لی گئیں۔

آج جہاں لتا جی کے کروڑوں مداح ان کی دائمی جدائی میں اداس اور غمزدہ ہیں وہیں ”راگ داری اور سنگیت کے ہجوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ خیال، گائیکی کی منزل، راستے، سائبان، آلاپ، آبوگ، استھائی اور انترہ سب اداس ہیں۔“ شاعروں کے نغموں، غزلوں، گیتوں اور موسیقاروں کی دھنوں کو لافانی اور دائمی بنا دینے والی آواز خاموش ہو گئی۔ مختلف ادوار میں ان کے گائے ہوئے گیت صرف اور صرف ان کی مسحور کن آواز کی وجہ سے ”لتا منگیشکر The Excellence۔“ ، سر تال اور میلوڈی سے سچی محبت کرنے والوں کی دل میں امر رہیں گی۔

Facebook Comments HS