خیالات کا گونگا پن


احساسات کی موجودگی اس وقت تک بار گراں نہیں، جب تک وہ اپنے ہونے کا احساس دلاتے ہوئے چیختے چنگھاڑتے رہیں، اشکوں سے بہتے اور الفاظ سے اظہار پاتے رہتے ہیں، لیکن اذیت تو یہ ہے کہ جب احساسات مسلسل ماحول اور حالات کی بے قدری سے دل، دماغ حتیٰ کے روح میں اتر کر بھی آہستہ آہستہ خاموش ہوتے چلے جائیں۔ ان کی خاموشی خیالات کو بھی گونگا پن سونپ دیتی ہے، اور خیالات کا گونگا پن، اظہار کے گونگے پن سے بھی زیادہ اذیت ناک ہوتا ہے۔

بیک وقت خیالات و احساسات کی عدم موجودگی روح کو خالی پن سے آراستہ کر دیتی ہے۔ زندگی ٹھہرے پانی کی طرح محسوس ہوتی ہے۔ نہ وقت کا احساس رہتا ہے نہ ہی کوئی حرکت۔ انسان خود کو کسی میجک بال میں مقید پاتا ہے، جس کا سحر اسے ہر قسم کے تصورات و جذبات سے عاری کر دیتا ہے۔ وہ تیز رفتاری سے اسی میجک بال میں قید آگے بڑھتا چلا جاتا ہے، لیکن کیسے جا رہا ہے، کیوں جا رہا ہے اسے اس سے غرض نہیں۔

تیز رفتار مشینی دور کی ایک کارستانی یہ بھی ہے کہ اس نے انسان کی سوچ کو بے دست و پا بنا کے رکھ دیا ہے، جذبات جو انسانی فطرت کا جز لاینفک ہیں، انھیں دل کے تہہ خانے میں دفن کر کے ان پہ حالات و ضروریات کی ان گنت تہیں رکھ دی ہیں۔ مختصر الفاظ میں، انسان کو انسان سے روبوٹ میں تبدیل کر دیا ہے، لیکن انسان انسان ہی رہے گا روبوٹ نہیں۔ جذبات و خیالات کی عدم موجودگی میں، اس کے من کے اجڑے نگر میں خالی پن کا رقص جاری ہو جاتا ہے۔

وہ لاکھ چاہے، لیکن من خالی پن کی اذیت نہیں جھیل پاتا۔ اس خالی پن کو پر کرنے کے لیے اس کی روح سراپا طلب گار بن جاتی ہے۔ روح کو دل اور دماغ کی طرح سمجھوتا کرنا نہیں آتا۔ وہ خالی پن نہیں جھیل سکتی۔ جب تک انسان کے بدن میں روح موجود ہے، وہ روبوٹ میں ڈھل نہیں سکتا۔ احساسات کے عدم توازن کے باعث وہ وحشی بن جاتا ہے، حیوانی خصلتیں پا لیتا ہے، لیکن خود کو خالی مشین نہیں بنا پاتا۔ موجودہ ماحول نہ انسان کے خیالات کو پنپنے دیتا ہے، نہ ہی اسے اپنی نشو و نما کا موقع دیتا ہے۔ نتیجتاً جو انسان سامنے آتا ہے وہ یا تو روبوٹ اور انسان کے درمیان لٹکتی ہوئی کوئی بے حس مخلوق ہوتی ہے، یا پھر حیوانات اور درندوں کے نقش قدم پہ چلنے والی انسان نما بے لگام مخلوق۔

ہم آج کے انسان دائمی قید کا شکار ہیں۔ ایک ایسی قید جو ضرورت، خواہش کی خوبصورت بیڑیاں لیے ہمارے لیے اس طرح خوشنما بن کر سامنے آتی ہے کہ ہمیں اپنے قیدی پن کا احساس تک نہیں ہوتا۔ اس قید میں ہماری روح بے بس قیدی پرندے کی طرح پھڑپھڑاتی ہے، تڑپتی ہے، اپنی کسی انجان طلب کو محسوس کرتی ہے، مگر رہائی نہیں پا سکتی۔ ہم وجود کے باوجود غیر موجود ہیں۔ آسودگی پا کر بھی ناآسودہ ہیں کہ یہی قیدیوں کا مقدر ہے۔

Facebook Comments HS