سست آدمی کے انسانیت پر احسانات – پہلا قدم
بدقسمتی سے عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ سست انسان معاشرے پر بوجھ ہوتے ہیں۔ وہ ہر کام سے جی چراتے ہیں۔ نکھٹو ہوتے ہیں۔ کام کے نہ کاج کے، دشمن اناج کے۔ لیکن انسانی تاریخ پر گہری نظر رکھنے والے جانتے ہیں کہ آج کل ہم جو آرام دہ زندگی بسر کر رہے ہیں، وہ ان سست آدمیوں کی دین ہے جو فالتو چستیاں پھرتیاں دکھانے کی بجائے زندگی میں آسانی پیدا کرنے کی فکر میں ہر وقت غلطاں رہتے تھے۔ آج تک دنیا کی تمام دریافتیں اور ایجادات سست آدمیوں نے ہی کی ہیں اور ادھر ادھر بھاگنے پھرنے والے چست و چالاک لیکن احسان فروش انسان ان سے فائدہ اٹھا کر بھی سست آدمی کو لتاڑتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ سست آدمی کے انسانیت پر احسانات کو ضبط تحریر میں لایا جائے۔
اب معاملہ یہ ہے کہ اچھے پکے دین دار آدمی تو یہ بات جانتے ہیں کہ قادر مطلق نے زمین کو چھے ہزار برس قبل تخلیق کیا تھا اور انسان اسی وقت سیدھا جنت سے زمین پر ٹپکا تھا، مگر بدقسمتی سے سائنس اس بات کو تسلیم نہیں کرتی۔ سائنسدان اصرار کرتے ہیں کہ انسان کے اجداد کوئی چالیس پچاس لاکھ پہلے زمین پر نمودار ہوئے۔ انہوں نے پیہم محنت کی اور آخر کار وہ بندر اور انسان کو جنم دینے میں کامیاب ہو گئے۔ یوں بندر اور انسان آپس میں کزن ہیں۔ اس دعوے کو پہلی مرتبہ سن کر ممکن ہے کہ آپ مسکرائیں لیکن آپ اگر اپنے موجودہ سگے کزنوں کو غور سے دیکھیں تو آپ کو اس دعوے کو تسلیم کرنے میں زیادہ ہچکچاہٹ نہیں ہو گی۔
دوسری طرف، سائنسدان سیدھے سادے لوگوں کو کنفیوز کرنے کی خاطر ادھر ادھر زمین کھود کر الٹے سیدھے پتھر کھود نکالتے ہیں، اور انہیں فوسل کا نام دے کر دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ کروڑوں سال پرانے ہیں، اور بعض چٹانوں کے متعلق ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ چار ارب برس پرانی ہیں۔ ان سے پوچھا جائے کہ کروڑوں اربوں سال پرانا ہونے کا پتہ کیسے چلا تھا، تو دلیل کے طور پر اپنے ہی بنائے ہوئے سائنسی آلات پیش کر دیتے ہیں، جن کے غلط ہونے میں ہمیں کوئی شبہ نہیں۔ بالفرض محال وہ صحیح بھی ہوں تو شیطان نے ان فوسلز اور چٹانوں کو زمین میں دبا دیا ہو گا تاکہ انسانوں کو گمراہ کر سکے۔
یاد رہے کہ سائنسدان محض ہمیں کنفیوز کرنے کی خاطر ایک ہی بات کی وضاحت کی خاطر بہت سے مختلف نظریات پیش کر دیتے ہیں۔ ہم اپنے مضامین میں ان کا صرف وہی نظریہ قبول کر کے پیش کریں گے جو ہمارے اپنے دل کو لگتا ہے کیونکہ نفاق میں فساد ہے۔
سستو نے دو پیروں پر چلنا اور کمر کا درد دریافت کیا
کیونکہ ہماری یہ تحقیق نہایت سائنسی بنیادوں پر کی جا رہی ہے، اس لیے ہم سائنس دانوں کے دلائل اور تحقیق کو ہی استعمال کر کے ان کے سامنے درست تصویر پیش کریں گے۔ تو بات شروع کرتے ہیں آج سے چالیس پینتالیس لاکھ قبل کے زمانے سے جب آرڈی پیتھیکس ریمیڈس نامی ایک مخلوق درختوں پر رہتی تھی۔ اس مخلوق کا دماغ موجودہ انسان کے دماغ کے محض بیس فیصد کے برابر تھا۔
اس وقت ابھی اس مخلوق نے باقاعدہ بولنے اور اپنا مفہوم ایک دوسرے تک پہنچانے کی صلاحیت حاصل نہیں کی تھی۔ مگر جیسا کہ آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ زبان ہو یا نہ ہو، غبی سے غبی مخلوق کی امائیں بھی اپنے بچوں تک نہ صرف اپنا مفہوم پہنچا سکتی ہیں بلکہ انہیں خوب جھاڑ بھی سکتی ہیں۔ تو ایسا ہی معاملہ اس ریمیڈس نامی مخلوق کا تھا۔
ریمیڈس قبیلہ اپنا زیادہ وقت درختوں پر ہی گزارتا تھا۔ نیچے زمین پر اترتا تو وہ چلنے کے لیے پیروں کے ساتھ ہاتھوں کا استعمال بھی کرتا۔ مٹھی بناتا اور اسے زمین پر رکھ کر چلتا۔
تو ایک دن ایسا ہوا کہ سستو نامی ایک بچہ اپنے دیگر رشتے داروں کے ساتھ درختوں پر کھیل رہا تھا۔ کھیل ہی کھیل میں وہ پھل ایک دوسرے کی طرف اچھالتے۔ باقی بچے تو چست چالاک تھے، اچھل کود کر پھل پکڑتے اور کھا جاتے۔ سستو ایک فلسفی تھا جو دماغ بہت استعمال کرتا تھا۔ تو جب وہ دماغ استعمال کر رہا ہوتا، تو اکثر ہاتھ استعمال کرنا بھول جاتا۔ اس کی طرف پھینکا گیا پھل پھٹاک سے اس کے سر سے ٹکراتا اور درخت سے نیچے گر جاتا۔
سستو کی اماں کو پھل ضائع ہوتے دیکھ کر بہت غصہ آیا۔ اس نے غصے سے اسے گھورا اور زمین پر بکھرے سارے پھل اٹھا کر اوپر لانے کو کہا۔ سستو نہایت مجبوری کے عالم میں نیچے اترا۔ چل کر ایک پھل تک گیا، اسے ایک ہاتھ میں اٹھایا اور باقی تین ہاتھوں پیروں سے چلتا ہوا درخت کی جڑ تک آیا۔ پھر پھل واپس رکھ کر اگلے پھل کی طرف گیا۔ تین چار پھل اٹھا کر سستو بیزار ہو گیا۔ اس نے سوچا کہ کسی طریقے سے اس بیگار کو آسان کرنا چاہیے۔
وہ سوچ بچار میں غرق تھا کہ پاس سے ہی ایک مینڈک اچھلتا ہوا گزرا۔ وہ بھی سستو کی طرح اگلے دونوں کمزور سے ہاتھ زمین پر رکھتا لیکن پچھلی دونوں مضبوط ٹانگوں سے چلنے کی بجائے جمپ لگاتا۔
سستو نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھا۔ اچانک اس کے دماغ کی بتی جلی۔ اس نے سوچا کہ اگر میں ایک کی بجائے دونوں ہاتھوں میں پھل اٹھا کر مینڈک کی طرح صرف پچھلی ٹانگوں سے چلوں، تو کام آدھی محنت سے پورا ہو جائے گا۔ اس نے تین چار پھل اسی طرح مینڈک سٹائل میں چھلانگیں لگا کر درخت کی طرف پہنچائے مگر اب اس کی پچھلی ٹانگیں درد کرنے لگی تھیں۔
مارے تھکن کے اس نے چھلانگیں لگانی بند کریں اور دونوں ہاتھوں میں پھل اٹھائے مرے مرے قدموں سے چلنے لگا۔ اوپر باقی ریمیڈس بچے بھی غور سے یہ دیکھ رہے تھے۔ انہیں یہ کھیل بہت پسند آیا۔ وہ بھی نیچے اترے اور سستو کی نقل میں دو پیروں پر چلنے لگے۔ دونوں ہاتھ فارغ ہوئے تو وہ ان سے پھل اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے کو مارنے لگے۔
پھر تو یہ کھیل عام ہو گیا۔ رفتہ رفتہ جب یہ بچے بڑے ہوئے تو انہیں دو پیروں پر چلنے کی خوب مشق ہو چکی تھی۔ یوں انسانی ارتقا میں پہلا بڑا قدم اٹھا اور ریمیڈس قبیلے نے قدرے آگے جھک کر دو پیروں پر کھڑے ہو کر زمین پر چلنا شروع کر دیا۔ لیکن ایسا وہ کبھی کبھار ہی کیا کرتے کیونکہ سستو نے دو پیروں پر چلنے کے علاوہ کمر کا درد بھی دریافت کر لیا تھا جو ریڑھ کی ہڈی پر زیادہ دباؤ پڑنے سے ہوتا تھا۔
بند مٹھی سے چاروں ہاتھوں پیروں پر چلنا، درختوں پر کودنے پھاندنے کے لیے تو اچھا ہوتا ہے مگر زمین پر زیادہ فاصلے تک چلنے کے لیے دو پیر بہتر رہتے ہیں۔ یوں جو ریمیڈس زمین پر اترے وہ انسان بن گئے اور جو درخت پر رہ گئے وہ چمپینزی۔
اگر سستو اتنا سست اور کام چور نہ ہوتا تو آج بھی سارے انسان اسی طرح درختوں پر رہتے اور چاروں ہاتھ پاؤں استعمال کر کے زمین پر چلا کرتے جیسے بن مانس چلتے ہیں۔ سستو ریمیڈس انسان کا پہلا محسن تھا جس نے محض اپنی سستی کے سبب دونوں پیروں پر چلنے کا طریقہ دریافت کیا جس سے اس کے دونوں ہاتھ سر اور دیگر اعضائے رئیسہ کھجانے کے لیے آزاد ہو گئے۔ باقی جو وقت بچتا، اس میں رفتہ رفتہ ان فارغ ہاتھوں کے مزید مصرف بھی دریافت ہوتے گئے۔ ساتھ ساتھ اس مخلوق نے دفاع کا بہترین طریقہ بھی دریافت کر لیا، یعنی خطرہ دیکھتے ہی دڑکی لگا دو۔




Comments are closed.