عظیم لتا کے لئے چند لفظوں کی آرتی


اس بات سے بھلا کس کو انکار ہو گا کہ لتا منگیشکر کی آواز ایک معجزہ ہے۔ سر کا جادو ان کا خونی ورثہ اور موسیقی کی تعلیم اور ریاض ان کی تربیت کا حصہ ہے۔ ان کے گھر مراٹھی بولی جاتی تھی۔ جو بات مجھ جیسے لاکھوں لوگوں کو متاثر کرتی ہے وہ ان کے فلمی گانوں میں اردو الفاظ کا تلفظ اور ان کی ادائیگی ہے۔ کم ہی لوگوں کو معلوم ہو گا کہ ان کے بہترین تلفظ اور الفاظ کی ادائیگی میں ایک ایسے جملے کا ہاتھ ہے جس نے لتا جی کو بہت تکلیف پہنچائی تھی۔ اور یہ جملہ تھا دلیپ کمار کا۔

اس سلسلے میں انہوں نے اپنے کئی انٹرویوز میں ایک واقعہ کا بارہا ذکر کیا ہے۔ جو آپ بھی سنیے۔

یہ واقعہ ہے 1946 ء میں مقامی ٹرین کے سفر کا جو لتا میوزک ڈائریکٹر انیل دا (انیل بسواس) اور ان کے اسسٹنٹ کے ساتھ کر رہی تھیں۔ ایسے میں بندرا اسٹیشن سے ایک نوجوان کمپارٹمنٹ میں داخل ہوا۔ یہ نوجوان دلیپ کمار تھے اس وقت ان کے بھی کیریر کی شروعات ہی تھیں لہٰذا وہ مقامی ٹرین کا سفر بلاتامل کر لیا کرتے تھے۔ انیل دا نے لتا کا تعارف کروایا۔ ”یہ لتا ہے اور مراٹھی سنگر ہے۔“ جس کو سن کر دلیپ کمار نے، جن کی اردو بہت شستہ تھی، ہنستے ہوئے فقرہ کسا، ”ان سے (مراٹھی کے اردو تلفظ سے) تو دال بھات کی بو آتی ہے۔“ لتا نے کہا یوسف صاحب کے اس جملے سے مجھے اتنی تکلیف ہوئی کہ میں نے واپس آنے کے بعد اپنے منہ بولے بھائی موسیقار محمد شفیع سے کہا کہ مجھے اردو سیکھنی ہے تاکہ میں اپنا تلفظ درست کر سکوں۔ شفیع صاحب نے ایک مولانا محبوب صاحب کا انتظام کیا۔ جنہوں نے اردو پڑھنا اور لکھنا سکھایا اور تلفظ درست کیا۔ بقول ان کی بہن مینا منگیشکر کے جو ان سے دو سال چھوٹی ہیں، ”دیدی بہت ضدی اور غصہ والی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس جملے کی وجہ سے دیدی نے ضد اور غصہ میں اردو سیکھی۔“

اب وجہ کچھ بھی ہو، دلیپ کمار کا وہ جملہ لتا کی گائیکی اور اردو گانے سننے والوں پہ ایک احسان عظیم کر گیا۔ کیونکہ اس زمانے میں فلموں میں اردو شاعری کا معیار بہت اعلی ہوتا تھا۔ ایک ایک لفظ کی ادائیگی پہ زور دیا جاتا۔ ایسے میں لتا منگیشکر کی لفظوں کی ادائیگی اس قدر کمال کی تھی کہ جب انہوں نے فلم محل“ کے لیے گانا ریکارڈ کرایا۔ جس کے بول تھے۔

آئے گا، آئے گا، آنے والا

تو اس وقت اسٹوڈیو میں مشہور فلم اسٹار نرگس کی والدہ جدن بائی جو خود ایک مشہور اداکارہ رہی تھیں، انہوں نے لتا کو پاس بلا کے ان کے تلفظ کی تعریف کی۔ خاص کر لفظ ”بغیر“ کی ادائیگی کی۔ یہ وہی گانا تھا کہ جس کے بعد لتا منگیشکر کی گائیکی کی دھوم مچ گئی تھی اور وہ ایک کامیاب گلوکارہ کی حیثیت سے ہندی سینما میں پہچانی گئیں۔

لتا ایک غیر معمولی فنکارہ ہی نہیں بلکہ انتہائی محنتی اور ذمہ دار انسان بھی تھیں۔ اپنے فنکار اور موسیقار والد دینا ناتھ منگیشکر، جو ایک ڈرامہ کمپنی کے مالک تھے، کے اچانک مرنے کے بعد ان پہ چار چھوٹے بھائی بہنوں اور والدہ کو سنبھالنے کا بوجھ آن پڑا۔ اس وقت ان کی عمر بارہ، تیرہ سال کی تھی۔ لیکن بقول ان کی بہن مینا کے ”دیدی ایک دم سے بارہ کے بجائے بائیس سال کی ہو گئی۔ وہ صبح جاتی اور اور رات کو فلموں کی شوٹنگ سے واپس آتی۔ اس نے کبھی اپنی کسی تکلیف کا ذکر نہیں کیا۔ وہ صرف ہماری ضروریات کا خیال رکھتی تھی۔“

کم عمری میں اداکاری لتا کی مجبوری تھی۔ مگر شوق تو گانے کا تھا۔ مراٹھی گانے تو وہ گانے لگیں تھیں مگر ہندی فلموں میں اپنی آواز کو متعارف کرانے کا سہرا وہ اپنے گرو ماسٹر غلام حیدر کے سر باندھتی ہیں۔ جنہوں نے اپنی فلم کے سارے گانے لتا جی آواز میں اس وقت ریکارڈ کیے جب فلمستان کے مالک ایس مکر جی نے ان کی آواز کو کمزور اور مہین کہہ کر رد کر دیا تھا۔

گو غلام حیدر نے پاکستان ہجرت کی مگر فنکاروں کے بیچ مذہب کی دیوار کب آڑے آئی ہے۔ لتا کا فن ایک جمہوری قدروں اور سیکولر راستے پہ چلنے والے دیس میں پروان چڑھا۔ انہوں نے امان علی خان کا گنڈا باندھا۔ ابتدا میں اپنی گائیکی میں نورجہاں کے انداز کو اپنایا۔ مہدی حسن اور نورجہاں کے گلے میں اس بھگوان کو پایا جس کی وہ عبادت کرتی تھیں۔

نعت ایسے پڑھی کہ سرکار مدینہ کا دل پسیج جائے۔
بے کس پہ کرم کیجیے سرکار مدینہ
گردش میں ہے تقدیر، بھنور میں ہے سفینہ
اور میر انیس کا مرثیہ ایسے پڑھا جیسے میدان کربلا میں ماتم کناں ہوں۔
حسین چلے بعد دوپہر رن کو
نہ تھا کوئی کہ جو تھامے رکاب تو سن

لتا کا کہنا تھا کہ ”میں ہر مذہب کی عزت کرتی ہوں بھلے وہ اسلام ہو یا کوئی اور مذہب۔ میں ہندو ہوں۔ مگر میں نہیں مانتی کہ ہم اچھے ہیں اور وہ خراب ہیں۔“

”اللہ تورو نام ایشور تورو نام
سب کو سمبتی دے بھگوان
انکا یہ گانا ان کی اسی سوچ کا غماز ہے۔

لتا نے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ ”میں چاہتی ہوں لوگ مجھے اس طرح یاد رکھیں کہ میں نے کبھی کسی کا برا نہیں چاہا کبھی کسی کو برا نہیں کہا اور اپنی جانب سے اپنے کام سے دیش کی سیوا کرنے کی کوشش کی ہے۔“

انہوں نے کہا کہ، ”لوگ اکثر مجھے مغرور سمجھتے ہیں۔ مگر مجھے بار بار لوگوں اور اسٹیج کے سامنے آنا نہیں پسند۔ بس میری آواز ہی میری پہچان ہے۔“

لتا منگیشکر نے چھ فروری 2022 ء کو بمبئی کے ایک ہسپتال میں اپنی آخری سانسیں لیں۔

انہوں نے چودہ زبانوں میں تیس ہزار سے زیادہ گانے گائے۔ لاتعداد ایوارڈز لیے۔ ان کی آواز رنگ، مذہب اور نسل کی تفریق سے بالا تر دنیا میں انگنت دلوں پہ سدا راج کرے گی۔

Facebook Comments HS