سر پر ہاتھ کی نئی سیاسی فلم

پاکستان کی سیاست سرد موسم میں پورے جوبن کے ساتھ گرم ہو چکی ہے اس کے درجہ حرارت میں مزید اضافے کا امکان ہے اور یہ بڑھتا ہوا درجہ حرارت مارچ کے آخر تک جاری رے گا مزید امکانات کے بارے ابھی پشین گوئی کرنا سیاست کے اس کھیل میں مناسب نہیں کیوں کہ کھلاڑی میدان میں اتر رہے ہیں یہ سب پرانے کھلاڑی ہیں اور تاش کے باون پتے اپنے پاس رکھ کر ہی کھیلتے ہیں ان کو ڈر رہتا ہے کہ نا جانے کب کوئی پتہ ہرجائی ہو جائے خاص کر ان پتوں میں جوکر پر بہت نظر رکھنی پڑتی ہے اس لیے کہ جوکر تو سیاست کو ایک کھیل کے طور پر لیتا ہے یہ زیادہ دیر کسی کو روتا نہیں دیکھ سکتا اس لیے کسی کو بھی دکھی دیکھ کر اس کو دلاسا دینے پہنچ جاتا ہے چاہے وہ اس کا بد ترین مخالف ہی کیوں نہ ہو۔
عوام ان جوکر نما چہروں کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہ ہر اہم موقع پر اپنے مخالف کو دکھی نہیں کرتے لیکن اپوزیشن کی مجبوری ہے کہ اپنے پتے پورے رکھنے کے لیے جوکر پتے کو الگ نہیں کر سکتے اور امید رکھتے ہیں کہ شاید کبھی اپنوں کا دکھ بھی بانٹ لے خیر یہ تو ضمنی باتیں تھیں اصل میں تو بالی وڈ کی طرح پاکستان کے سیاسی وڈ نے نئی فلم ریلیز کی ہے جس کا نام سر پر ہاتھ رکھا گیا اس کے لکھاری تو ایک وفاقی وزیر ہیں جنہوں نے اس کا نام میڈیا میں جاری کیا ابھی ان کا ٹریلر ہی چلا تھا کہ بقول وفاقی وزیر سے کہا گیا کہ یہ نام واپس لیں لیکن وہ ایسا کس طرح کر سکتے ہیں سر پر ہاتھ کے ٹریلر کو اتنی پذیرائی ملی کہ کوئی اپنا سر پیچھے کر رہا ہے اور کوئی سر اگے کر رہا ہے اب وہ ہاتھ کس کے سر پر ہے سب ہی تلاش کر رہے ہیں۔
جن کے بارے کہا گیا کہ ہاتھ ان کے سر پر ہے اسے اپوزیشن تسلیم نہیں کر رہی ان کا کہنا ہے کہ یہ ہاتھ عمران خان حکومت کے سر سے ہٹ چکا ہے سر پر ہاتھ کے نام سے جاری ہونے والی فلم کے لکھاری پہلے بھی اس طرح کہ کئی نام جاری کر کے اپنی سیاست کو زندہ رکھنے میں کامیاب رہے ہیں جیسا کہ اس سے قبل انہوں نے گیٹ نمبر چار کے نام سے بھی فلم کو پردہ اسکرین پر لا کر خاصی کامیابی حاصل کی اس فلم کو انہوں نے کئی بار نئے پرنٹ کے ساتھ جاری رکھا بس ان کی اس فلم میں اداکار تبدیل ہوتے رے جب بھی وفاقی وزیر کو فلم کی ریٹنگ کم ہونے کا خدشہ ہوتا ہے وہ اس میں کسی بڑے سیاست دان کا نام ڈال کر پروجیکٹر پر چلا دیتے ہیں۔
ایسے ناموں کی فلمیں پاکستان کی سیاست میں ہمیشہ ہی سپر ہٹ رہی ہیں ان کی کامیابی کی وجہ اتنی سی ہے کہ ان پر کوئی ٹیکس نہیں لگایا جاتا اور فلم پسند کرنے والے بھی مفت میں اس کے چوبیس گھنٹے شو دیکھتے ہیں۔ سر پر ہاتھ سے قبل جن ناموں پر فلم چلا کر پاکستانی سیاست میں مفادات حاصل کیے گئے ان میں مقتدر حلقے، گیٹ نمبر چار، خفیہ ہاتھ، فرشتے، خلائی مخلوق، محکمہ زراعت اور اب سر پر ہاتھ ملک کی اسکرین پر جلوہ دیکھا رہی ہے۔
