ایسے دستور کو میں نہیں مانتا


جب کوئی بات یا خبر سامعین کی توجہ خلاف معمول زیادہ کھینچ لیں، یا انھیں چند ثانیوں کے لیے ورطہ حیرت میں ڈال دیں اور یا کسی حد تک فساد و انتشار کا باعث بنیں، تو ایسی بات یا خبر کو اردو لغت کی رو سے افواہ، پروپیگنڈا یا شوشہ کہتے ہیں۔ دراصل شوشے کو بن سوچے سمجھے نہیں بلکہ انتہائی عیاری اور منصوبہ بندی کے ساتھ چھوڑا جاتا ہے۔ کبھی کبھار شوشہ لوگوں کو ٹرک کی بتی کے پیچھے لگا کر زمینی حقائق سے توجہ ہٹانے کے لیے بھی تخلیق کیا جاتا ہے۔

جب کہ بسا اوقات یہ واقعی مستقل قریب میں رونما ہونے والے واقعے کا پیش خیمہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ وطن عزیز کے معرض وجود میں آنے سے اب تک معمول کی خبریں، جیسا کہ روز بہ روز بڑھتی مہنگائی، رعایا کی پستی، ارباب اختیار کی موج و مستی، روپے کی بے قدری، ڈالر کی بلندی، مذہبی انتہا پسندی، اسٹیبلش منٹ کی سیاست میں دخل اندازی، جمہوری رویوں کا فقدان اور معیشت کی زبوں حالی نہ صرف تسلسل سے سنتے آرہے ہیں بلکہ اب تو ان حالات کے ساتھ نظریہ مجبوری کے تحت سمجھوتا کر کے جینے کا سلیقہ بھی ڈھونڈ لیا ہے۔

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

چند دن پہلے سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے ذریعے صدارتی نظام کا ایک دل فریب شوشہ چھوڑا گیا۔ کس نے چھوڑا اور کیوں چھوڑا؟ یہ سب باتیں قبل از وقت صحیح، مگر ناقابل ادراک ہر گز نہیں۔ فیس بکی دانش وروں نے یہ شوشہ ہاتھوں ہاتھ لیا اور انھیں بحث مباحثے کا نیا موقع مل گیا۔ یہ شوشہ سوشل میڈیا سے پرچون دکانوں، قہوہ خانوں، ہوٹلوں اور حجام گھروں کی زینت بنتا ہوا پارلیمنٹ کی راہداریوں تک جا پہنچا۔ پہلے پہل شوشہ بازوں نے لوگوں کی رائے جاننے کے لیے صرف صدارتی نظام کا شوشہ چھوڑا۔ جب حسب توقع اس شوشے کو پذیرائی نہ ملی تو نہایت مکاری کے ساتھ ایک مقدس سابقے کے اضافے کے ساتھ ”اسلامی صدارتی نظام“ کا شوشہ چھوڑ اگیا۔ توبہ توبہ! اسلام کے نام پر ہماری جان و مال اور اہل و عیال سب قربان ہیں۔

اب اسلامی صدارتی نظام کی یہ گرما گرم خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی ہے۔ صدارتی نظام کے مخالفوں اور حامیوں کے درمیان خوب بحث جڑ پکڑ چکی ہے۔ حامیان شوشہ صدارتی نظام کو آئین نو اور سرخ انقلاب کا پیش خیمہ تصور کرتے ہیں، جب کہ شوشہ مخالف گروہ ماضی کی چند تلخ یادیں بہ طور مثال دے کر اسے طرز کہن پہ اڑنے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ آخر کار یہ لاحاصل بحث گالم گلوچ اور طوفان بد تمیزی کی نذر ہو جاتی ہے۔ سیاسی رواداری عنقا ہو چکی ہے۔

لوگ نظریاتی اختلاف کے بجائے وجودی اختلاف پر اتر آتے ہیں اور ایک دوسرے پر اپنی رائے بالجبر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حقیقت میں شوشے عوامی اجتماعات اور میڈیا پر آپس میں باہم دست و گریباں ہونے اور ایک دوسرے کو گالیاں دینے سے رفع دفع نہیں ہو جایا کرتے بلکہ ایک اور نئے شوشے کی تخلیق سے پرانا شوشہ خود بخود پس منظر میں چلا جاتا ہے ۔ شوشہ چھوڑنے کے لیے کسی سند یا مجاز اتھارٹی کی ضرورت نہیں، بلکہ شاطر دماغ، مناسب وقت اور محل وقوع کا تعین از حد ضروری ہے۔ اگر آپ کا چھوڑا ہوا شوشہ صحیح ثابت ہوا تو آپ فاتح اور عصر حاضر کا عظیم دانش ور ہوں گے۔ بہ صورت دیگر، اپنے دفاع کے لیے ڈھٹائی کا مظاہرہ کرنا، اچھا سوری کہنا، فقرہ بازی کرنا اور بیت بازی یا شعر سازی وغیرہ سے بھی لوگوں کی زبان بندی ہو سکتی ہے۔

ایسا ہوتا ہے ایسے کاموں میں

دریں اثناء تمام خود ساختہ دانش ور ایک دوسرے پر سبقت لینے کے لیے طرح طرح کی تاویلیں پیش کرتے ہیں۔ صدارتی نظام کے مخالفین یہ دلیل پیش کر کے اس نظام کو رد کر دیتے ہیں کہ یہ نظام آزمودہ ہے اور اس کی وجہ سے وطن عزیز پہلے ہی دو لخت ہو چکا ہے، اور موجودہ جمہوری پارلیمانی نظام ملکی بقا کے لیے موزوں ہے۔ دوسری طرف صدارتی نظام کے حامی امریکہ، روس، چین، سنگاپور اور اس طرح کے دیگر ممالک کی ترقی کی مثالیں دیتے ہیں۔

