خلیل جبران نے اپنی چہیتی محبوبہ سے شادی کیوں نہ کی؟


یہ کسی ایسے پیغمبر کی کہانی نہیں ہے جس کا صدیوں پیشتر ظہور ہوا ہو اور جس کا آسمانی کتابوں میں ذکر آیا ہو. یہ ایک ایسے پیامبر کی کہانی ہے جو 1883 میں لبنان میں پیدا ہوا تھا اور جس نے زندگی کا بیشتر حصہ امریکہ میں گزارا تھا. وہ پیامبر شاعر بھی تھا اور دانشور بھی. وہ ایک عیسائی خاندان کا چشم و چراغ تھا. اس نے نہ صرف سنتوں, سادھوؤں اور صوفیوں کی تعلیمات کو پڑھا تھا بلکہ وہ فریڈرک نیٹشے جیسے فلسفیوں سے بھی متاثر ہوا تھا. اس شاعر دانشور پیامبر کا نام خلیل جبران تھا.

اس نے اپنے نثری شہکار کا عنوان THE PROPHET رکھا. اس کی کہانی لکھنے والے ادیب روبن واٹرفیلڈ نے اس کی سوانح عمری کا نام PROPHET رکھا.

خلیل جبران کی ایک محبوبہ تھی چہیتی محبوبہ, میری ہیسکل جن سے ان کی ملاقات 1904 میں ہوئی اور ان کی دوستی اور محبت خلیل جبران کی 1931 کی موت تک قائم رہی. دلچسپی کی بات یہ ہے کہ اس طویل محبت کے باوجود انہوں نے شادی نہ کی. خلیل جبران کے بہت سے چاہنے والوں کے لیے نہ صرف میری ہیسکل سے پیار ایک راز تھا بلکہ شادی نہ کرنے کی وجہ بھی ایک راز تھی. یہ راز اس وقت فاش ہوا جب خلیل جبران کے اپنی چہیتی محبوبہ کے نام خط چھپے. ان خطوط کو ورجینیا ہیلو اور ڈالٹن ہیلو نے جب چھاپا تو اس کتاب کا نام BELOVED PROPHET رکھا.

خلیل جبران کے میری ہیسکل کے نام خطوط اور میری ہیسکل کی ڈائری کے اوراق پڑھنے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ میری ہیسکل کی محبتوں ‘عنایتوں’چاہتوں اور نوازشوں نے خلیل کو خلیل جبران بنایا اور انہوں نے میوس بن کر خلیل جبران سے ان کا شہکار THE PROPHET لکھوایا.

Mary Haskell

دونوں ایک دوسرے کی محبت میں مدتوں ڈوبے رہے لیکن انہوں نے شادی نہ کی. سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر محبت کرنے کے باوجود شادی کیوں نہ کی? میری نگاہ میں اس کی مندرجہ ذیل وجوہات تھیں.

پہلی وجہ یہ تھی کہ میری ہیسکل خلیل جبران سے چند سال بڑی تھیں.
خلیل جبران 1883 میں لبنان میں پیدا ہوئے تھے.
میری ہیسکل امریکہ میں جنوبی کیرولینا کے شہر کولمبیا میں 1873 میں پیدا ہوئی تھیں.

جب ان دونوں کی ملاقات 1904 میں ہوئی تو خلیل جبران کی عمر اکیس برس اور میری ہیسکل کی عمر اکتیس برس تھی. محبت کے آغاز میں خلیل جبران نے شادی کی خواہش کا اظہار کیا لیکن میری ہیسکل نے اس خواہش کو در خور اعتنا نہ سمجھا.

ان کی ڈائری سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے دل میں شادی کی چھپی خواہش تو موجود تھی لیکن وہ شاید سوچتی تھیں کہ ‘لوگ کیا کہیں گے’

میری ہیسکل کو یہ خطرہ اور دھڑکا بھی لگا رہتا تھا کہ اگر شادی کر بھی لی تو زیادہ عرصہ قائم نہیں رہے گی کیونکہ خلیل جبران جلد یا بدیر کسی اور جوان عورت کی زلف کا اسیر ہو جائیں گے.

میری ہیسکل نے اپنے دل کو سمجھایا کہ ایک دیر پا دوستی ایک عارضی محبت سے بہتر ہے. وہ اپنی ڈائری میں لکھتی ہیں

…feared to spoil a good friendship for a poor love affair

میری ہیسکل کی خلیل جبران سے شادی نہ کرنے کی دوسری وجہ یہ تھی کہ وہ خلیل جبران کی مالی مدد کرتی تھیں. خلیل جبران نیویارک کے جس سٹوڈیو میں studio apartment 51 west 10th street New York رہتے تھے اس کا کرایہ میری ہیسکل ادا کرتی تھیں. میری ہیسکل کے لیے بیوی بن کر کرایہ دینے سے دوست بن کر کرایہ دینا نفسیاتی طور پر آسان تھا. وہ خلیل جبران کو شوہر بنا کر اپنے احسان تلے دبانا نہیں چاہتی تھیں.

خلیل جبران وقت کے ساتھ ساتھ میری ہیسکل کے قریب سے قریب تر آتے گئے اتنے قریب کہ وہ زندگی کے ہر مسئلے میں حتیٰ کہ اپنی ذات کے بارے میں بھی ان سے مشورہ کرتے. وہ سمجھتے تھے کہ میری ہیسکل انہیں ان سے زیادہ جانتی پہچانتی اور سمجھتی ہیں. انہوں نے 1924 کے ایک خط میں لکھا تھا

You are the only one in the world who could advise me about me

خلیل جبران کی جب 1904 میں میری ہیسکل سے ملاقات ہوئی تو وہ عربی زبان میں لکھتے تھے. جب ان کی کتاب broken wings چھپی تو اس نے عرب دنیا میں ایک تہلکہ مچا دیا. بعض ناقدین کا خیال ہے کہ اس کتاب سے عرب ادب میں ایک نئے دور کا آغاز ہوا. میری ہیسکل نے اس کتاب کو انگریزی میں ترجمہ کرنے کا مشورہ دیا اور خلیل جبران کے کیے ہوئے ترجمے کو بہتر بنایا.

وقت کے ساتھ ساتھ خلیل جبران کی انگریزی زبان میں خود اعتمادی بڑھی اور انہوں نے انگریزی میں طبع زاد چیزیں لکھنی شروع کیں. میری ہیسکل کو اندازہ ہو گیا کہ خلیل جبران بہت عمدہ انگریزی لکھ سکتے ہیں. انہوں نے 1920 کی ڈائری میں لکھا

He knows more English than any of us, for he is conscious of the bony structure of the language, its solar system. And he creates English.

جب خلیل جبران کو انگریزی زبان پر مہارت ہو گئی تو انہوں نے اپنا شہکار THE PROPHET لکھنا شروع کیا اور دو سال میں مکمل کیا. میری ہیسکل نے قیمتی مشورے دیے اور دونوں نے اسے مل کر پایہ تکمیل تک پہنچایا. خلیل جبران کی کتاب لاکھوں بلکہ کروڑوں لوگوں نے پڑھی. اس کے متعدد زبانوں میں ترجمے ہوئے. وہ کتاب ان کی وفات کے نصف صدی بعد بھی حد درجہ مقبول ہے.

میری ہیسکل کی خلیل جبران سے شادی نہ کرنے کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ خلیل جبران ایک فنکار تھے. وہ اپنے سٹوڈیو میں بہت سی مہ جبینوں، نازنینوں اور پری رخوں کو دعوت دیتے تھے اور ان کے دلکش دلنشیں اور دلفریب پورٹریٹ بناتے تھے. میری ہیسکل کو پورا یقین تھا کہ اگر وہ خلیل جبران کی بیوی بن گئیں تو وہ حسد، رشک اور رقابت کی آگ میں جلنے لگیں گی اور وہ خلیل جبران کی تخلیقی آزادی میں مخل ہوں گی.

میری ہیسکل کی محبت ایک آزاد پرندے کی محبت تھی جسے وہ شادی کے پنجرے میں بند نہ کرنا چاہتی تھیں. دھیرے دھیرے میری ہیسکل کی محبت میں ماں کی مامتا بھی شامل ہونے لگی. وہ کسی حوالے سے خلیل جبران سے بیٹوں جیسا سلوک کرنے لگیں. ایک خط میں خلیل جبران نے انہیں Beloved Mary, Mother of my heart کہہ کر مخاطب کیا.

جب میری ہیسکل کو اندازہ ہو گیا کہ وہ کبھی بھی خلیل جبران کی بیوی نہیں بنیں گی اور نہ ہی بننا چاہیں گی تو انہوں نے 1926 میں فلورنس مائنس سے شادی کر لی.

شادی کے بعد بھی خلیل جبران اور میری ہیسکل کی دوستی میں کوئی فرق نہ آیا. خلیل جبران نے ساری عمر میری ہیسکل سے ہی نہیں کسی بھی عورت سے شادی نہ کی. خلیل جبران 1931 میں ‘فلورنس 1936 میں اور میری ہیسکل 1964 میں فوت ہوئے.

خلیل جبران اور میری ہیسکل کی دوستی اور محبت کئی حوالوں سے غیر روایتی تھی. ان دونوں نے ساری عمر شادی نہ کی لیکن ان کی دوستی اور محبت بہت سے شادی شدہ جوڑوں سے زیادہ پرسکون اور مثالی تھی. وہ صحیح معنوں میں ایک دوسرے کے soul mates تھے.

میری ہیسکل کی خلیل جبران کے لیے چاہت ایک سمندر کی طرح تھی لیکن وہ اس محبت کے سمندر میں رہ کر بھی کچھ تشنگی محسوس کرتی تھیں اور ان کی موت کے بعد انہیں یاد کر کے اداس ہو جاتی تھیں. ان کی محبت کی کہانی پڑھ کر مجھے اپنی ایک غزل کے چند اشعار یاد آ گئے جو حاضر خدمت ہیں

سمندر میں ہوں لیکن تشنگی محسوس کرتا ہوں
میں اپنی زندگی میں کچھ کمی محسوس کرتا ہوں
کٹھن ہیں زیست کی راہیں پہ جب وہ ساتھ ہوتی ہے
تو پھر میں حبس میں بھی تازگی محسوس کرتا ہوں
کبھی ہر عارضی کو دائمی میں سمجھا کرتا تھا
اور اب ہر دائمی کو عارضی محسوس کرتا ہوں
وہ کب کی جا چکی خالدؔ مگر میں اس کے بارے میں
کبھی سوچوں تو آنکھوں میں نمی محسوس کرتا ہوں

Facebook Comments HS

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 803 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail