آدمی سے ڈرتے ہو؟ آدمی تو تم بھی ہو آدمی تو ہم بھی ہیں


کس قدر دلچسپ بات ہے کہ ہر انسان ایک دوسرے کے لیے ایک راز سر بستہ ہے۔ جو جتنا بڑا بھید کار ہو گا وہ اسے بیچ کر اتنا ہی بڑا بنتا جائے گا۔ جو جتنا بڑا ہوتا جائے گا اسے ایک خوف کا سامنا رہے گا کہ کہیں کوئی چھوٹا، کہیں نیچے سب سے نیچے والا اوپر یعنی اس کے بھید برابر نا پہنچ جائے۔ اس لیے اس کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ نیچے والے کو دبا کر رکھے اور اتنا دبا کر رکھے کہ وہ بس مرے نہیں اور اس کے خوف پر بہترین طریقے سے قابو پانے کی سرشاری اور اس کے لیے غلاموں طرح کام کرنے اور اسے مزید سرمایہ کما کر دینے کے لیے زندہ رہے۔

ہمارے معاشرے میں انسان بس ایک ہی طبقہ کو سمجھا جاتا ہے اور وہ ہے سرمایہ دار۔

اور اس ذہین انسان نے باقی کی تمام نوع جاندار کو اپنا سر مایہ بڑھانے پر لگا رکھا ہے جس کے لیے وہ ہر حربہ اور ہر چینل ( یہاں چینل کا مطلب مختلف ٹی وی چینل بھی ضرور سمجھا جائے ) استعمال کرتا ہے جن میں سب سے اہم عوامل، جذبہ حب الوطنی، مذہب، فرقہ پرستی، مختلف موقعہ کے لئے مختلف موسمی نعرے، انقلاب کے نعرے۔

مفت آٹا، دال، چاول، چینی، کپڑا، مکان، روٹی، نوکری، گیس، پانی، بجلی اسپتال، سکول

یہ سب کچھ نعروں میں پوری طرح دیتے ہیں مگر حقیقت میں ایسا پوری طرح دینا ممکن نہیں بناتے۔ اگر وہ ایسا کریں یہ سب سہولیات فراہم کر دیں تو ان کے پاس نعروں کے لیے کچھ نہیں بچے گا۔

ہمارے ہاں سب سے نیچے کا طبقہ مزدور ہے اس طبقہ میں بہت سارے شعبہ جات ہیں مگر ہیں سب مزدوری کھاتے میں جیسے کہ جو اینٹیں بنائے یا اینٹیں ڈھوئے، کھیت میں کام کرے، بوری اٹھائے، چوکیداری کرے، مل مزدوری کرے یا ایسے بہت سے کام ہیں جنہیں کرنے والے کو ہم مزدور ہی کہیں گے کھیت میں وہ زمیندار کے نیچے کام کرتا ہے۔ زمیندار، سردار، وڈیرہ، کاروباری، مل مالک یہ سب ریاست کے اہم عہدہ داروں پر اپنا سرمایہ خرچ کر کہ اپنے سرمایہ، زمین پر اپنا قبضہ مضبوط رکھتے ہیں۔

ریاستی ادارے یا عہدے دار ان سرمایہ داروں کے ساتھ مل کر ان کے سرمایہ سے عہدے پر فائز بھی رہتے ہیں اور سرمایہ بھی کماتے ہیں اور خود کو ریاست کہلواتے ہیں۔ پھر ریاست کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں بہتر اور مضبوط رکھنے کی خاطر انہیں اپنی ریاست سے باہر دوسری ریاستوں (خود کی ریاست سے بڑی، زیادہ طاقت ور) کا سہارا چاہیے ہوتا ہے اور ایک جیسی بڑی ریاستوں کا خطے پر کنٹرول اپنے ہاتھ میں رکھنے کے لیے وہ اپنے من چاہے لوگوں کو ریاست کے بڑے اور اہم عہدوں پر رکھتے ہیں اور ان ریاستوں کی ضروریات کو پورا کرتے ہوئے ان کے عہدوں کی حفاظت کرنے میں مدد کی آڑ میں انہیں بہت کچھ بیچتے ہیں۔

اسلحہ، طاقت، ٹیکنالوجی، یعنی بھید بیچتے ہیں اور بہت سارا سرمایہ کماتے ہیں۔ ان کے بعد دنیا کی بڑی طاقتیں دنیا پر اپنا قبضہ، دنیا کے قدرتی وسائل پر قبضہ جمانے کے لیے آمنے سامنے ہوتی ہیں وہ بھی اپنے اپنے اکٹھ کرتی ہیں وہاں پر ہمارے جیسی ریاستوں کے نمائندوں کی حیثیت مزدور کی سی ہوتی ہے وہ ان بڑی ریاستوں کو مزید طاقت ور بنانے، مزید دولت اکٹھی کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ یہ کہانی یہاں ہی ختم نہیں ہوتی۔ بڑی ریاستیں، بڑی طاقتیں، دنیا پر اپنا قبضہ جمانے کے لیے آپس میں جنگ لڑتی ہیں اور پھر سب سے پہلے ایسی جنگوں میں چھوٹی ریاستوں کے معدنی وسائل جھونکے جاتے ہیں اور اس کے بعد وہاں کا سب سے نیچے کا طبقہ اور یہ تعداد کروڑوں میں ہوتی ہے

اب اتنے اختصار کے ساتھ یہ تمہید باندھنے کا مقصد یہ تھا کہ سب سے اوپر کی طاقت یعنی دنیا کی سب سے بڑی طاقت کون ہے؟

جی ہاں وہ انسان ہی ہے۔ اور سب سے نیچے سب سے کمزور کون ہے وہ بھی انسان ہی ہے۔ سب سے اوپر کے انسان او ر سب سے نیچے کے انسان کے درمیان اتنا فا صلہ کیوں ہے؟ اس فاصلے میں کیا کیا راز سر بستہ ہیں

Facebook Comments HS