راقم الحروف اس نظام کے حامیوں اور مخالفین کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرتے ہوئے یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ وطن عزیز میں از آدم تا ایں دم حقیقی پارلیمانی نظام اور نہ ہی حقیقی صدارتی نظام کا خواب شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے۔ ہمارے صدارتی نظام کی بنیاد کبھی بھی امریکہ، روس، فرانس اور جاپان وغیرہ کی طرح جمہوری رویوں پر استوار نہیں رہی ہے، بلکہ پاکستان میں یہ نظام چور دروازے سے اقتدار پر قبضے کے لیے وجود میں آئی۔

مٹھی بھر چند قوتوں نے صرف اپنے اقتدار کو طول دینے کی غرض سے صدارتی نظام کا چورن بیچا، اور یوں یہ نظام پاکستان میں عبث بدنام ہو گیا۔ یہاں یہ خام خیالی بھی دور کرنے کی ضرورت ہے کہ دنیا کے اکثر ممالک میں نافذ صدارتی نظام کے مقابلے میں ہمارے نظام کو ہم جمہوری صدارتی نظام نہیں بلکہ مطلق العنان حکومت یا آمرانہ صدارتی نظام ہی کہہ سکتے ہیں اور موجودہ جمہوری پارلیمانی نظام کو بھی دراصل وہ کامیاب اور حقیقی جمہوری نظام نہیں کہہ سکتے۔

زندگی جن کے تصور میں لٹا دی ہم نے۔

بقول حسن نثار، اس موجودہ پارلیمانی اور استحصال زدہ نظام کو تیزاب سے غسل دینے کی اشد ضرورت ہے۔ آئندہ جو بھی نظام جس روپ اور لبادے میں لانا ہو وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھے چند ارباب اختیار کی سرگوشیوں کا نتیجہ ہر گز نہ ہو بلکہ عوام الناس کی آرزوؤں اور امنگوں کی ترجمانی کا نتیجہ ہو۔ سیاسی نظام جو بھی ہو اور اس کا نام کتنا بھی دل فریب اور خوش گن کیوں نہ ہو، مگر نظام ایسا ہو جس میں قانون اور انصاف کا بول بالا ہو، طبقاتی تفریق کا خاتمہ ہو، اظہار رائے پر قدغن نہ ہو، مرد و زن سب کو یکساں حقوق حاصل ہوں، وسائل کی تمام اکائیوں میں مساوی تقسیم ہو، اقلیتوں کو مذہبی آزادی حاصل ہو، صوبوں کے درمیان قومیت، نسل اور لسانی خلیج کا خاتمہ ہو، غربت، مہنگائی اور کرپشن کا جن بے لگام نہ ہو، سیاستدان آدم خور نہیں آدم دوست ہو، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی ضروریات دہلیز پر میسر ہونے کے ساتھ ساتھ مذہبی انتہا پسندی، اقربا پروری، قتل و غارت اور فرقہ پرستی کا کوئی وجود نہ ہو۔ صرف امن امان اور بھائی چارہ ہو۔ ہمیں بس ایک ایسا ہی نظام اور دستور چاہیے خواہ وہ نظام پارلیمانی ہو، صدارتی ہو یا کچھ اور۔ ورنہ بقول شاعر انقلاب!

دیپ جس کا محلات ہی میں جلے
چند لوگوں کی خوشیوں کو لے کر چلے
وہ جو سائے میں ہر مصلحت کے پلے
ایسے دستور کو صبح بے نور کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا
میں بھی خائف نہیں تختہ دار سے
میں بھی منصور ہوں کہہ دو اغیار سے
کیوں ڈراتے ہو زنداں کی دیوار سے
ظلم کی بات کو جہل کی رات کو
میں نہیں مانتا میں نہیں جانتا

اپنے کالم کا اختتام شاعر انقلاب کی شہرہ آفاق نظم ”دستور“ کے اشعار پر کرنے کا مقصد حبیب جالب کی ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ کیوں کہ چند دن پہلے اینکر پرسن آفتاب اقبال نے حبیب جالب کو بہ طور شاعر تسلیم نہ کرنے کا بچگانہ شوشہ چھوڑا تھا۔ جو شاعر سماج کے پسے ہوئے محروم طبقے کی نمائندگی کرتا ہو اور عوام کے دلوں پر راج کرتا ہو تو اس کے لیے کسی خود ساختہ دانش ور سے سرٹیفکیٹ لینے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اور طاہرہ حبیب جالب سے بھی بصد احترام ایک عرض ہے کہ مٹھی بھر عناصر کی خاک بازی سے چاند پر خاک نہیں پڑتی؛ اور نہ یہ کوئی موروثی یا سیاسی لڑائی ہے۔ حبیب جالب عوام کی ملکیت ہے اور عوام نے سوشل میڈیا کے ذریعے آفتاب اقبال کو اپنی اوقات یاد دلاتے ہوئے اپنے محسن کا خوب دفاع کیا ہے۔ اس لیے اب آفتاب اقبال کے خلاف دھرنے، جلسے جلوس یا قانونی چارہ جوئی کرنے کے بجائے خاموشی میں عافیت ہے کہ شوشے خاموشی ہی اختیار کرنے سے پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments