تحریک عدم اعتماد کی باتیں
ہماری سیاست کے متعلق یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ ہمارے ہاں جتنی آسانی سے حکومتیں بنتی ہیں اتنی ہی آسانی سے رخصت بھی ہو جاتی ہیں۔ اب یہی دیکھ لیں سینٹ سے سٹیٹ بنک بل کی منظوری کے بعد مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے مابین لفظی گولہ باری اور حکومتی جشن جاری تھا۔ اچانک مگر میاں شہباز شریف کی دعوت پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو ان کی رہائشگاہ ماڈل ٹاؤن پہنچ گئے اور اپوزیشن کی دونوں بڑی جماعتوں کی قیادت کی اس ملاقات میں نہ صرف حکومت کے خلاف تحریک میں تیزی بلکہ وزیراعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک لانے کا فیصلہ بھی ہو گیا۔
حالانکہ گزشتہ سال اپوزیشن جماعتوں کا اتحاد پی ڈی ایم اسی وجہ سے اپنے انجام کو پہنچا تھا کیونکہ نون لیگ اور جے یو آئی سمیت اس اتحاد میں شریک تمام جماعتوں کا خیال تھا کہ لانگ مارچ کر کے اس کے اختتام پر پارلیمنٹ سے استعفے دینے سے موجودہ حکومت کو گھر بھیجا جا سکتا ہے۔ پیپلز پارٹی مگر اس بات پر مصر رہی کہ استعفوں کے بجائے ان ہاؤس تبدیلی کی کوشش کرنی چاہیے۔ پیپلز پارٹی استعفوں سے اس وجہ سے ہچکچا رہی تھی کیونکہ اسے یقین تھا کہ نئے انتخابات کی صورت بھی اسے موجودہ حصے سے زیادہ نہیں ملنا لہذا اس نے رسک لینے سے انکار کر دیا۔
اس وقت ان ہاؤس تبدیلی کی تجویز پر دیگر اپوزیشن جماعتیں اس لیے متفق نہیں ہوئیں کیونکہ ان کا موقف تھا کہ جب تک حکومت کے سر پر غیبی ہاتھ موجود ہے اس قسم کی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اس کے بعد پارلیمنٹ میں کئی مواقع پر حکومت کی جانب سے پاس کرائے گئے قوانین سے یہ ثابت بھی ہو گیا کہ مسلم لیگ نون اور مولانا فضل الرحمن کا خیال درست تھا۔ اب مگر اچانک حکومتی حلیف ق لیگ اور متحدہ قومی موومنٹ کی اپوزیشن سے ملاقاتوں میں حکومتی کارکردگی سے متعلق تحفظات کے اظہار اور جہانگیر ترین کی شہباز شریف سے ممکنہ ملاقات کی خبروں کے بعد تاثر پیدا ہو رہا ہے کہ شاید حکومت کے سر سے ہاتھ اٹھ گیا ہے اپوزیشن کو کہیں سے گرین سگنل ملا ہے۔
یہ تاثر اس لیے پیدا ہو رہا ہے کیونکہ ہر کوئی جانتا ہے کہ ق لیگ اور ایم کیو ایم محض حکومتی کارکردگی کی بنیاد پر شکوے شکایات اس وقت نہیں کرتیں جب تک ان کی ڈوریں کہیں اور سے نہ ہلائی جائیں۔ یہ ڈور جن ہاتھوں میں ہے ان کی نشاندہی کئی بار سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کر چکے ہیں کہ اسی لیے ان کا موقف رہا ہے کہ تحریک عدم اعتماد آسانی سے کامیاب نہیں ہو سکتی۔ چند روز قبل میری شاہد خاقان عباسی سے مختصر ملاقات ہوئی میں نے ان سے یہی سوال کیا کہ آپ فرماتے تھے کہ غیبی ہاتھ جب تک حکومت کے سر پر ہیں عدم اعتماد یا اس طرح کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہو سکتی۔
کیا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ اب وہ غیبی ہاتھ حکومت کے سر سے اٹھ چکا ہے یا کسی اشارے پر یہ معرکہ سر کرنے نکلے ہیں۔ اس سوال کے جواب میں انہوں نے یہ تو نہیں بتایا کہ حکومت کے سر پر دست شفقت اب تک برقرار ہے یا نہیں تاہم انہوں نے دو ٹوک انداز میں ایک بار پھر یہ ضرور کہا کہ وہ سمجھتے ہیں اشاروں کی سیاست نہیں ہونی چاہیے کیونکہ اس سیاست کا کوئی فائدہ آج تک ہوا ہے نا ہی آئندہ ہو گا۔ شاہد خاقان عباسی بھلے آدمی ہیں کھل کر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہیں اور ان کی دیانت پر شبہ نہیں کیا جا سکتا۔ اللہ کرے لیکن ان کی قیادت کی سوچ بھی اسی طرح پختہ ہو چکی ہو اور واقعتاً اسٹیبلشمنٹ کی مداخلت کے بجائے وہ اپنے زور بازو پر یہ معرکہ لڑ رہی ہو۔