ایک زمانہ تھا کہ کسی اپنے سے چھوٹے کو سر پر ہاتھ رکھ کر پیار اور ساتھ دعائیں دی جاتی تھیں بڑے گلے ملتے تھے اور ساتھ پیار بھرا جملہ بولتے تھے کہ گلے مل کر سینے میں ٹھنڈ ڈال دی ہے ان جذبوں میں خلوص اور پیار کے ایسے موتی ہوتے تھے جو پیاروں کے قریب آتے ہی ایک دھاگے میں پروئے جاتے تھے پھر وقت کا دھارا بدلا خلوص کی جگہ رسم و رواج اور پیار نے مفادات یعنی کمرشل سوچ اپنا لی اسی لیے اب یہ سب کچھ ایک فلم سا لگ رہا ہے سب اپنے مفاد کو سامنے رکھ کر ملتے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ اب سینے سے لگ کر نہ تو ٹھنڈ پڑتی ہے اور نہ ہی گرم جوشی محسوس ہوتی ہے اور ایسا ہو بھی کیسے پہلے لوگ پوری طرح گلے ملتے تھے پھر جدید دور میں ملنے کا طریقہ تبدیل ہوا اور ملتے ہوئے صرف کندھے کے ساتھ کندھے کو ملایا جانا شروع ہو گیا یہ ایک ایسا انداز ہے جس میں خلوص کا دور دور تک نام نہیں۔
بات ہو رہی تھی سر پر ہاتھ کے نام سے جاری ہونے والی فلم کی تو اس میں عوام کو احساس دلانے کی کوشش کی گئی ہے کہ آپ کے ووٹ کی کوئی قدر نہیں جو ووٹ کی عزت مانگتے ہیں وہ بھی اپنا سر اگے کرنے کو تیا ر ہیں ایسے لگ رہا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن اپنے اپنے سر پر دن اور رات کو سوتے میں بھی سر پر اپنا ہاتھ پھیر کر دیکھتے ہیں کہ وہ ہاتھ جس کا وفاقی وزیر نے ذکر کیا ہمارے سروں پر موجود ہے یا نہیں حکومت یہ دیکھتی ہے کہ سر سے ہاتھ ہٹا ہے یا نہیں اور اپوزیشن پورے سر پر ہاتھ پھیر کر دیکھتی ہے کہ اگر ہاتھ سر پر نہیں بھی آیا تو شاید چھوٹی انگلی ہی رکھ دی ہو یا ہماری چھوٹی انگلی پکڑ کر ہی منزل کے قریب کر دیا جائے حالانکہ جن کے نام سے فلم کو مارکیٹ میں زینت بنایا گیا ہے وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کہ یہ ہمارا اسکرپٹ نہیں لیکن جن کی روزی روٹی سیاست سے چل رہی ہے وہ ایسا نہ کریں تو پھر ان کی حلوائی کی دکان کیسے چلے۔
اصل بات کچھ اس طرح ہے کہ یہ سب اپنے سر پر جس ہاتھ کی تلاش میں سرگرداں ہیں ان کا ایک ہاتھ میں بید کی چھڑی اور دوسرا ہاتھ اپنے لباس کی جیب میں ہوتا ہے آسان الفاظ کو اس طرح سمجھ لیں کی دائیں ہاتھ میں نظم و ضبط کی چھڑی اور بائیں ہاتھ سے اس پر عمل درآمد کرواتے ہیں یا پھر بائیں ہاتھ کو وہ میدان میں دشمن کے خلاف استعمال کرتے ہیں جیسے عام لوگ غصے میں بولتے ہیں کہ ؛ تینوں کھبے ہاتھ دی ایسی چھڈھنی اے کہ تیریاں ست نسلاں نوں یاد رے گا، اس لیے احتیاط کریں حالات کو اس نیج پر نہ لیں جایں کہ بایاں ہاتھ کھبے کا روپ دھار لے اس لیے اب عافیت اسی میں ہے کہ سر پر ہاتھ جیسی فلموں کی نمائش کا سلسلہ بند کیا جائے اور سیاست دان عوام کے سر پر ہاتھ رکھیں ورنہ عوام اس بار اپ کی نئی فلم دیکھتے ہی ڈبہ کی آواز لگا دیں گے جو سب کے لیے باعث حیرت ہو گا ایسی فلموں کے لکھاری، ہدایت کار اور فلم ساز ہوش کے ناخن لیں اور عوام کے مسائل حل کرنے کی جانب سفر کا آغاز کریں

