مجھ سے دوستی کر لو والے پاپا کے گڈے


سوشل میڈیا کی اہمیت اور افادیت سے آج کے دور میں کون واقف نہیں؟ جہاں اس نے بہت سے لوگوں کو اپنے فن کے اظہار کے لئے ایک پلیٹ فارم مہیا کیا ہے۔

سیاسی معاشی اور معاشرتی مسائل کی نشاندہی اور پھر اس کے حل تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ رائے کے اظہار کی آزادی دی ہے وہاں مردوں کی کچھ خاص قسمیں اس پلیٹ فارم پر وافر مقدار میں پائی جاتی ہیں (جس کا مجھے ایمان کی حد تک یقین ہے ) پاکستان میں ان کی تعداد باقی ممالک کی نسبت خطرناک حد تک زیادہ ہی دیکھنے کو ملتی ہے۔ جن کا مقصد حیات صرف لڑکی کے ساتھ کسی بھی قیمت پر دوستی کرنا ہوتا۔

ان میں پاپا کی پرنسز، پیاسی ناگن، خوابوں کی ملکہ نامی فیک آئی ڈیز کے پیچھے لڑکوں کی موجودگی کے بارے میں کون واقف نہیں؟ ایسے لڑکے اپنے اندر کی عورت کی تسکین کے لیے فیک آئی ڈیز بنا کے مردوں سے دوستی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں تو کبھی لڑکی بن کر دوسری لڑکیوں کو اپنے اوپر ہونے والے ظلم کی داستان سنا کر توجہ بٹورنے والے۔

کچھ کے لئے یہ ایک انٹرٹینمنٹ ہے تو کچھ کے لیے لڑکی بن کر مردوں کو لوٹنے کا باقاعدہ ذریعہ معاش۔

اس سب میں مردوں کی ایک انتہائی بیچاری قسم بھی دیکھنے کو ملی ہے جنہیں پاپا کے گڈے کہنا قطعی غلط نہ ہو گا

یہ پاپا کے گڈوں کی حرکتیں گدھوں سے بھی قدرے گئی گزری ہیں۔ یہ مرد نما مخلوقات اجتماعی طور پر کینسر کے مریض ہونے کے دعویدار ہیں۔ ان کا طریقہ واردات یہ ہے کہ ان باکس میں آتے ہی سب سے پہلے اپنی بیماری کے بارے میں بتاتے ہیں کہ میں کینسر کا مریض ہوں کچھ دن بات کرلو پھر تو میں نے مر ہی جانا ہے۔

انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اس حالت میں بھی موت کے خوف کے بجائے عورت پر لائن مارنے کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ قبر میں ٹانگیں لٹکا کر گناہ بخشوانے کے وقت پر انہیں ٹھرک جھاڑنے کی سوج رہی ہے دوسری قسم کے گڈے ناکام عاشق ہیں۔

عورت سے دوستی کے لیے یہ لائن انباکس میں پھینکتے ہیں کہ میری بیوی مر گئی ہے تمہاری ہم نام تھی تمہاری آئی ڈی کھول کر دیکھا تو یوں لگا جیسے اس کی خوشبو محسوس ہو رہی ہے پلیز مجھ سے دوستی سے انکار نہ کرنا آگے ہی بہت دل برداشتہ ہوں اب کے ٹھکرائے جانے کا درد سہنے کی قوت نہیں رکھتا دوسری طرف بیٹھی ہوئی عورت اس ڈھٹائی پر حیرت میں مبتلا ہو جاتی ہے کہ اسے اپنانے کا دعوی کس وقت کیا گیا تھا جو ٹھکرائے جانے پر مر جانے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔

ان میں انوکھی قسم کے سرف کھانے کے دعویدار گڈوں کی تعداد میں بھی تیزی سے اضافہ ہوتا جا رہا ہے جن کا طریقہ واردات یہ ہے کہ مجھ سے دوستی کر لو ورنہ میں سرف کھا لوں گا ایسے مردوں کے میسیج پر رپلائی نہ کرنے کی صورت میں ان کے دوستوں کی طرف سے میسج موصول ہونے لگ جاتے ہیں کہ ہمارا دوست سرف کھا کر مر گیا ہوں قتل کا مقدمہ اب تم پر چلائیں گے ایسے ہر میسج کو پڑھنے کے بعد عورت یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتی ہے کہ اگر اس لڑکے نے سرف کھا بھی لیا ہے تو یہ خود کشی ہے اسے قتل کے زمرے میں کیسے لایا جا سکتا ہے اور اس لڑکی پر اس کا مقدمہ کیسے چلایا جاسکتا ہے جو اس سے بات کرنے میں ہی دلچسپی نہیں رکھتی تھی؟