بالفرض یہ تسلیم کر لیتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ واقعتاً اپنے حالیہ تجربے کی ناکامی کے بعد سیاسی مداخلت سے باز آ چکی ہے اور اپوزیشن کے لیے اس حکومت کو چلتا کرنا اس لیے ضروری ہے کیونکہ اس وقت ملک میں مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہے اور غریب عوام کے لیے زندگی گزارنا اجیرن ہو چکا ہے۔ اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت سے آنے والے دنوں میں بھی بہتری کی امید نہیں۔ کیونکہ حکومت کی نیت اس دن ہی واضح ہو گئی تھی جب اپوزیشن نے اس کی طرف دست تعاون بڑھایا لیکن بدلے میں اسے چوروں ڈاکوؤں کی جانب سے این آر اور کے حصول کی کوشش کے طعنے دیے گئے۔
حکومت اگر ملک و قوم کی خدمت میں سنجیدہ ہوتی تو اپوزیشن نے جب وزیراعظم کی جانب تعاون کا ہاتھ بڑھایا تھا اور کسی بات پر نہ سہی کم از کم معیشت پر ہی وہ میثاق کر لیتی۔ خود حکمراں جماعت کے ہمدرد سنجیدہ لوگ بھی دہائیاں دیتے رہے معیشت سیاسی عدم استحکام اور محاذ آرائی کے ماحول میں بہتر نہیں ہو سکتی لیکن وزیراعظم اور ان کے وزراء اشتعال انگیزی سے باز نہیں آئے۔ لہذا اس متعلق اب کوئی ابہام نہیں رہا کہ حکمراں جماعت محاذ آرائی میں کمی کبھی آنے بھی نہیں دے گی کیونکہ وہ سمجھتی ہے اس کی بقا ہی کشیدگی میں مضمر ہے۔ جس حکومت کے وزراء انتخابات سر پر کھڑے ہونے کے باوجود کارکردگی دکھانے بیان کرنے کے بجائے مخالفین پر گند اچھالنے میں مصروف ہوں اس کوئی توقع رکھنا عقلمندی نہیں۔
موجودہ حکومت رخصت کرنے کے بعد جو بھی فارمولا بنا ملکی مسائل فوراً حل ہوں گے نہ ہی پلک جھپکتے عوامی مشکلات میں کمی آئے گی۔ کیونکہ جو بھی سیٹ اپ قائم ہوا، آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ اسے ہر صورت مکمل کرنا پڑے گا۔ کوئی بھی حکومت آ جائے زمینی حقیقت یہ ہے کہ ریاست پاکستان عالمی مالیاتی ادارے کی خواہشات سے روگردانی کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ ہمارے سامنے کی مثال ہے کہ منصب سنبھالتے ہی موجودہ وزیر خزانہ شوکت ترین نے آئی ایم ایف کی سخت شرائط کو تنقید کا نشانہ بنا کر اسے سالانہ قومی بجٹ کا حصہ نہ بنانے کا اعلان کیا تھا۔
بعد ازاں مگر انہی شوکت ترین کو ناک سے لکیریں لگا کر نہ صرف منی بجٹ لانا پڑا بلکہ ٹیکسوں کی چھوٹ بھی ختم کرنی پڑی۔ ہاں آئندہ سیاسی منظر نامے کا انحصار تشکیل پانے والے فارمولے پر ہو گا۔ خبریں آ رہی ہیں کہ پیپلز پارٹی تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد اسی پارلیمنٹ کو عبوری بندوبست کے ذریعے مقررہ مدت تک چلانا چاہتی ہے اور نون لیگ کے مفاہمت پسند لوگ بھی اس بات کے حامی ہیں۔ میرے خیال میں موجودہ معاشی حالات کے تناظر میں نون لیگ کے مفاد میں یہ صورتحال نقصان دہ ہوگی اور کسی عبوری سیٹ اپ کے زیادہ عرصہ چلنے کی صورت میں تحریک انصاف اپنی ناکامی عوام کے ذہنوں سے محو کرنے اور خود کو سیاسی شہید کی صورت متعارف کرانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لہذا غالب امکان یہی ہے کہ میاں نواز شریف موجودہ حکومت کے خاتمے کے فوراً بعد نئے انتخابات پر مصر ہوں گے۔


