جی پی اے کتنی ہے؟
دس سال سے، یعنی جس روز سے ہم حصول علم کی راہ پر نکلے ہیں یہی ایک سوال معاشرے کے ہر فرد اور گروہ کی طرف سے ہم سے پوچھا جاتا رہا کہ آپ کے نمبر کتنے ہیں؟ یہی سوال ہم سے بار بار کسی نہ کسی صورت میں دہرایا جاتا ہے۔ یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ آپ کے ہاں خوشی ہے، عقل ہے، صحت ہے، سب یہی پوچھتے ہیں کہ نمبر کتنے ہیں؟ گویا نمبروں تمام دوسری ضروریات زندگی کے نعم البدل کے طور پر مان لیے گئے۔ سکول اور کالج میں بہر حال ہم کڑوا گھونٹ سمجھ کر اس سوال کو برداشت کرتے رہے مگر ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اس کے بعد یونیورسٹی میں بھی یہ سوال صرف ایک لفظ کی تبدیلی کے بعد یعنی نمبروں کی جگہ ”جی پی اے کتنی ہے؟“ کے ساتھ ہمارے لیے جان کا عذاب بنا رہے گا۔
مجھے اور میرے بہت سے دوستوں کو اس سوال سے بڑی کوفت ہوتی ہے، مگر کیا کریں سماجی سکون کی خاطر ہم اس بات کو طرح طرح سے ٹالتے رہتے ہیں۔ بعض اوقات ایسی محافل اور سرگرمیوں میں جہاں ہمارا جانا ازحد ضروری ہوتا ہے ہم اس لئے ترک کر دیتے ہیں کہ کہیں یہی سوال ہمارے لئے وبال جان نہ بن جائے۔ خدا جانے برصغیر میں کس شخص نے یہ سوال پیدا کیا مگر جس نے بھی کیا، ہم دلائل سے یہ بات ثابت کر سکتے ہیں کہ آخرت میں اس کا ٹھکانہ ضرور دوزخ کا آخری گڑھا ہو گا کیونکہ جہاں ایک آدمی کو ذق پہنچانے کی سخت وعید ہے وہاں کروڑوں طالبعلموں کی عزت نفس کو تار تار کرنے والے کی سزا یہی ہو سکتی ہے۔
ہمارے ایک دوست ہیں جو عمر میں ہم سے بڑے ہیں اور اپنے طور پر علم کی تکمیل کر کے ایک جنرل سٹور چلاتے ہیں۔ موصوف نے سارے علمی سفر میں مجال ہے کسی کو اول آنے دیا ہو۔ سکول کالج میں نمبر اور یونیورسٹی میں جا کر ہمیشہ سب سے زیادہ جی پی اے حاصل کرنے میں انہیں خاص ملکہ حاصل رہا ہے۔ یونیورسٹی میں سونے کا تمغہ حاصل کیا گو مگر چلاتے ایک جنرل سٹور ہیں۔ یہ ہمیں بہت تنگ کرتے ہیں، رسمی سلام دعا ہی کر لو تو جان چھڑانی پڑ جاتی ہے۔
ہاتھ چھوڑتے ہی پوچھیں گے کہ جی پی اے کتنی چل رہی ہے؟ بعض اوقات یہی سوال ہم سے دن میں تین مرتبہ بھی پوچھتے ہیں۔ کیونکہ ان سے دن میں کئی مرتبہ ملاقات ہو جاتی ہے۔ دل تو یہی کرتا ہے کہ ابھی پولیس کو فون کر کے اس کو ہریسمنٹ کے پرچے میں اندر کرایا جائے اور چیخ چیخ کر دنیا کو بتایا جائے کہ جو شخص جس کے پاس نمبروں کی کمی نہیں ہے اس نے یونیورسٹی کی طرف سے دیا ہوا سونے کا تمغہ بیچ کر دکان کھولی ہے جس میں بیٹھ کر یہ سارا دن لوگوں سے چخ چخ کرتا رہتا ہے۔ مگر پھر خیال آتا ہے کہ دفع کرو ایسے ناقص العقل شخص اس دنیا کے ہر دور میں پائے جاتے رہے ہیں۔
امتحانات میں نمبروں کو ذہانت کا پیمانہ قرار دیا گیا ہے۔ اس اعتبار سے پاکستان کا شمار دنیا کے ذہین ترین قوموں میں ہوتا ہے۔ مگر بقول مستنصر حسین تارڑ ہماری سب سب سے بڑی ایجاد اب تک صرف چارپائی ہے۔ میرے ایک رشتہ دار ہیں موصوف، جن کی ایک بیٹی بارہویں جماعت کے تین سال بعد ڈاکٹری کی تعلیم کے لیے اہل قرار پائی ہے وہ مجھ سے اٹھتے بیٹھتے یہ سوال کرتے ہیں کہ جی پی اے کتنی ہے؟ مجھے کبھی کبھی لگتا ہے کہ جی پی اے میں لوں گا اور فائدہ ان کو گا، گویا ہمیں گمان ہوا کہ شاید موصوف ہمیں اپنی بیٹی کے لیے اہل اور کامیاب ہمسفر سمجھتے ہیں اور اسی لیے ہمارے مستقبل کے بارے میں فکر مند رہتے ہیں۔
یہ گمان پا کر ہم نے انہیں تسلی دی اور کہا کہ آئندہ آنے والے امتحان میں ہم آپ کو ایک اچھا نتیجہ دیں گے اور غم کے بادل ہمیشہ کے لئے چھٹ جائیں گے۔ مگر اس کے اگلے ہی روز ہمیں معلوم ہوا کہ ان کی بیٹی کا بندھن قرار پا چکا ہے۔ اب کبھی مجھ سے وہ یہی سوال کریں تو دل یہی چاہتا ہے کہ محض انہی کو زک پہنچانے کے لیے فیل ہو جانا چاہیے۔
دنیا کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے تمام عظیم لوگ پڑھائی کے معاملے میں انتہائی نالائق تھے۔ مثلاً، شیکسپیئر، شیلے، چرچل، سعادت حسن منٹو، پطرس بخاری، علامہ اقبال اور کرشن چندر وغیرہ۔ آپ ان کا تمام علمی ریکارڈ دیکھ لیں تو کبھی فرسٹ ڈویژن نہیں ملے گی۔ معلوم نہیں ان کے لئے کی کیا وجہ تھی مگر ہمارے لئے یہ وجہ بنی کہ ہمیں نصاب میں ان کو خود کو پڑھنا پڑتا ہے۔ مگر ایک بات سے ہمیں تسلی ضرور ہوتی ہے کہ کچھ اور ہو یا نہ ہو یہی ایک خصوصیت تو ہے جو عظیم لوگوں اور ہمارے درمیان قدرے مشترک ہے، اور یہ امید کر کے ہمیں فخر محسوس ہوتا ہے کہ اگر کبھی ہماری سوانح حیات لکھی گئی تو ہم بھی انہی عظیم لوگوں کی صف میں شمار ہوں گے۔



Iqbal was a genius n he ever got first division.