پھر ایسے مرد بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جو اس دھمکی کے ساتھ میسج کرتے ہیں کہ اگر تم نے میرے میسج کا جواب نہ دیا تو میں اپنی نبض کاٹ لوں گا اور پانچ منٹ بعد کٹی کلائی کی تصویریں موصول ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور وہ ایسی خاص تصویریں ہوتی ہیں جو پہلے ہی پچاس آئی ڈیز سے لڑکی کو موصول ہو چکی ہوتی ہیں۔ اس کام کو انجام دینے کے لیے گوگل والی سرکار کی خدمات لی جاتی ہیں سستی اور کاہلی کا یہ عالم ہے تھوڑی محنت کر کے بہن کی نیل پالش سے نشان بنا کر تصویر بنانے والی مشقت کرنے سے بھی پرہیز کیا جاتا ہے۔

مردوں کی یہ قسمیں عمر، حیثیت اور رتبے کے امتیاز کے بغیر یہ کارنامے سر انجام دینے میں مصروف ہیں۔

یہ بیماری فیس بکی شاعروں اور ادیبوں میں بھی تیزی سے پھیلتی نظر آ رہی ہے۔ ان کی ہر بات کا آغاز نوجوان شاعرہ کے وٹس ایپ نمبر مانگنے سے شروع ہوتا ہے اور زندگی کے ہر مسئلے کا حل اس نمبر کے مل جانے سے ہی مشروط نظر آتا ہے۔ ان کا طریقہ واردات نہایت مہذب اور ادبی ہے جیسے آپ اپنا واٹس اپ نمبر دے دیں میں آپ کو عروض کے گروپ میں ایڈ کرنا چاہتا ہوں، آپ اپنا واٹس ایپ نمبر دے دیں آپ کے شعروں کی اصلاح کرنا چاہتا ہوں۔

آپ اپنا واٹس اپ نمبر دے دیں شاعروں کے مسینجر ان کے دوستوں نے ہیک کیے ہوتے ہیں یہاں بات کرنا خطرے سے خالی نہیں عورت ابھی انہی باتوں پر سر پکڑ کے بیٹھی ہوتی ہے کہ ان باکس میں موجود ایک صاحب کا میسج اس طرح سے موصول ہوتا ہے کہ میرے موبائل کا ڈیٹا پیکج صرف واٹس ایپ کا ہے کئی دنوں سے آپ کو میسج کرنے کے چکر میں میسنجر پر روزانہ پیسے کٹ رہے ہیں مجھ غریب پر رحم کریں اور اپنا واٹس ایپ نمبر دے دیں۔ لڑکی کے لیے دنیا کو آگ لگا دینے کے دعویدار، چاند تارے توڑے کر لا دینے کی قسمیں کھانے والے کچھ دن بعد اس بات پر رونا رو رہے ہوتے ہیں کہ ان کا پیکج ختم ہو گیا ہے جو کہ انہوں نے اپنے دوست سے ادھار لے کر کروایا تھا اور اس مشکل وقت میں لڑکی کا اس کو پیکج کروا کر دینا کس قدر ضروری اور فیس بکی کی محبت ثابت کرنے کا اہم موقع ہے۔

ان سب میں غیرت مند گڈے بھی موجود ہیں جو خود ہی میسج کرتے ہیں میسج کا جواب نہ دینے پر ناراض ہو کر خود ہی بلاک کر کے چلے جاتے ہیں اور بلاک کرنے سے پہلے میسنجر پر ایسی ایسی خطرناک بد دعائیں لکھ کر بھیجتے ہیں کے محلے کی پھپھے کٹنی عورتیں بھی ان کے آگے پانی بھرتی نظر آتی ہیں۔

ہمارا ملک جہاں مرد کے لیے۔ عورت سے دوستی کی خواہش اتنی شدت اختیار کرتی چلی جا رہی ہے اس کی آخر کار وجہ کیا ہے؟ اخلاقی بے راہ روی کا شکار صرف نوجوان لڑکے ہی نہیں تمام عمر کے مرد اس کھیل کو کھیلتے اور لطف لیتے ہوئے نظر آرہے ہیں اس کی وجہ جو بھی ہے ہر پاکستانی خاتون کے ان باکس میں ایسے مردوں کا ڈھیر لگا نظر آتا ہے ایسے مرد قابل نفرت ہیں یا قابل رحم اس گتھی کو سلجھانے میں نہ جانے مزید کتنا وقت لگ جائے۔

Facebook Comments HS